1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان پر حملے کا کوئی منصوبہ نہیں: بھارتی وزراء

بھارتی حکام نے یہ واضح کیا ہے کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی فوجی حملے کا منصوبہ نہیں رکھتا ہے تاہم پاکستان کو باہمی تعلقات کی بہتری کے لئے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف عملی اقدامات اُٹھانے ہوں گے۔

default

بھارتی فوج کے اہلکار ایک ٹریننگ کیمپ میں تربیت حاصل کرتے ہوئے

ممبئی حلموں کے بعد سے ایسی قیاس آرائیاں مسلسل گردش کررہی ہیں کہ بھارت پاکستان میں مبینہ طور پر موجود شدت پسندوں کے تربیتی کیمپوں کو نشانہ بنانا چاہتا ہے۔ اس قسم کی قیاس آرائیوں اور رپورٹوں کے بعد آج منگل کو بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے ان خدشات کی نفی کرتے ہوئے کہا: ’’ہم کسی فوجی حملے کا منصوبہ نہیں رکھتے ہیں۔‘‘

اے کے اینٹونی نے تاہم نامہ نگاروں کو بتایا کہ جب تک پاکستان ممبئی حملوں کی منصوبہ بندی کرنے والے افراد اور اپنی سرزمین پر موجود شدت پسندوں کے خلاف کارروائی نہیں کرتا تب تک دونوں ملکوں کے مابین حالات معمول پر نہیں آسکتے ہیں۔

Terror in Mumbai

ممبئی کے نریمان ہاوٴس میں بھارتی کمانڈوز ہیلی کاپٹر کے ذریعےہاوٴس کے اندر داخل ہونے کی کوشش میں

وفاقی وزیر دفاع اے کے اینٹونی نے ان خیالات کا اظہار ’وجے دیوس‘ یعنی یوم فتح کے موقع پر صحافیوں سے بات چیت کے دوران کیا۔ سن انیس سو اکہتر میں پاکستان کے خلاف جنگ کے نتیجے میں بنگلہ دیش کے قیام کے دن کو ہر سال بھارت میں یوم فتح کے طور پر منایا جاتا ہے۔

بھارت نے حالیہ ممبئی حملوں کے بعد لشکر طیبہ نامی عسکری گروپ کو اس کے لئے ذمہ دار قرار دیا تاہم لشکر نے اس الزام کی تردید کی ہے۔

Indiens Aussenminister Pranab Mukherjee auf einer Pressekonferenz in Singapur

بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی کے مطابق ماضی میں بھی پاکستان کو شدت پسندوں کے بارے میں ثبوت فراہم کئے گئے تاہم پاکستان نے کوئی کارروائی نہیں کی

بھارتی وزیر دفاع نے ان خدشات کی بھی نفی کہ بھارت سرحدوں اور حد متارکہ یعنی لائن آف کنٹرول پر گُزشتہ پانچ برسوں سے قائم فائر بندی کے معاہدے کو ختم کرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ معروف نشریاتی ادارے CNN نیوز نے ابھی حال ہی میں پینٹاگن حکام کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر دی تھی کہ بھارتی فضائیہ نے پاکستان پر ممکنہ حملوں کے لئے ابتدائی تیاریاں کی ہیں۔ بھارتی اخبار ’دی ٹائمز آف انڈیا‘ نے بھی ایک خبر شائع کی تھی جس میں بعض پاکستانی ٹھکانوں پر حملوں کی بات کی گئی ہے۔

دریں اثناء بھارتی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے بھارت کے زیر انتظام کشمیر کے دورے پر نامہ نگاروں کو بتایا کہ اب وقت آگیا ہے کہ پاکستان عالمی برادری کے ساتھ کئے ہوئے وعدے کو پورا کرے۔’’ نئی دہلی نے ماضی میں بھی کئی بار پاکستان کو شدت پسندوں کے بارے میں ٹھوس ثبوت فراہم کئے ہیں تاہم اسلام آباد نے کوئی ایکشن نہیں لیا۔‘‘

پرناب مکھرجی نے مزید کہا کہ بھارت نے اس توقع کے ساتھ پاکستان کو چالیس شدت پسندوں کی فہرست سونپی ہے کہ اسلام آباد حکومت انہیں نئی دہلی کے حوالے کردے گی۔ تاہم پاکستان کا موقف ہے کہ کہ ثبوت ملنے پر کسی بھی فرد کے خلاف پاکستان کے اندر اور پاکستان کے قانون کے مطابق کارروائی کی جائے گی۔

بھارتی وزیر دفاع اے کے اینٹونی کی طرح ہی وزیر خارجہ پرناب مکھرجی نے بھی اس بات کو دہرایا کہ ممبئی حملوں کے بعد پاکستان کے ساتھ امن عمل سرد خانے میں ہے۔ اُنہوں نے مزید کہا کہ بھارت پاکستان کے خلاف کسی فوجی حملے کا منصوبہ نہیں رکھتا ہے تاہم پاکستان کو باہمی تعلقات کی بہتری کے لئے اپنی سرزمین پر دہشت گردوں کے خلاف جلد عملی کارروائی کرنا ہوگی۔

DW.COM

Audios and videos on the topic