1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان نے ہمیں مایوس کیا، ایس ایم کرشنا

بھارتی وزیر خارجہ ایس ایم کرشنا نے ممبئی حملوں کے بارے میں پاکستان میں جاری عدالتی کارروائی پر عدم اطمینان کا اظہار کیا ہے۔ یہ بات دونوں ملکوں کے درمیان خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر ہونے والی بات چیت سے قبل سامنے آئی ہے۔

default

ایس ایم کرشنا

پاکستان اور بھارت کے درمیان خارجہ سیکریٹریوں کی سطح پر آئندہ مذاکرات اگلے ہفتے بھوٹان میں ہونے جا رہے ہیں، جو دونوں ملکوں کے مابین امن عمل کی بحالی کی کوششوں کی ایک کڑی ہے۔ دونوں ممالک کے درمیان امن مذاکرات 2008ء کے ممبئی حملوں کے بعد منجمد ہو گئے تھے۔

اس وقت تقریباﹰ درجن بھر حملہ آوروں نے ممبئی میں دو ہوٹلوں پر حملوں کے ساتھ ساتھ مختلف مقامات کو نشانہ بنایا تھا۔ دہشت گردی کی اس کارروائی میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے تھے۔ یہ حملے گھنٹوں جاری رہے، جن کے لئے پاکستانی شدت پسند گروپ لشکر طیبہ کو ذمے دار قرار دیا جاتا ہے۔

اب بدھ کو ایس ایم کرشنا نے کہا، ’پاکستان نے ہمیں مایوس کیا ہے۔ کیونکہ ابھی تک دو گواہوں کو سماعت میں شامل کیا گیا ہے اور یہ معاملہ آگے بڑھتا دکھائی نہیں دیتا۔‘

انہوں نے کہا کہ بھارت اس حوالے سے پاکستان کو یہ یاد دلاتا رہے گا کہ ممبئی حملوں کے حوالے سے سماعت کا عمل تیز تر کیا جائے۔ کرشنا نے کہا، ’بھارت چاہتا ہے کہ عدالتی کارروائی میں تیزی لائی جائے۔

Mehr als 100 Tote bei Terrorserie in Bombay

ممبئی حملوں میں ڈیڑھ سو سے زائد افراد ہلاک ہوئے

ان کا کہنا تھا کہ بھارت نے ممبئی حملوں کے حوالے سے پاکستان میں جاری کارروائی کے حوالے سے اُمید کا دامن نہیں چھوڑا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ پاکستان کے ساتھ اعتماد کی فضا میں کچھ بہتری آئی تو انہوں نے اس کا نفی میں جواب دیا۔

انہوں نے اس بات چیت میں پاکستانی صوبہ پنجاب کے سابق گورنر سلمان تاثیر کے قتل کا حوالہ بھی دیا، جس پر انہوں نے دُکھ اور حیرت کا اظہار کیا کہ کس طرح پاکستانی معاشرے کے بعض حلقے قاتلوں کو ہیرو بنا کر پیش کر رہے ہیں۔ انہوں نے کہا، ’یہ خطرناک پیش رفت ہے۔‘

ایس ایم کرشنا نے کہا کہ کسی گورنر کو ہٹانے کے لئے قتل کر دینا کوئی طریقہ نہیں ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM

ویب لنکس