پاکستان: پندرہ برسوں میں 106 صحافیوں، میڈیا کارکنوں کا قتل | حالات حاضرہ | DW | 03.05.2016
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: پندرہ برسوں میں 106 صحافیوں، میڈیا کارکنوں کا قتل

اکیسویں صدی کے پہلے پندرہ برسوں میں جہاں پاکستان میں پرتشدد کارروائیوں اور دہشت گردی میں بالعموم بہت اضافہ ہوا ہے، وہیں پر پاکستان کا پھلتا پھولتا، شور مچاتا میڈیا بالخصوص اس تشدد کے ہدف کے طور پر ابھرا ہے۔

پچھلے ایک عشرے سے پاکستان کا شمار صحافیوں کے لیے دنیا کے خطرناک ترین ممالک میں ہوتا ہے۔ پاکستان میں اظہار رائے کی آزادی، اطلاعات تک رسائی اور صحافیوں کے تحفظ کے لیے سرگرم ایک غیر سرکاری ادارے فریڈم نیٹ ورک کے مطابق جنوری سن دو ہزار سے لے کر آج تین مئی، دو ہزار سولہ تک اس جنوبی ایشیائی ملک میں کل ایک سو چھ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں کو قتل کا جا چکا ہے۔

آج تین مئی کے روز منائے جانے والے آزادی صحافت کے عالمی دن کے موقع پر پاکستان میں پریس فریڈم سے متعلق تازہ ترین اعداد وشمار جاری کرتے ہوئے فریڈم نیٹ ورک کی طرف سے بتایا گیا کہ پچھلے پندرہ برسوں میں پاکستان میں جتنے بھی صحافی اور میڈیا کارکن قتل ہوئے، ان میں سے چوبیس کو صوبہ بلوچستان میں، چھبیس کو خیبر پختونخوا میں، چودہ کو پنجاب میں، ستائیس کو سندھ میں اور بارہ کو پاکستانی قبائلی علاقوں میں موت کے گھاٹ اتارا گیا۔

Hamid Mir Pakistan

حامد میر نے ڈوئچے ویلے کو مزید بتایا کہ میر شکیل الرحمان جیسے سینیئر صحافی پر ایک ہی کیس میں ایک سو پینتیس ایف آئی آرز پورے پاکستان میں درج ہو چکی ہیں، حالانکہ قانون کے مطابق ایک کیس پر صرف ایک ہی ایف آئی آر کٹتی ہے

یہی نہیں بلکہ اسی عرصے کے دوران وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں بھی تین صحافیوں کو قتل کر دیا گیا۔ فریڈم نیٹ ورک کے مطابق ان ایک سو چھ صحافیوں اور میڈیا کارکنوں میں سے کم ازکم بہتر پاکستانی صحافی ایسے تھے، جو ٹارگٹ کلنگ کا نشانہ بنے اور انہیں سر میں گولیاں مار کر ہلاک کیا گیا۔

پاکستان کولیشن برائے میڈیا سیفٹی کے نیشنل کوآرڈینیٹر اقبال خٹک نے اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی انٹرویو میں بتایا کہ گزشتہ پندرہ برسوں سے ملک میں صحافیوں اور میڈیا کے خلاف مار پیٹ اور قتل وغارت مسلسل جاری ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس رجحان سے نمٹنے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ ایسے مخصوص قوانین بنائے جائیں، جن میں ذرائع ابلاغ کی سلامتی اور تحفظ کو ترجیح دی گئی ہو۔

اقبال خٹک نے کہا کہ ان مخصوص میڈیا سیفٹی قوانین کے تحت اس امر کو یقینی بنایا جانا چاہیے کہ وفاقی اور صوبائی سطح پر اسپیشل پراسیکیوٹرز تعینات کیے جائیں، جن کی کل وقتی ذمے داریوں میں یہ بات بھی شامل ہو کہ وہ میڈیا اور صحافیوں کے خلاف کیے جانے والے حملوں اور مسلح واقعات کی چھان بین کریں اور متاثرہ افراد اور اداروں کو قانونی مدد بھی فراہم کریں۔

اقبال خٹک نے ڈی ڈبلیو کو بتایا، ’’پاکستان کے پانچ سب سے بڑے پریس کلبوں نے مل کر اپنے اپنے دفاتر میں میڈیا سیفٹی سینٹرز قائم کیے ہیں، جو اپنے اپنے علاقوں میں میڈیا پر حملوں اور دھمکیوں کی مانیٹرنگ کر رہے ہیں۔ یہ مراکز متاثرہ صحافیوں کو قانونی، طبی اور مالی امداد بھی فراہم کرتے ہیں، تاکہ وہ اپنا تحفظ کر سکیں۔‘‘ اقبال خٹک کے مطابق یہ میڈیا سیفٹی سینٹرز نیشنل پریس کلب اسلام آباد، کراچی پریس کلب، لاہور پریس کلب، پشاور پریس کلب اور کوئٹہ پریس کلب میں قائم کیے گئے ہیں۔

پاکستان کے معروف سینیئر صحافی حامد میر نے آزادی صحافت کے عالمی دن کی مناسبت سے ڈی ڈبلیو کے ساتھ گفتگو میں کہا کہ پاکستان میں پریس فریڈم کی صورتحال بہت ہی خراب ہے۔ انہوں نے کہا، ’’سب سے زیادہ تکلیف دہ بات اب یہ ہے کہ پہلے تو صحافی پاکستان فیڈرل یونین آف جرنلسٹس یا اپنے علاقے کے پریس کلب یا کسی صحافتی تنظیم سے رابطہ کر لیتے تھے، خاص کر جب ان کو قتل کی دھمکیاں ملتی تھیں یا اسی طرح کی کسی دوسری صورتحال کا سامنا کرنا پڑتا تھا لیکن پھر جب ایسا کرنے پر انہیں زیادہ ہراساں کیا جانے لگا، تو انہوں نے چپ سادھ لینے میں ہی عافیت جانی اور اپنی شکایات ریکارڈ کرانا بھی بند کر دیں۔‘‘

Asma Shirazi Pakistan

عاصمہ شیرازی نے کہا، ’’خواتین صحافیوں کی تعداد اول تو بہت کم ہے، زیادہ تر تو اینکر صحافی رہ گئی ہیں۔ لیکن کئی معاملات میں انہیں مردوں کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خطرات کئی طرح کے ہیں، سیاسی لوگوں سے بھی ہیں اور سوشل میڈیا سے بھی۔ سوشل میڈیا پر ان کی کردار کُشی کی جاتی ہے

حامد میر نے ڈوئچے ویلے کو مزید بتایا کہ میر شکیل الرحمان جیسے سینیئر صحافی پر ایک ہی کیس میں ایک سو پینتیس ایف آئی آرز پورے پاکستان میں درج ہو چکی ہیں، حالانکہ قانون کے مطابق ایک کیس پر صرف ایک ہی ایف آئی آر کٹتی ہے۔ ان پر بارہ مقدمات انسداد دہشت گردی کی عدالتون میں زیر التوا ہیں۔ گلگت کورٹ نے تو انہیں چھبیس سال قید کی سزا بھی سنا دی ہے۔

''یہ حال اگر پاکستان کے سب سے بڑے میڈیا گروپ کے ایڈیٹر ان چیف کا ہے تو میرے جیسے غریب بندے کا حال سوچیں کیسا ہو گا؟ پارلیمنٹ قانون سازی نہیں کر رہی، گورنمنٹ تحفظ نہیں دے سکتی، عدالتیں انصاف نہیں دے سکتیں، تو میڈیا کو آزاد کون کہے گا؟‘‘

جب ڈی ڈبلیو نے حامد میر سے پوچھا کہ میڈیا انڈسٹری تو آئے روز پھیلتی ہی جا رہی ہے، تو کیا آزادی اور صحافت کا معیار بھی بڑھا ہے، تو انہوں نے کہا، ’’یہ ساری ترقی نقلی ہے، پاکستان الیکٹرانک میڈیا ریگولیٹری اتھارٹی بغیر سوچے سمجھے ٹی وی لائسنس جاری کر رہی ہے۔ کوئی چیک اینڈ بیلنس نہیں۔ کچھ چینلز کی سیاسی پارٹیاں حمایت کر رہی ہیں اور کچھ کی حکومت۔ نئے ٹی وی چینلز آ تو رہے ہیں لیکن حالات کار ٹھیک بالکل نہیں۔ سوائے آٹھ دس چینلز کے کوئی ادارہ کارکنوں کو باقاعدگی سے تنخواہیں نہیں دیتا۔ پروڈکشن کا معیار بھی بہت خراب ہے۔ نہ صحافیوں کی تعداد بڑھی ہے اور نہ ہی کوئی بیرونی امداد اس مد میں آ رہی ہے۔ پھر صرف نجی ٹی وی چینلز کی تعداد بڑھنے سے ترقی کیسے ہو سکتی ہے؟‘‘

ورلڈ پریس فریڈم ڈے کے موقع پر معروف صحافی اور ٹی وی اینکر عاصمہ شیرازی نے ڈی ڈبلیو کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان میں خواتین صحافیوں کو بھی ویسے ہی مسائل درپیش ہیں جیسے کہ مرد صحافیوں کو۔ عاصمہ شیرازی نے کہا، ’’خواتین صحافیوں کی تعداد اول تو بہت کم ہے، زیادہ تر تو اینکر صحافی رہ گئی ہیں۔ لیکن کئی معاملات میں انہیں مردوں کی نسبت زیادہ خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ خطرات کئی طرح کے ہیں، سیاسی لوگوں سے بھی ہیں اور سوشل میڈیا سے بھی۔ سوشل میڈیا پر ان کی کردار کُشی کی جاتی ہے۔ عجیب و غریب جملے لکھے جاتے ہیں اور حملے کیے جاتے ہیں۔ ایسے حملوں سے مردوں کو تو زیادہ فرق نہیں پڑتا لیکن خواتین کو پڑتا ہے۔‘‘

پاکستانی صحافیوں کو عملی طور پر کس طرح کے خطرات کا سامنا رہتا ہے، اس کی ایک مثال دیتے ہوئے عاصمہ شیرازی نے کہا، ’’دہشت گردی اور طالبان کے بارے میں میرا موقف بہت واضع ہے۔ ابھی کچھ عرصہ پہلے ہی مولوی عبدالعزیز نے ایک ٹیپ جاری کی تھی، اس میں میرا نام بھی تھا۔ تو پاکستانی خاتون صحافیوں کو مردوں سے کسی بھی صورت کم خطرات کا سامنا تو نہیں ہے۔‘‘