1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان: پرویز مشرف کے خلاف مقدمہ چلایا جا سکتا ہے

اٹارنی جنرل لطیف کھوسہ نے سوموار کے روز صحافیوں سے گفتگو میں بتایا کہ پارلیمان کی سادہ اکثریت سے قرارداد کی منظوری کے بعد سابق صدر پرویز مشرف کے خلاف آئین کے آرٹیکل چھ کے تحت مقدمہ چلایا جا سکتا ہے۔

default

مشرف اکیلے نہیں تھے، ڈاکٹر خالد رانجھا

اٹارنی جنرل کا کہنا تھا کہ پارلیمان بالا دست ہے اور جنرل مشرف کے خلاف مقدمے ایسے امور اس کی صوابدید میں شامل ہیں۔ غالباً اسی تناظر میں معروف مسلم لیگی رہنما اور قانون دان ایس ایم ظفر نے بھی سوموار ہی کے روز ایک پریس کانفرنس میں اس امر کا اظہار کیا کہ سپریم کورٹ نے سیاسی معاملات پارلیمان پر چھوڑ دیئے ہیں۔

Supreme Court in Islamabad, Pakistan

باقی معاملات کو سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے اوپر چھوڑا ہوا ہے، ایس ایم ظفر

ایس ایم ظفر کا کہنا ہے کہ سپریم کورٹ نے یہ معاملہ وہیں پر روک دیا جہاں تک ان کی اپنی حدود یعنی سپریم جوڈیشری اور ہائیر جوڈیشری کا تعلق تھااور اس کو درست کرنے کے لئے جو تمام کام کرنے تھے باقی معاملات کو سپریم کورٹ نے پارلیمنٹ کے اوپر چھوڑا ہوا ہے۔

دوسری طرف سابق صدر کے خلاف غداری کے الزام میں آئینی کارروائی کے مطالبے بھی بلند ہو رہے ہیں جبکہ ڈاکٹر خالد رانجھا ایسے مشرف نواز وکلاء کے خیال میں اکتوبر 1999ء کی فوجی بغاوت یا 3 نومبر 2007ء کی ہنگامی حالت کے نفاذ میں جنرل مشرف اکیلے نہیں تھے۔

Polizisten schlagen Demonstranten in Peshawar, Pakistan

تین دو نومبر دو ہزار سات کی ایمرجنسی کو پاکستانی سپریم کورٹ نے غیر آئینی قرار دیا ہے

ڈاکٹر رانجھا کے مطابق اکتوبر1999ء کے مارشل لاء یا 3نومبر کے اقدامات میں صرف جنرل مشرف کا نام نہیں ہے بلکہ اس میں اس وقت کے وائس چیف آف آرمی سٹاف ،چیئرمین جوائنٹ سٹاف، چاروں گورنر اور تمام کور کمانڈر زجو اس وقت بھی کور کمانڈر تھے اور اب بھی ہیں ،ان کا نام بھی ہے ۔ تو کیا آپ ان کور کمانڈرز، جن میں سے بیشتر اب بھی موجود ہیں، ان پر مقدمات چلا سکیں گے؟جب تک پارلیمنٹ اس کا فیصلہ نہیں کرتی اس وقت تک میرے خیال میں یہ سب قیاس آرائیاں ہیں۔

مبصرین کے خیال میں آئینی باریکیوں سے قطع نظر ہنگامی حالت سے متعلق سپریم کورٹ کے فیصلے میں بلا شبہ اکتوبر 1999ء سے 17اگست2008ء کو جنرل مشرف کی اقتدار سے علیحدگی تک کے اقدامات اور فیصلوں کے خلاف قانونی چارہ جوئی کا راستہ ہموار کر دیا اور اس وقت عام لوگوں کی نظریں بلا شبہ نواز شریف اور انکے ان ساتھیوں پر مرکوز ہو رہی ہیں جو جنرل مشرف کے خلاف غداری کے الزام میں مقدمہ چلانے کا مطالبہ کرتے رہے ہیں۔

DW.COM