1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستان نے مشرقی سرحد پر نظر رکھی ہوئی ہے‘

پاکستان کی فوج کے شعبہ تعلقات عامہ کے سربراہ عاصم باجوہ نے کہا ہے کہ پاکستان نے اپنی مشرقی سرحد پر نظر رکھی ہوئی ہے اور کسی بھی صورتحال میں پاکستان جواب دینے کے لیے تیار ہے۔

ڈی جی آئی ایس پی آر نے پشاور میں کور ہیڈ کوارٹر پشاور میں صحافیوں سے بات چیت کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اپنی مشرقی سرحد پر ہونے والی پیش رفت پر گہری نظر رکھے ہوئے ہے۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا،’’ یہ انتہائی افوس ناک بات ہے کہ بغیر کسی ثبوت کے دوسرے ممالک میں ہونے والے حملوں  کا ذمہ دار پاکستان کو ٹہرایا جاتا ہے۔‘‘ عاصم باجوہ نے کہا، ’’ہم ہمیشہ ذمہ داری کے ساتھ بات کرتے ہیں اور جب تک ٹھوس ثبوت نہ ہوں تب تک دوسروں پر انگلیاں نہیں اٹھاتے۔‘‘

18 ستمبر کو لائن آف کنٹرول کے قریب اڑی سیکٹر میں مشتبہ عسکریت پسندوں کی جانب سے بھارت کے فوجی اہلکاروں پر ایک حملے میں 18 بھارتی اہلکار ہلاک ہو گئے تھے۔ بھارت نے الزام عائد کیا ہے کہ حملہ آور پاکستان سے سرحد پار کر کے بھارت میں داخل ہوئے تھے۔ پاکستان نے ان الزامات کو مسترد کر دیا ہے۔ اس واقعہ کے بعد سے دونوں ممالک کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے۔

Indien Lal Chowk Srinagar - Nach Uri Terrorangriff

پاکستان اور بھارت کے درمیان لفظوں کی جنگ جاری ہے

 گزشتہ روز بھارتی وزیر خارجہ نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب میں کہا کہ بھارت متنازعہ کشمیر کے علاقے میں اپنا کنٹرول کسی صورت ختم نہیں کرے گا۔ انہوں نے پاکستان پر دہشت گردی کا الزام بھی عائد کیا۔

بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج نے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے خطاب کے دوران کہا،’’ پاکستان  حقیقت سے منہ چرا رہا ہے ، وہ سمجھتا ہے کہ ایسے حملوں سے وہ اس علاقے کو حاصل کر لے گا جس کا اسے لالچ ہے۔‘‘ سشما سوراج نے کہا کہ وہ پاکستان کو مشورہ دیتی ہیں کہ وہ ایسے خواب دیکھنا چھوڑ دے۔

پاکستان نے سشما سوراج کی تقریر کو جھوٹ پر مبنی قرار دیا ہے۔ پاکستان کی وزارت خارجہ کی جانب سے جاری بیان میں کہا گیا ہے،’’ جموں اور کشمیر کبھی بھی پاکستان کا حصہ نہیں بن سکتا، یہ ایک متنازعہ علاقہ ہے جس کا حتمی فیصلہ اقوام متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہو گا۔‘‘