1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان پر دباؤ جاری رہے گا، امریکی جنرل ڈیمپسی

ایڈمرل مائیک مولن کے جانشین اور امریکی مسلح افواج کے نامزد چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی نے کہا ہے کہ امریکی فوج کی طرف سے پاکستان پر دباؤ آئندہ بھی برقرار رکھا جائے گا۔

default

جنرل مارٹن ڈیمپسی

واشنگٹن سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق امریکی فوج کے نئے اعلیٰ ترین فوجی عہدیدار کے طور پر نامزد کیے جانے والے جنرل ڈیمپسی نے منگل کے روز اپنے اس عزم کا اظہار کیا کہ جوائنٹ چیفس آف سٹاف کا چیئر مین بننے کے بعد ان کی ترجیح ہو گی کہ پاکستان پر عسکریت پسندوں کے خلاف زیادہ سے زیادہ مؤثر کارروائیوں کے لیے دباؤ جاری رکھا جائے۔

جنرل مارٹن ڈیمپسی نے ایڈمرل مائیک مولن کے جانشین کے طور پر اپنی تقرری کی پارلیمانی تصدیق سے پہلے امریکی سینیٹ کی ارکان کی طرف سے سوالات کے جواب دیتے ہوئے کہا کہ پاکستان امریکہ کا ایک اہم پارٹنر ملک ہے تاہم یہ اس کی غلطی ہے کہ وہ بھارت کو اپنا سب سے بڑا دشمن سمجھتا ہے۔

Flash-Galerie General Martin Dempsey

امریکی مسلح افواج کے نامزد چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف جنرل مارٹن ڈیمپسی

امریکی سینیٹ کی آرمڈ فورسز کمیٹی کے سامنے پیشی کے دوران جنرل ڈیمپسی نے منگل کے روز کہا کہ امریکی مسلح افواج کے چیئر مین جوائنٹ چیفس آف سٹاف کے طور پر ان کی کاوش ہو گی کہ پاکستان کے ساتھ مل کر اس طرح کام کیا جائے کہ افغانستان کے ساتھ سرحدی قبائلی علاقوں میں دہشت گردوں اور عسکریت پسندوں کے وہ محفوظ ٹھکانے ختم ہو جائیں، جہاں سے شدت پسند اپنی کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔

جنرل ڈیمپسی کے بقول پاکستان میں یہ خیال عام ہے کہ اس کے ریاستی وجود کو بھارت سے خطرہ ہے۔ اس کے برعکس صوبے خیبر پختونخوا اور قبائلی علاقوں میں فعال دہشت گردوں کو اتنا بڑا خطرہ تصور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے کہا کہ یہی وجہ ہے کہ پاکستان اپنے عسکری اور مالی وسائل کو بھی دہشت گردوں کے خلاف جنگ کے بجائے بھارت کے حوالے سے اپنی فوجی صلاحیتوں کو بہتر بنانے پر زیادہ استعمال کرتا ہے۔

ماضی میں عراق میں امریکی فوجوں کے کمانڈر رہ چکنے والے جنرل ڈیمپسی نے امریکی سینیٹ کے ارکان کو بتایا کہ واشنگٹن اسلام آباد کو اس امر کا قائل کرنے کی کوشش میں ہے کہ پاکستان کو اس کے مغرب میں انتہا پسندوں سے بھی اتنا ہی یا اس سے بھی زیادہ خطرہ لاحق ہے، جتنا کہ اسے مبینہ طور پر بھارت سے ہے۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس