1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان پر دباؤ برقرا رکھا جائے گا، ہلیری کلنٹن

امریکہ نے دہشت گردی کے مسئلے پر پاکستان پر دباؤ برقرار رکھنے کا اعلان کیا ہے۔ بھارت میں امریکی وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کا کہنا تھا کہ دہشت گردوں کی محفوظ پناہ گاہیں یا انہیں کھلی چھوٹ دینا قبول نہیں کیا جائے گا۔

default

منگل کو امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ بھارتی شہروں کو محفوظ بنانے میں پوری مدد کرے گا۔ امریکی وزیر خارجہ ہیلری کلنٹن نے یہ باتیں نئی ​​دہلی میں بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا کے ساتھ بھارت امریکہ اسٹریٹیجک مذاکرات کی دوسرے دور کے دوران بیان کیں۔ ان مذاکرات میں دہشت گردی ، جوہری تعاون اور افغانستان کی صورتحال پر بھی بحث کی گئی۔ گزشتہ ہفتے دہلی میں ہونے والے بم دھماکے بھی دونوں رہنماؤں کا موضوع رہے۔گزشتہ بدھ کو ممبئی دھماکوں میں 19 افراد ہلاک اور سینکڑوں زخمی ہوئے تھے۔

کلنٹن نے اپنے بھارتی ہم منصب ایس ایم کرشنا کے ساتھ مشترکہ پریس کانفرنس میں کہا کہ امریکہ نے پاکستان حکومت سے صاف طور پر کہہ دیا ہے: ’’تمام طرح کے شدت پسندوں سے لڑنا خود اسی کے حق میں ہے۔ ہم نہیں مانتے کہ ایسا کوئی دہشت گرد ہے، جسے پاکستان میں پناہ دی جانی چاہئے یا پھر کسی بھی حکومت کی طرف سے کھلی چھوٹ ملنی چاہیے۔‘‘

Hillary Clinton Indien

امریکی وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ امریکہ بھارتی شہروں کو محفوظ بنانے میں پوری مدد کرے گا

انہوں نے یہ بھی کہا کہ امریکہ اور بھارت ایک حد تک ہی پاکستان پر اس بات کے لیے دباؤ ڈال سکتے ہیں کہ سن 2008 کے ممبئی حملوں کے ذمہ داروں کو قانون کے کٹہرے تک لایا جائے لیکن ’’ہم پاکستان پر دباؤ برقرار رکھیں گے۔‘‘

کلنٹن نے کہا کہ امریکہ بھارت کے ساتھ جوہری معاہدے کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے پوری طرح سے کوششیں جاری رکھے ہوئے ہے۔ لیکن انہوں نے بھارت سے کہا کہ وہ اقوام متحدہ کے جوہری معاہدے کی توثیق کرے اور اپنے جوہری نظام کو بین الاقوامی قوانین کے مطابق بنائے۔ انہوں نے کہا کہ سول ایٹمی شعبے میں تعاون سے جڑے کچھ ایسے امور ہیں، جنہیں حل کیا جانا باقی ہے۔ لیکن انہوں نے اس بارے میں مزید تفصیل نہیں بتائی۔

امریکی وزیر خارجہ نے ان خدشات کو بھی دور کرنے کی کوشش کی کہ ایٹمی سپلائر گروپ (ENR) کے حالیہ فیصلوں سے دونوں ممالک کے جوہری معاہدے پر کوئی اثر ہوگا۔ چھیالیس ملکوں پر مشتمل ای این آر گروپ نے حال میں یورینیم کی افزودگی اور سول ایٹمی شعبے میں تعاون سے متعلق قوانین کو مزید سخت بنا دیا تھا۔

رپورٹ: امتیاز احمد

ادارت: ندیم گِل

DW.COM