1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان: نوعمر لڑکوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے رجحان میں اضافہ

بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات کے خلاف سرگرمِ عمل غیر سرکاری پاکستانی تنظیم ’ساحل‘ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ اس سال جنسی زیادتی کا شکار ہونے والے نوعمر لڑکوں کی تعداد میں اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

Pakistan Karatschi Kinder Kinderarmut straßenkinder

کراچی شہر کا ایک منظر، سڑکوں پر زندگی بسر کرنے والے بے گھر بچے اکثر اپنے ہی محافظوں کے ہاتھوں جنسی زیادتی کا نشانہ بنتے ہیں

بدھ اٹھارہ نومبر کو جاری ہونے والی اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ چھ سے لے کر دَس سال تک کی عمر کی لڑکیوں کے مقابلے میں اس عمر کے اُن لڑکوں کی تعداد زیادہ ہے، جو متاثر ہوئے۔

’ساحل‘ نامی تنظیم کی طرف سے مرتب کروائے گئے جائزے کے مطابق 2015ء کے پہلے نصف حصے میں زیادتی کے شکار ہونے والے لڑکوں کی تعداد میں گزشتہ سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 4.3 فیصد اضافہ دیکھنے میں آیاہے۔ اس رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ جہاں چھ تا دَس سال کی 150 بچیوں کو زیادتی کا نشانہ بنایا گیا، وہاں لڑکوں کی تعداد 150 ریکارڈ کی گئی۔

نیوز ایجنسی اے ایف پی کے ساتھ باتیں کرتے ہوئے ’ساحل‘ کے ترجمان ممتاز گوہر نے بتایا:’’اس کی وجہ یہ ہے کہ لڑکیوں کے مقابلے میں لڑکے زیادہ گھر سے باہر گلی میں جا کر کھیلتے ہیں اور آسانی سے دام میں آ جاتے ہیں۔‘‘ اُنہوں نے مزید کہا:’’بہت سے لوگ لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کو بدنامی کے خوف سے سامنے نہیں لاتے۔‘‘

رپورٹ میں یہ بھی بتایا گیا ہے کہ جنسی حملوں میں ملوث خواتین کی تعداد میں تشویش ناک حد تک اضافہ ہوا ہے۔ بتایا گیا ہے کہ اس سال جنوری سے لے کر جون تک کے عرصے میں 102 کیس ایسے رجسٹر ہوئے، جن میں خواتین نے جنسی زیادتی کرنے والوں کے لیے سہولت کار کا کردار ادا کیا۔ یہ تعداد 2014ء میں اسی عرصے کے دوران ریکارڈ کی جانے والی تعداد سے پانچ گنا زیادہ ہے۔

Pakistan Skandal um Kindesmissbrauch

اس سال اگست میں قصور کے قریب ایک گاؤں میں ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا، جس میں کم از کم 280 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا تھا

اس رپورٹ کے مطابق تمام عمروں کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے واقعات میں مجموعی طور پر 221 کی کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ پاکستان میں 2015ء کی پہلی شش ماہی کے دوران روزانہ اوسطاً نو بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا۔ جہاں 2014ء کی پہلی شش ماہی میں تمام عمروں کے بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 1786 واقعات رونما ہوئے تھے، وہاں اس سال کے پہلے چھ مہینوں میں یہ تعداد 1565 ریکارڈ کی گئی ہے۔

انتہائی قدامت پسند پاکستانی معاشرے میں جنس کو ایک ممنوعہ موضوع سمجھا جاتا ہے۔ بچوں کو جنسی حملوں سے بچانے کے لیے سرگرم کارکنوں کا کہنا ہے کہ یہ مسئلہ حقیقت میں بہت زیادہ پھیلا ہوا ہے لیکن اس کی ماہیت کا اندازہ لگانا اس لیے مشکل ہے کیوں کہ متاثرین اکثر اس موضوع پر بات کرنے پر راضی نہیں ہوتے۔

گزشتہ سال ’ساحل‘ نے مجموعی طور پر بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کے 3500 سے زیادہ کیسز کا پتہ چلایا تھا جب کہ اس تنظیم کے ایک ترجمان کے مطابق اصل تعداد دس ہزار تک بھی ہو سکتی ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان نے نوعمر لڑکیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنانے والوں کو سزا دینے کی جانب ایک اہم قدم اٹھایا جب ایک با اثر پارلیمانی کمیٹی نے موجودہ قوانین میں ایسی ترمیم کے حق میں ووٹ دیا، جس کے بعد جنسی حملے کرنے والوں کو عمر قید یا پھر موت کی بھی سزا دی جا سکے گی۔

Symbolbild Kindesmissbrauch

’بہت سے لوگ لڑکیوں کے ساتھ پیش آنے والے اس طرح کے واقعات کو بدنامی کے خوف سے سامنے نہیں لاتے‘‘

اس ترمیم میں چَودہ سال سے کم عمر کی لڑکیوں پر جنسی حملے کرنے والوں کو تو سزا دینے کی بات کی گئی ہے تاہم اس عمر کے لڑکوں کے حوالے سے یہ بات نہیں کی گئی ہے۔

اس سال اگست میں پاکستانی شہر قصور کے قریب ایک گاؤں میں بچوں کے ساتھ جنسی زیادتی کا ایک بڑا اسکینڈل منظر عام پر آیا تھا۔ پتہ چلا تھا کہ کم از کم 280 بچوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا گیا اور اس دوران اُن کی ویڈیوز بنائی گئیں، جن کی بنیاد پر ان بچوں اور اُن کے والدین کو بلیک میل کیا جاتا رہا۔