1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان نے 220 بھارتی ماہی گیر رہا کر دیے

پاکستانی حکومت نے خیر سگالی کے طور پر 220 بھارتی ماہی گیروں کو رہا کر دیا ہے۔ یہ بھارتی باشندے ایک برس سے زائد عرصے سے پاکستان میں قید تھے۔

 

خبر رساں ادارے روئٹرز نے اسلام آباد حکومت کے حوالے سے بتایا ہے کہ 25 دسمبر بروز اتوار 220 بھارتی مچھیروں کو رہا کر دیا گیا ہے۔ اس اقدام کا مقصد نئی دہلی کے ساتھ پرتناؤ بھرے تعلقات میں بہتری لانے کی ایک کوشش قرار دیا گیا ہے۔ ان ماہی گیروں پر الزام تھا کہ وہ بحیرہ عرب میں ماہی گیری کے دوران پاکستانی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔

پاکستانی ماہی گیر کشتی پر بارود لدا تھا، بھارت
پاکستانجیلوں سے بھارتی ماہی گیروں کی رہائی
رہا ہونے والے بھارتی ماہی گیروں کی آنکھوں میں خوشی کے آنسو
بھارتی حکومت نے بھی ایسے متعدد پاکستانی ماہی گیروں کو گرفتار کر رکھا ہے، جو غلطی سے بھارتی سمندری حدود میں داخل ہو گئے تھے۔ پاکستانی حکام نے امید ظاہر کی ہے کہ بھارتی ماہیر گیروں کو رہا کرنے کے عمل پر نئی دہل حکومت بھی بھارت میں قید ایسے ہی پاکستانی قیدیوں کو رہا کر دے گی۔

بتایا گیا ہے کہ ان بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کے لیے 25 دسمبر کے دن کا انتخاب دو وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔ ایک تو یہ کرسمس کا دن ہے اور دوسرا یہ کہ یہ پاکستان کے بانی محمد علی جناح کا یوم پیدائش ہے اور اس دن کی مناسبت سے پاکستان اپنے ہمسایہ ملک کو ایک اچھا پیغام دینا چاہتا تھا۔

25 دسمبر کے دن پاکستان بھر میں بانی پاکستان کے 141 ویں یوم پیدائش کے حوالے سے خصوصی تقریبات کا اہتمام بھی کیا جا رہا ہے۔ محمد علی جناح پچیس دسمبر سن 1876 میں پیدا ہوئے تھے جبکہ ان کا انتقال گیارہ ستمبر سن 1948 کو ہوا تھا۔

Pakistan Indien Fischer (DW)

ماضی میں بھی پاکستان اور بھارت ایک دوسرے کے ماہی گیروں کو آزاد کرتے رہے ہیں

پاکستانی حکام نے بتایا ہے کہ اس وقت 518 بھارتی ماہی گیر پاکستان کی قید ہیں، جن میں سے 220 کو رہا کر دیا گیا ہے۔ دیگر 318 بھارتی مچھیروں کو آئندہ برس جنوری کی پانچ تاریخ کو بھارت کے حوالے کر دیا جائے گا۔

پاکستان میں ماہی گیروں کے حقوق کے تحفظ کے لیے فعال ’فشر فولک‘ کے صدر محمد علی شاہ نے روئٹرز سے گفتگو میں کہا ہے کہ وہ اسلام آباد کی طرف سے ان بھارتی ماہی گیروں کی رہائی کا خیرمقدم کرتے ہیں لیکن ساتھ ہی یہ امید بھی کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت بھی پاکستانی مچھیروں کو رہا کرنے کے لیے عملی قدم اٹھائے گی۔ انہوں نے کہا کہ اس وقت 156 پاکستانی ماہی گیر بھارت میں قید ہیں، جن میں تیرہ بچے بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کے سمندروں سے متعلق ایک کنوینشن کے مطابق اگر کوئی ماہی گیر کسی دوسرے ملک کی سمندری حدود میں داخل ہوتا ہے تو اسے خبردار کیا جا سکتا ہے یا جرمانہ کیا جا سکتا ہے لیکن اسے گرفتار نہیں کیا جا سکتا۔

اتوار کے دن رہائی پانے والے بھارتی ماہی گیر نیریش نے خوشی کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اپنے کنبے سے ملنے کے لیے بے قرار تھا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان میں دوران قید ان کے ساتھ اچھا سلوک کیا گیا اور وہ اب امید کرتے ہیں کہ بھارتی حکومت بھی پاکستانی ماہی گیروں کو رہا کر دے گی۔

DW.COM