1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان : نیٹو سپلائی پر حملہ، کم ازکم سات ہلاک

بذریعہ پاکستان، افغانستان میں تعینات مغربی دفاعی اتحاد نیٹو کے لئے کمک لے جانے والے ٹرالرز پر خون ریز حملے کے نتیجے میں کم ازکم سات افراد ہلاک جبکہ آٹھ زخمی ہو گئے ہیں۔

default

منگل کی رات گئے پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد کے نواح میں ہوئے اس حملے میں نصف ٹرالرز مکمل تباہ ہو گئے۔ پولیس اورعینی شاہدین نے بتایا ہےکہ یہ حملہ سنگ جانی کےعلاقے میں واقع ایک ٹرمینل پرکیا گیا، جہاں کم از کم پچاس ٹرالرز چار روز سے کھڑے تھے۔ ان ٹرالرز پرسامان بھی لدا ہوا تھا۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق حملہ آوروں نے ٹرالرز پر فائرنگ کی اور انہیں آگ لگا دی، جس کے نتیجے میں وہاں کئی دنوں سے پارک ٹرالرز میں سے نصف جل کر راکھ ہو گئے۔ اطلاعات کے مطابق آگ پر قابو پانے کے لئے امدادی ٹیمیں فوری طور پر وقوع پر پہنچ گئیں۔

ابتدائی تحقیقات کے مطابق ہلاک ہونے والے افراد ڈرائیوراورکلینرز ہیں، جو رات کے وقت اپنے ٹرالرز کی چھتوں پر سو رہے تھے۔ اسلام آباد پولیس کے ایک اعلیٰ افسر کلیم امام نے صحافیوں کو بتایا ہے کہ پندرہ حملہ آوروں نے خود کار ہتھیاروں اور دستی بموں سے حملہ کیا

Bildgalerie Jahresrückblick 2008 Dezember Pakistan

پاکستان میں اس طرح کے حملے پہلے بھی کئی بار ہو چکے ہیں

اور بعد ازاں ٹرالرز کو آگ لگا دی۔ جبکہ عینی شاہدین کے مطابق حملہ آوروں کی تعداد کم ازکم چھ تھی،جو حملے کے بعد فرار ہو گئے،اسی طرح ابتدائی طور پر ایک مقامی پولیس افسر نے خبر رساں ادارے اے پی کوبتایا تھا کہ حملہ آور دو کاروں اور چھ موٹر سائیکلوں پر سوار تھے، جن میں سو دو ہلاک کردئے گئے جبکہ باقی فرار ہو گئے۔

اس حملے کے بعد علاقے میں پولیس کی بھاری نفری تعینات کر دی گئی ہے اور حملہ آوروں کی تلاش کا کام شروع کر دیا گیا ہے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان متعین نیٹوافواج کے لئے سپلائی لے جانے والے ان ٹرالرزمیں ایندھن اور فوجی گاڑیاں لدی ہوئی تھیں۔

خیال رہے کہ پاکستان سے افغانستان متعین نیٹو افواج کے لئے سامان لے جانے والے ٹرکوں پر متعدد حملے پہلے بھی ہوچکے ہیں۔ افغانستان میں طالبان باغیوں کے خلاف نبرد آزما، نیٹو افواج کو کمک پہنچانے کے لئے پاکستان کا راستہ نہایت اہم سمجھا جاتا ہے۔

رپورٹ: عاطف بلوچ

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM