1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان نے تیسرے ون ڈے میں انگلینڈ کو ہرا دیا

پاکستان نے تیسرے وَن انٹرنیشنل کرکٹ میچ میں انگلینڈ کو 23 رنز سے ہرا دیا ہے۔ جمعہ کو اوول میں کھیلے گئے اس میچ میں پاکستانی بالر عمر گُل نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے 42 رنز کے عوض چھ وکٹیں حاصل کیں۔

default

عمر گُل

Cricketspieler Shahid Afridi

شاہد آفریدی رن آؤٹ ہوئے

پاکستان نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے انگلینڈ کو جیت کے لئے 242 رنز کا ہدف دیا۔ میزبان ٹیم کی جانب سے ایون مورگن نے 61 اور لیوک رائٹ نے ناقابل شکست 48 رنز بنائے۔ ان دونوں بلے بازوں نے چھٹی وکٹ کی شراکت میں 98 رنز بنائے۔ اس وقت تک انگلینڈ کی پوزیشن بہتر تھی۔ تاہم گُل نے جیسے ہی مورگن کی وکٹ حاصل کی، میزبان ٹیم کو دوبارہ سنبھلنے کا موقع نہیں ملا۔

اس کے بعد عمر گُل نے ٹِم بریسنین اور گریم سوان کو بھی پویلین واپس بھیجا۔ گُل نے چار کھلاڑی محض تین اوورز میں چھ رنز کے عوض آؤٹ کئے۔ گزشتہ برس اسی گراؤنڈ پر گُل نے نیوزی لینڈ کے خلاف ٹوئنٹی ٹوئنٹی میچ میں چھ رنز کے عوض پانچ وکٹیں حاصل کی تھیں۔

خبررساں ادارے AFP کے مطابق ایمپائر بِلی ڈوکٹرو کی ایک غلطی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے رائٹ میچ کے اختتام تک کریز پر جمے رہے۔ ٹیلی ویژن ری پلے میں انہیں 26 رنز پر سٹمپ آؤٹ ہوتے دیکھا گیا تھا۔ رائٹ کا پاؤں زمین پر پڑنے سے پہلے ہی وکٹ کیپر عمر اکمل نے وکٹ گرا دی تھی۔ پاکستانی کپتان شاہد آفریدی نے سکوائر لیگ کپتان سے اپیل کی لیکن رائٹ کو آؤٹ قرار نہیں دیا گیا۔

T 20 Cricket World Cup 2010

انگلش کھلاڑی پریکٹس سیشن کے دوران

پاکستان کی جانب سے بیٹسمین فواد عالم 64 رنز کے ساتھ ٹاپ سکورر رہے جبکہ اسد شفیق نے 40 رنز بنائے۔ تاہم پاکستان تیزی سے کوئی بڑا ٹوٹل بنانے کی جانب نہ بڑھ سکا۔ مہمان ٹیم نے دو وکٹیں پہلے تین اوورز میں ہی گنوا دی تھیں اور دسویں اوور تک تین کھلاڑیوں کے نقصان پر اس کا مجموعی سکور 31 تھا۔

انگلینڈ کی جانب سے بالر جیمز اینڈرسن نے 26 رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔ ان کے اوورز کے دوران پاکستانی بیٹسمینز کو محض ایک باؤنڈری کا موقع مل سکا۔ بریسنین نے بھی تین وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان پانچ وَن ڈے میچز کی اس سیریز میں پہلے دو میچ ہار چکا ہے اور اوول کی اس جیت نے پاکستانی کیمپ کی اُمیدیں روشن کر دی ہیں۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی