1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان نے قتل کا ملزم برطانیہ کے حوالے کر دیا

پاکستانی حکام نے برطانیہ میں دوہرے قتل کے ایک ملزم کو لندن حکومت کے حوالے کر دیا ہے۔ دس برس بعد اسلام آباد نے پہلی مرتبہ کسی ملزم کو اس طرح برطانوی پولیس کے حوالے کیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی نے لندن میں پاکستانی ہائی کمیشن کے حوالے سے بتایا ہے کہ محمد زبیر کو برطانوی پولیس کے حوالے کیا گیا ہے، جن کے خلاف اب باقاعدہ طور پر برطانیہ میں قانونی کارروائی شروع ہو سکے گی۔

لندن میں مقامی میڈیا کے مطابق زبیر کو جمعرات کے دن بریڈفورڈ میں ایک مجسٹریٹ کی عدالت میں پیش کیا جائے گا۔

35 سالہ محمد زبیر کو برطانیہ میں دوہرے قتل کے الزام کے تحت پاکستان میں گرفتار کیا گیا تھا۔ ان پر الزام ہے کہ انہوں نے سن 2011 میں ایک تنازعے پر ستائیس سالہ عمران خان اور پینتیس سالہ احمدین سید کمال کو قتل کر دیا تھا۔

مبینہ طور پر اپنے اس اقدام کے بعد زبیر فرار ہو کر پاکستان چلے گئے تھے، جہاں پاکستانی پولیس نے انہیں حراست میں لے لیا تھا۔ تب سے برطانوی حکام کی کوشش تھی کہ اس ملزم کو برطانیہ کے حوالے کیا جائے تاکہ اس ملزم کے خلاف قانونی کارروائی اسی ملک میں ہو سکے، جہاں وہ مبینہ طور پر جرم کا مرتکب ہوا تھا۔

جمعرات انیس مئی کے روز برطانیہ میں ویسٹ یارک پولیس کی طرف سے جاری کردہ ایک بیان میں پاکستانی حکام کا شکریہ بھی ادا کیا گیا، ’’پانچ سال بعد یارک شائر پولیس محمد زبیر کی برطانیہ حوالگی کے حوالے سے اپنی کوششوں میں کامیاب ہو گئی ہے، جسے نومبر 2013ء سے پاکستان میں قید رکھا گیا تھا۔‘‘

پاکستانی وزارت خارجہ کے ایک اہلکار نے اپنا نام مخفی رکھنے کی شرط پر اے ایف پی کو بتایا کہ جب محمد زبیر نے مبینہ طور پر اس جرم کا ارتکاب کیا تھا، تو اس ملزم کی عمر اکتیس برس تھی۔ اس ذریعے کے مطابق اب زبیر کو برطانیہ کے حوالے کیا جا چکا ہے۔ محمد زبیر کی شہریت کے بارے میں تفصیلات جاری نہیں کی گئیں۔

یہ امر اہم ہے کہ پاکستان اور برطانیہ کے مابین ملزمان یا مجرمان کو ایک دوسرے کے حوالے کرنے سے متعلق کوئی معاہدہ موجود نہیں۔ تاہم حالیہ برسوں کے دوران جرائم کی روک تھام کے لیے دونوں ممالک ایک دوسرے سے تعاون کر رہے ہیں۔ گزشتہ ایک عشرے کے دوران یہ پہلا موقع ہے کہ پاکستان نے کسی ملزم کو برطانیہ کے حوالے کیا ہے۔