1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان نے ماضی کی ناگہانی آفات کے تجربے سے کچھ نہیں سیکھا: جرمن ماہر

دوہزار کے قریب انسانی جانوں کا ضیاع، 14 ملین متاثرین کی ناگفتہ بہ صورتحال اور لاکھوں انسانوں کی بقاء کی جنگ۔ان سب کا ذمہ دار کون ؟

default

ایک جرمن تھنک ٹینک سے تعلق رکھنے والے ماہر سیاسیات کرسٹیان واگنر

پاکستان میں موجودہ سیلاب کی تباہ کاریاں سونامی اور گزشتہ برسوں میں دنیا کے مختلف خطوں میں آنے والی ناگہانی آفات کی شدت سے کہیں زیادہ ہیں۔ پاکستان اس المناک صورتحال کے نتیجے میں سالوں نہیں بلکہ عشروں پیچھے چلا گیا ہے۔

ان سب کا ذمہ دار کون ہے؟ جرمنی کے مختلف حلقوں میں یہ موضوع زیر بحث ہے اور ماہرین اور مبصرین اس بارے میں اپنا اپنا نقطہ نظر پیش کر رہے ہیں۔ برلن میں قائم ایک معروف جرمن تھنک ٹینک SWAP سے منسلک افغانستان اور پاکستان سے متعلقہ امور کے ماہر کرسٹیان واگنر کے بقول، ’پاکستان نے ماضی میں آنے والی ناگہانی آفات کے تجربے سے کچھ نہیں سیکھا۔ اس کے علاوہ اس ملک میں توانائی کی فراہمی، صحت اور تعلیم کا مناسب نظام ہمیشہ ہی سے ناقص رہا ہے۔ وہاں کا بنیادی ڈھانچہ ناقص ہے۔ یہ ہیں وہ اصل وجوہات جن کے سبب پاکستان بحران کا شکار ہے۔‘

Asif Ali Zardari Präsident Pakistan

موجودہ حکومت ملکی مسائل سے نمٹنے میں ناکام رہی ہے: جرمن ماہر

کیا پاکستان میں بحرانی حالات سے نمٹنے کا کوئی نظام پایا جاتا ہے؟ اس سوال کے جواب میں کرسٹیان واگنر کہتے ہیں: ’’بدقسمتی سے پاکستان کا شمار ان ممالک میں ہوتا ہے جہاں سالوں تک بدنام یا ناپسندیدہ حکومتی سربراہان برسر اقتدار رہے ہیں۔ اس کا اندازہ ایسے ملکوں کے ناقص بنیادی ڈھانچوں سے ہوتا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے ممالک میں تعلیم کی اوسط شرح سے متعلق بین الاقوامی اعداد و شمار بھی اس کی نشاندہی کرتے ہیں۔ پاکستان میں سیلاب کی تباہ کاریوں سے نمٹنے میں جو مشکلات نظر آ رہی ہیں، اُن کی وجہ بھی ناقص حکومتی نظام ہی ہے۔‘

کرسٹیان واگنر کا کہنا ہے کہ پاکستان ایک طویل عرصے سے مختلف نوعیت کے چھوٹے بڑے علاقائی تنازعات کا شکار بھی رہا ہے۔ تاہم کراچی میں حالیہ خونریزی پر وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی نے قابو پانے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ یہ شہر ملک کی اقتصادی شہ رگ ہے۔ اگر اس وقت وہاں حالات پر اس طرح قابو نہ پایا جاتا تو ملک کو سیلاب کے ساتھ ساتھ ایک اور بڑے اقتصادی بحران سے گزرنا پڑتا۔

واگنر کے بقول حقیقت میں اب تک موجودہ جمہوری حکومت نہ تو ملک سے دہشت گردی کے خاتمے اور نہ ہی دیگر علاقائی تنازعات کے حل میں کامیاب ہو سکی ہے۔ اُن کے خیال میں ان اہم مسائل کے بارے میں موجودہ حکومت کے پاس کوئی ٹھوس اور متاثر کُن منصوبہ ہے بھی نہیں۔

اس سوال کے جواب میں کہ آیا پاکستان میں سیاست اور حکومتی نظام کی ناکامی کے ساتھ ساتھ فوج بھی کھوکھلے پن کے سبب ٹکڑے ٹکڑے ہونے کو ہے؟ واگنر کا جواب تھا: ’’آخر کار پاکستانی فوج ہی اپنی قوت سے ملک کو سہارا دے کر دوبارہ کھڑا کرے گی۔‘‘

Flash-Galerie Pakistan: Militärs vor der Islamischen Universität in Islamabad

پاکستان میں آرمی ہی سب سے مضبوط ادارہ ہے

کرسٹیان واگنر کہتے ہیں کہ پاکستان میں تمام اہم پالیسیوں کا فیصلہ فوج ہی کرتی ہے۔ 60 سالوں میں وہاں متعدد بار اور طویل عرصے کے لئے آمر حکمران ہی اقتدار میں رہے ہیں۔ یہ ایک ناخوشگوار عمل رہا ہے، جس سے سیاسی عمل کی ترقی مسلسل رکاوٹوں کا شکار رہی ہے۔ واگنر کا کہنا ہے کہ پاکستان کی خارجہ پالیسی، خاص طور سے افغانستان اور بھارت سے متعلق پالیسیوں کا دارومدار قومی سلامتی کے حوالے سے اہم سوالات پر ہے اور ان کا فیصلہ ہمیشہ فوجی قیادت ہی کرتی ہے۔

رپورٹ: کشور مصطفیٰ

ادارت: مقبول ملک

DW.COM

ویب لنکس