1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں 22 رکنی نئی وفاقی کابینہ کی حلف برداری

پاکستان میں 22 رکنی نئی وفاقی کابینہ نے حلف اٹھا لیا ہے۔ کابینہ کے نئے ارکان میں 21 وزراء جبکہ ایک خاتون وزیر مملکت شامل ہیں۔ جمعے کے روز صدر آصف علی زرداری نے ایوان صدر میں منعقدہ ایک تقریب میں کابینہ سے حلف لیا۔

default

اب تک کے وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نئی کابینہ میں شامل نہیں ہیں

نئی کابینہ میں سابق وزراء چوہدری احمد مختار، خورشید شاہ، مخدوم امین فہیم، رحمان ملک، بابر اعوان، مخدوم شہاب الدین، ثمینہ خالد گھرکی، شہباز بھٹی، ارباب عالمگیر، نویدقمر، ڈاکٹر فردوس عاشق اعوان، میاں منظور وٹو، میر ہزار خان بجرانی، عبدالحفیظ شیخ، غلام احمد بلور، اسرار اللہ زہری اور وزیر مملکت حنا ربانی کھر شامل ہیں جبکہ کابینہ میں شامل کئے گئے نئے چہروں میں میاں رضا ربانی، الحاج عمر گورگیج، چنگیز جمالی، حاجی خدا بخش راجڑ اور فاٹا سے رکن اسمبلی شوکت اللہ شامل ہیں۔

سابق وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی، وزیراطلاعات قمر زمان کائرہ، وزیر پانی و بجلی راجہ پرویز اشرف اور وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نئی کابینہ میں شامل نہیں ہیں۔ گزشتہ کابینہ کے 18 وزرائے مملکت کے برعکس نئی کابینہ میں صرف ایک وزیر مملکت شامل ہے۔

پیپلز پارٹی کی قیادت سرتوڑ کوششوں کے باوجود اپنی دو سابق اتحادی جماعتوں جے یو آئی اور ایم کیو ایم کے ارکان کو نئی کابینہ میں شامل ہونے کے لیے راضی نہیں کر سکی جبکہ اے این پی، مسلم لیگ فنکشنل اور بلوچستان نیشنل پارٹی کے وزراء نئی کابینہ میں شامل ہیں۔

Pakistan Raja Pervaiz Ashraf

نئی کابینہ میں شامل نہ کیے جانے والوں میں پانی اور بجلی کے اب تک کے وزیر راجہ پرویز اشرف بھی شامل ہیں

نئی وفاقی کابینہ میں شامل وزراء کے محکموں کا اعلان کردیا گیا ہے۔ شوکت اللہ کو ریاستوں اور سرحدی امور کا چارج دیا گیا ہے، ثمینہ خالد گرکی وزیر ماحولیات، حفیظ شیخ وزیر خزانہ حاجی خدا بخش راجڑ وزیر انسداد منشیات، جنگیز جمالی وزیر سائنس اینڈ ٹکنالوجی جبکہ منظور وٹوکو وزیر امور کشمیر مقرر کیا گیا ہے۔۔

نوید قمر نئے وزیر نجکاری جب کہ حنا ربانی کھر کو خارجہ امور کی وزیر مملکت بنایا گیا ہے۔ ارباب عالم گیر کو وزیر مواصلات اور مخدوم شہاب کو ٹکسٹائل، غلام احمد بلور ریلوے اور عمر گورگیج پوسٹل سروسز کا قلم دان دیا گیا ہے۔

میر ہزار خان بجرانی وزیر صنعت و تجارت، شہباز بھٹی وزیر اقلیتی امور، فردو عاشق اعوان وزیر اطلاعات، احمد مختار وزیر دفاع، رضا ربانی وزیر بین الصوبائی رابطہ، امین فہیم وزیر تجارت، اسرار اللہ زہری کو وزیر خوراک و زراعت اور خورشید شاہ وزیر مذہبی امور ہوں گے۔۔ سرکاری نوٹیفیکشن کے مطابق پانی و بجلی، انسانی حقوق ،آئی ٹی، پورٹس اینڈ شپنگ، دفاعی پیداور، پیٹرولیم، ہاؤسنگ، جہازرانی، بیرون ملک پاکستانیوں کی وزرات کا چارج وزیر اعظم کے پاس رہے گا۔

دوسری جانب اپوزیشن جماعت مسلم لیگ نواز نے نئی کابینہ کو حکومت کا ایک نمائشی اقدام قرار دیا ہے۔ مسلم لیگ نون کے ترجمان صدیق الفاروق کے مطابق ان کی جماعت نے حکومت کو جو دس نکاتی اصلاحاتی ایجنڈا دیا تھا، اس میں کابینہ کی تبدیلی صرف ایک آدھ نکتے کے برابر تھی۔ لیکن اس کے باوجود نئی کابینہ میں بھی ایسے وزراء کو دوبارہ شامل کیا گیا ہے، جن پر کرپشن کے سنگین الزامات تھے۔ صدیق الفاروق کے مطابق حکومت کے فیصلے سے پاکستان کی اپوزیشن جماعتوں اور عوام کو مایوسی ہوئی ہے۔

Pressekonferenz zu Kämpfen um die Taliban-Hochburg Kotkai

سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ (انتہائی بائیں جانب) کے مطابق اُنہوں نے نئی کابینہ میں شامل نہ ہو کر پارٹی قیادت کے فیصلے کو قبول کیا ہے

ادھر سابق وفاقی وزیر اطلاعات قمر زمان کائرہ کا کہنا ہے کہ انہوں نے نئی کابینہ میں شامل نہ ہو کر پارٹی قیادت کے فیصلے کو قبول کیا ہے چونکہ کابینہ کا حجم کم ہونے کے بعد کسی نہ کسی تو قربانی دینا ہی تھی۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ نئی کابینہ بہتر طور پر عوام کی خدمت کر سکے گی۔ حکومتی ذرائع کے مطابق دوسرے مرحلے میں نئے اراکین کو بھی کابینہ میں شامل کیا جائے گا۔

ادھر تجزیہ نگار وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کو نئی کابینہ میں شامل نہ کئے جانے پر تعجب کا اظہار کر رہے ہیں۔ خصوصاً ایک ایسے وقت میں، جب دو روز قبل ہی بھوٹان کے شہر تھمپو میں پاک بھارت مذاکرات کو آگے بڑھانے کے علاوہ پاکستان میں گرفتار امریکی اہلکار ریمنڈ ڈیوس کی رہائی جیسا اہم سفارتی معاملہ زیر غور ہے۔ سرکاری ذرائع کے مطابق شاہ محمود قریشی کا نام نئی کابینہ میں شامل تھا لیکن انہوں نے ذاتی وجوہات کی بناء پر آخری وقت میں کابینہ میں شامل ہونے سے معذرت کر لی۔ اِس کے بعد ایوان صدر میں کابینہ کی تقریب حلف برداری کے آغاز سے چند لمحے قبل ان کی کرسی نئے حلف لینے والے وزراء کی قطار سے اٹھا لی گئی۔

رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: امجد علی

DW.COM

ویب لنکس