1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان نے متاثرین کے لئے بھارتی امداد قبول کر لی

پاکستان نے چند روزہ تاخیر کے بعد حریف ہمسایہ ملک بھارت سے ملکی سیلاب زدگان کے لئے امداد لینے کا فیصلہ کیا ہے۔ بھارتی امدادی پیشکش قبول کرنے کے فیصلےکو دونوں ریاستوں کے تعلقات میں بہتری کی طرف قدم کا نام دیا جا رہا ہے۔

default

بھارت کی جانب سے اس وقت یہ اقدام نہایت مثبت ہے

پاکستانی وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نےآج جمعہ کے روز بھارتی ٹیلی وژن ادارے NDTV کے ساتھ اپنے ایک انٹرویو میں کہا کہ پاکستان نئی دہلی کی جانب سے سیلابی متاثرین کے لئے پانچ ملین ڈالر کی امدادی پیشکش کو قبول کرتا ہے۔

وزیر خارجہ قریشی نے کہا: ’’میں آپ کے ساتھ یہ بات شیئر کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت پاکستان نے بھارت کی طرف سے خیر سگالی کے جذبات کے تحت کی گئی پانچ ملین ڈالر کی امداد کی پیشکش قبول کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔‘‘ شاہ محمود قریشی نے یہ بات نیویارک میں کہی، جہاں وہ اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کو ملک میں وسیع تر سیلابی تباہ کاریوں اور امدادی کارروائیوں کی تفصیلات سے اگاہ کر رہے تھے۔ ان کے بقول: ’’میں سمجھتا ہوں کہ بھارت کی جانب سے اس وقت یہ اقدام نہایت مثبت ہے۔‘‘

Indischer Premierminister Manmohan Singh

من موہن سنگھ نے سیلاب کےباعث وسیع تر تباہی پر گہرے دکھ کا اظہار کیا

پاکستان اور بھارت نے حالیہ مہینوں کے دوران اپنے آپس کے تعلقات اور دوطرفہ باہمی اعتماد کی بحالی کے لئے نمایاں کوششیں کی ہیں۔ خاص طور پر 2008 میں ممبئی کے دہشت گردانہ حملوں کے بعد کی بہت کشیدہ صورت حال میں بہتری کے لئے۔

امریکہ کی جانب سے رواں ہفتے کے اوائل میں پاکستان پر زور دیا گیا تھا کہ وہ بھارت کی جانب سے امدادی پیشکش کو قبول کرے تاکہ دیگر ملکوں اور اداروں سے ملنے والی ہنگامی امداد کی طرح یہ مالی وسائل بھی لاکھوں سیلاب زدگان کی مدد کے لئے استعمال میں لائے جا سکیں۔

اسی دوران بھارتی وزیر اعظم من موہن سنگھ کے دفتر کی طرف سے جاری کردہ ایک اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ بھارتی سربراہ حکومت نے کل جمعرات کے روز اپنے پاکستانی ہم منصب یوسف رضا گیلانی کے ساتھ ٹیلی فون پر گفتگو کی اور سیلاب کی وجہ سے وسیع تر تباہی اور بہت زیادہ جانی نقصان پر گہرے دکھ کا اظہار کیا۔

پاکستان میں حالیہ سیلابوں کے باعث اب تک قریب ڈیڑھ ہزار افراد ہلاک ہو چکے ہیں جبکہ متاثرین کی کل تعداد بھی بیس ملین کے قریب بنتی ہے۔ کم ازکم چار ملین شہری مکمل طور پر بےگھر ہو چکے ہیں۔ اس کے علاوہ ملکی معیشت اور بنیادی ڈھانچے کو پہنچنے والے شدید نقصانات کی مالیت کا ابتدائی اندازہ بھی اربوں ڈالر لگایا گیا ہے۔

رپورٹ: عصمت جبیں

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس