1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان پر امریکی دباؤ بدستور بڑھتا ہوا

پاکستانی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے کہاہے کہ امریکہ میں حالیہ ناکام دہشت گردانہ حملے پر ’’ہمارے بھی تحفظات اور خدشات ہیں لیکن اس کے اشارے کسی اور طرف کرنا اتحادیوں کے ساتھ مناسب روئیہ نہیں ہے۔‘‘

default

ایک شخص کے عمل کے سبب کسی قوم یا ملک کو شک و شبے کی نگاہ سے نہیں دیکھنا چاہیے، کائرہ

پاکستانی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ نے ان خیالات کا اظہار ڈوئچے ویلے کے ساتھ ایک خصوصی گفتگو کرتے ہوئےکیا۔

ٹائم سکوائر میں بم حملے کی منصوبہ بندی کے الزام میں گرفتار فیصل شہزاد کے پاکستانی طالبان کے ساتھ مبینہ تعلقات کے انکشاف کے بعد سے شمالی وزیرستان پر ہونے والے تین امریکی میزائل حملوں میں اب تک 26 لوگ مارے جاچکے ہیں۔ ان پے در پے میزائل حملوں کے علاوہ امریکی غصے کی نمایاں جھلک وزیر خارجہ ہلیری کلنٹن کے ان حالیہ بیانات میں بھی پائی گئی ، جن میں امریکی وزیر خارجہ نے مستقبل میں امریکہ پر حملوں کےلئے پاکستانی سرزمین استعمال ہونے کی صورت میں سنگین نتائج کی تنبیہہ کی ہے۔

Pakistan Landschaft in Waziristan

امریکہ پاکستان سے وزیرستان میں مزید کارروائیوں کا مطالبہ کر رہا ہے

تجزیہ نگار ہلیری کلنٹن کے اس تازہ انٹرویو کو بھی ذو معنی قرار دے رہے ہیں جس میں انہوں نے دعویٰ کیا ہے کہ پاکستانی حکومت میں ایسے لوگ موجود ہیں جو اسامہ بن لادن اور ملا عمر کا ٹھکانہ جانتے ہیں۔ اس صورتحال نے بظاہر پاکستانی حکومت کو متفکر کر دیا ہے۔ تاہم وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ امریکہ کو پاکستان پر انگلی اٹھانے سے پہلے دہشتگردی کے خلاف جنگ میں اس کی قربانیوں کو بھی دیکھنا ہوگا۔ اس حوالے سے ڈوئچے ویلے کے ساتھ خصوصی گفتگو کرتے ہوئے قمر زمان کائرہ نے کہا ” امریکہ میں ہونے والے حالیہ واقعے پر یقیناً ہمارے بھی تحفظات اور خدشات ہیں لیکن اس کے اشارے کسی اور طرف کرنا اتحادیوں کے ساتھ مناسب نہیں ۔ کیونکہ پاکستان اس طرح کے کسی عمل میں ملوث نہیں بلکہ ہم دہشتگردی کے خلاف سب سے بڑی لڑائی لڑ رہے ہیں اگر فیصل جو کہ امریکی شہری ہے اس کے اس عمل کے ڈانڈے کسی ایسی تنظیم ، فرد کے ساتھ ملے تو ایسی صورت میں اس گروپ کو بھی سامنے لایا جائے گا کیونکہ یہ ہمارا اصولی موقف ہے۔“

Osama bin Laden

حکومت پاکستان کے چند عناصر کو بن لادن اور ملا عمر کے ٹھکانوں کا پتہ ہے، ہلیری کلنٹن

خیال رہے کہ شمالی وزیرستان کو مبینہ طور پر پاکستانی فوجی اسٹیبلشمنٹ کے حمایت یافتہ افغان طالبان کے حقانی نیٹ ورک کا گڑھ بھی سمجھا جاتا ہے۔ مبصرین کے مطابق اب بدلتی ہوئی صورتحال میں امریکہ پہلے سے زیادہ شدت کے ساتھ پاکستان سے اس علاقے میں فوجی کارروائی کا مطالبہ کرے گا۔ قبائلی علاقوں سے ملحق صوبے خیبر پختونخواہ میں حکمران جماعت اے این پی کے ترجمان سینیٹر زاہد خان کا کہنا ہے کہ امریکہ کو دباؤ ڈالنے کے بجائے پاکستان کے ساتھ مل بیٹھ کر اس مسئلے کا حل نکالنا ہوگا۔ ان کے بقول” یہ مسئلہ دھمکیوں سے حل ہونے والا نہیں بلکہ ہمارے ساتھ مل بیٹھ کر بات کریں اور ہمارے لوگوں کو بھی اس بارے میں سوچنا چاہئے کیونکہ ہمیں دنیا کے ساتھ چلنا ہے اس لئے ہمیں اپنی پالیسیوں کو بدلنا ہوگا اور ہمیں ان پالیسیوں پر واپس یوٹرن لینا پڑے گا جو پینتیس یا چالیس سال پہلے بنائی تھیں۔آج بھی ہمیں سوچنا ہو گا کہ ان تنظیموں سے ہمیں فائدہ ہوا یا ہم مسلسل خسارے میں جا رہے ہیں۔“

دفاعی تجریہ نگار بریگیڈیئر ریٹائرڈ اسد منیر کے مطابق قبائلی علاقوں میں امریکی حکمت عملی کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ اندازہ لگانا مشکل نہیں کہ آئندہ آنے والے دنوں میں شمالی وزیرستان پر ڈرون حملوں میں اضافہ ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM