1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں یوم عاشور سلامتی کے کڑے حصار میں

پاکستان بھر میں یوم عاشور عقیدت و احترام سے منایا جارہا ہے۔ دیگر شہروں کی طرح کراچی کو بھی محرم میں حساس قرار دے کر غیر معمولی حفاظتی انتظامات کئے گئے ہیں۔

default

جلوس کی گزر گاہ کو محفوظ بنانے کے لیے تمام ذیلی شاہراہوں کو بھاری کنٹینر لگا کر آٹھ محرم سے تین روز کے لیے سیل کردیا گیا ہے۔ جبکہ جلوس کے راستہ میں آنے والے تمام کاروباری مراکز کی تجارتی سرگرمیاں معطل ہیں۔ دکانوں اور اطراف کی رہائشی عمارتوں کی کئی مرتبہ تلاشی لی گئی ہے۔ پولیس نے جلوس میں شامل ہونے والی گاڑیوں اور اس کے مالکان کے لیےخصوصی پاسز کا اجراء کیا ہے جبکہ ایمبولینس گاڑیوں کو بھی خصوصی پاس کے بغیرجلوس کی گزر گاہ پر آنے کی اجازت نہیں ہے۔ ہیلی کاہپٹر سے فضائی نگرانی ان تمام اقدامات کے علاوہ ہیں۔

واضح رہے کہ گزشتہ سال عاشورہ محرم کے موقع پر لائٹ ہاؤس کے قریب بم دھماکے میں بیالیس افراد ہلاک ہوگئے تھے جس کے بعد مشتعل افراد نے جلوس کی گزر گاہ پر واقع کئی تجارتی مراکز اور دکانوں کو آگ لگادی جس سے کروڑوں روپے مالیت کی جائیداد جل کر راکھ ہوگئی۔ پولیس نے ان واقعات میں ملوث عناصر کو گرفتار بھی کیا تھا مگر بعد میں سیاسی مفاہمتوں کی بنا پر سنگین جرائم میں ملوث افراد ضمانت پر رہا ہوگئے اور جو باقی بچے وہ پولیس کی غفلت کی وجہ سے عدالت سے فرار ہوگئے۔

کراچی پولیس کے سربراہ فیاض لغاری اور نیم فوجی رینجرز کے بریگیڈئر وسیم کا کہنا ہے کہ اس سال بھی نو اور دس محرم کے جلوس پر حملے کا خطرہ تھا مگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کی حکمت عملی کی وجہ سے دہشت گرد اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکے۔

Anschlag in Karachi in Pakistan

گزشتہ محرم کے دوران عاشورہ کے جلوس میں بم دھماکے کے بعد کا منظر

صوبائی وزیر داخلہ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے ماتمی جلوس کی گزر گاہ کا دورہ کیا اس موقع پر اخبار نویسوں سے گفتگوکرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ ماتمی جلوس اور مجالس کی حفاظت کے لیے پورے صوبہ سندھ میں پچاس ہزار اہلکار تعینات کئے گئے ہیں پولیس کے آٹھ ہزار اہلکار کراچی میں یوم عاشورہ پر تعینات تھے۔ جبکہ رینجرز کےپانچ ہزار اہلکار اس کے علاوہ ہیں۔

کراچی شہر کی ایک مربوط انتظام کے تحت اس کی نگرانی کیمروں سے کی جارہی ہے۔ ڈاکٹر ذوالفقار مرزا نے کہا کہ دہشت گرد اپنے مقاصد میں کامیاب نہیں ہوسکتے۔ انہیں تمام مکاتب فکر سے تعاون ملا ہے۔ ادھر سخت حفاظتی اقدامات کے باوجود سندھ کے شہر شکار پور میں عاشورہ کی مجلس میں خود کش حملہ آور کو پولیس نے فائرنگ کر کے ہلاک کردیا۔

ادھر ڈی آئی جی اقبال محمود نے عشورہ محرم کے مرکزی جلوس کے اختتام پر اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ جلوس جن مقامات سے گزر چکے ہیں ان راستوں سے تعزیہ کے جلوس گزارے جارہے ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM