1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان نے آئرلینڈ کو پہلا وَن ڈے ہرا دیا

پاکستان نے دو میچوں کی سیریز کے پہلے وَن ڈےمیچ میں آئرلینڈ کو سات وکٹوں سے شکست دے دی ہے۔ آئرلینڈ کی ٹیم نے پہلے بیٹنگ کرتے ہوئے محض چھیانوے رنز بنائے۔

default

بیلفاسٹ میں ہفتہ کو کھیلے گئے اس میچ کے لیے پاکستان کے کپتان مصباح الحق نے ٹاس جیت کر آئرلینڈ کو پہلے بیٹنگ کرنے کی دعوت دی۔ مصباح پاکستان کی وَن ڈے ٹیم کے لیے پہلی مرتبہ کپتان بنے ہیں۔

پاکستان کے فاسٹ بولر جنید خان نے بارہ رنز کے عوض چار وکٹیں حاصل کیں۔ انہوں نے یہ کامیابی پانچ اوورز میں حاصل کی۔ یہ بات قابل ذکر ہے کہ جنید خان کے لیے اس سطح کا یہ پانچواں میچ تھا۔ انہیں مین آف دی میچ قرار دیا گیا۔

بعد ازاں آف اسپنر سعید اجمل نے سات رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔

ایک موقع پر بارش کی وجہ سے کھیل روکنا پڑا، جس کے باعث دونوں ٹیموں کے لیے کھیل اڑتیس اوور تک محدود کر دیا گیا۔ تاہم بارش کی وجہ سے دوسری مرتبہ میچ رکا تو کھیل چھتیس اوور تک محدود کر دیا گیا۔ اس وقت آئرلینڈ کے چھ کھلاڑی آؤٹ ہو چکے تھے جبکہ اس کا مجموعی اسکور چھہتر تھا۔ ان کی اننگز کا تیرھواں اوور چل رہا تھا۔

آئرلینڈ کے لیے صورت حال اس سے بھی بدتر ہو سکتی تھی۔ تاہم پال اسٹرلنگ نے بائیس گیندوں میں انتالیس رنز بنا کر اپنی ٹیم کو کچھ سہارا دیا۔ انہوں نے سات چوکے اور ایک چھکا لگایا۔ انہوں نے تنویر احمد کے ایک اوور میں ہی انیس رنز بنائے۔ اسٹرلنگ کے آؤٹ ہونے کے بعد آئرلینڈ کے کھلاڑیوں کی جانب سے کسی طرح کی مزاحمت دیکھنے میں نہیں آئی اور ایک آسان ہدف کے ساتھ میچ پاکستان کے ہاتھ میں چلا گیا۔

پاکستان کی اننگز کا آغاز ٹیسٹ میچ کے اوپننگ پیئر محمد حفیظ اور توفیق اقبال نے کیا۔ انہوں نے تہتر رنز بنائے۔ اس وقت تک یوں لگ رہا تھا جیسے پاکستانی کھلاڑی کوئی وکٹ گنوائے بغیر ہی ہدف حاصل کر لیں گے۔ تاہم ایسا نہ ہو سکا اور Alex Cusack نے توفیق عمر کو آؤٹ کر دیا۔

اس کے بعد ایلکس نے حفیظ کو بھی آؤٹ کر دیا۔ تاہم حفیظ تراسی گیندیں کھیلتے ہوئے نصف سنچری اسکور کر چکے تھے۔ اس دوران انہوں نے ایک چھکا اور چار چوکے لگائے تھے۔

آئرلینڈ کے آل راؤنڈر ایلکس نے بعدازاں اسد شفیق کو بھی آؤٹ کیا اور یوں تیرہ رنز کے عوض تین وکٹیں حاصل کیں۔

پاکستان کی ٹیم ویسٹ انڈیز سے آئر لینڈ پہنچی تھی اور اس نے یہ میچ اپنی آمد کے تقریباﹰ اڑتالیس گھنٹے بعد کھیلا۔

رپورٹ: ندیم گِل/ خبر رساں ادارے

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس