1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان نے اسامہ بن لادن کو مدد فراہم نہیں کی تھی، مشرف

پاکستان کے سابق صدر پرویز مشرف نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت نے القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کو کسی قسم کی مدد فراہم نہیں کی تھی۔ انہوں نے بن لادن کی ہلاکت کے لیے امریکی آپریشن پر تنقید بھی کی۔

پرویز مشرف

پرویز مشرف

واشنگٹن کے اپنے ایک دورے میں پرویز مشرف نے پاکستانی فوج اور خفیہ ایجنسی آئی ایس آئی کا بھرپور دفاع کیا۔ امریکی انتظامیہ کی نظر میں آئی ایس آئی درپردہ عسکریت پسندوں سے تعلقات برقرار رکھے ہوئے ہے۔

پاکستانی فوج کے سابق سربراہ پرویز مشرف نے 1999ء میں اس وقت کی منتخب حکومت کا تختہ الٹ کر اقتدار حاصل کیا تھا۔ مشرف کا کہنا تھا کہ اگر اسامہ بن لادن کی کسی بھی صورت میں مدد کی جاتی تو انہیں ضرور خبر ہوتی۔ پاکستانی شہر ایبٹ آباد میں اسامہ بن لادن کی ایک امریکی خفیہ آپریشن میں ہلاکت کے بعد سامنے آنے والی معلومات کے مطابق اسامہ نے جب ایبٹ آباد میں رہائش اختیار کی اس وقت پرویز مشرف حکمران تھے۔

’واشنگٹن کے وُڈرو وِلسن انٹرنیشنل سینٹر فار اسکالرز‘ میں پرویز مشرف کا کہنا تھا: ’’میں انتہائی یقین اور اعتماد کے ساتھ کہہ سکتا ہوں کہ ایسی کوئی سازش نہیں ہوئی کیونکہ میں ایک چیز سے بخوبی آگاہ ہوں کہ ایسا کچھ نہیں ہوا۔‘‘ پرویز مشرف، جو خود ساختہ جلاوطنی اختیار کرتے ہوئے ان دنوں لندن میں مقیم ہیں، کا مزید کہنا تھا: ’’کیا یہ ممکن ہے کہ فوج اور آئی ایس آئی یہ بات مجھ سے چھپاتے، نہیں سو مرتبہ نہیں، یہ ہو ہی نہیں سکتا۔ میں فوج سے ہوں، وہ میرے لوگ ہیں۔‘‘

پرویز مشرف نے اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کو ایک عام گھر قرار دیا جو معمول سے تھوڑا بڑا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ قدرتی طور پر یہ ناممکن ہے کہ کوئی اس گھر پر توجہ دیتا: ’’اس طرح کے وہاں سینکڑوں گھر ہیں۔ اگر بن لادن کو وہاں چھپایا جاتا تو کیا اس کی حفاظت کے لیے سکیورٹی کا انتظام نہ ہوتا کہ کہیں وہ اس جگہ سے کہیں اور نہ چلا جائے۔‘‘

پرویز مشرف نے اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کو ایک عام گھر قرار دیا جو معمول سے تھوڑا بڑا ہے

پرویز مشرف نے اسامہ بن لادن کے ٹھکانے کو ایک عام گھر قرار دیا جو معمول سے تھوڑا بڑا ہے

مشرف کے مطابق دو مئی کے اس خفیہ آپریشن کی وجہ سے پاکستانیوں کی نظر میں امریکہ کا امیج بری طرح متاثر ہوا ہے کیونکہ وہ سمجھتے ہیں کہ یہ ’ہماری ملکی خودمختاری‘ کی خلاف ورزی تھی۔

امریکہ نے عسکریت پسندوں کے خلاف کارروائی کا اپنا تقاضا دہراتے ہوئے حال ہی میں پاکستان کے لیے اپنی فوجی امداد کا ایک تہائی روک لیا ہےجس کی مالیت 800 ملین ڈالر بنتی ہے۔

سابق صدر جنرل پرویز مشرف کا کہنا تھا: ’’ میں اس بات کی تردید نہیں کرسکتا ہے کہ طالبان کے لیے نرم گوشہ رکھنے والے موجود ہوسکتے ہیں، لیکن میں یہ بات قطعی یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ مجموعی طور پر فوج اور آئی ایس آئی مثبت سمت میں کام کر رہے ہیں۔‘‘

رپورٹ: افسر اعوان

ادارت: ندیم گِل

DW.COM

ویب لنکس