1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں ہیپیٹائٹس سی کی دوا کو درآمد کرنے کی منظوری

پاکستان نے امریکا سے ایک مہنگی ترین ہیپیٹائٹس سی کی دوا کو درآمد کرنے کی منظوری دے دی ہے تاکہ پاکستان کے لگ بھگ ان 8 ملین افراد کے علاج میں بہتری آسکے جو اس موذی مرض میں مبتلا ہیں۔

صحت کے ماہرین ’سووالدی‘ نامی دوا کو، جو سن 2013 سے خریداری کے لیے میسر ہے، ایک ’گیم چینجر‘ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ امریکی سینیٹ کی ایک رپورٹ کے مطابق امریکا میں اس دوا کی ایک گولی کی قیمت 1000 امریکی ڈالر ہے اور ہیپیٹائٹس سی کے مکمل علاج پر کل 84000 ڈالڑ تک کے اخراجات آتے ہیں۔ سووالدی بنانے والی دوا ساز کمپنی گیلیڈ کو اس دوا کے نہایت مہنگے ہونے پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا تھا۔

پاکستانی انتظامیہ کی منظوری کے بعد اب یہ دوا ملک بھر میں فارمیسی کے اسٹورزمیں فروخت ہو رہی ہے۔ یہ فارمیسی اس دوا کی 24 گولیوں کو314 ڈالر میں بیچ رہی ہے۔ حکومت نے مقامی کمپنیوں کو کہا ہے کہ وہ اس دوا کی نقل کو جلد از جلد بنانا شروع کری‍ں۔

فرانسیسی خبر رساں ایجنسی کو پاکستان کی وزارت صحت کے ایک سینیئر اہلکار نے انٹرویو میں کہا ہے، ’’ پاکستان میں لگ بھگ 80 ملین افراد اس بیماری کا شکار ہیں، ہر سال 80000 افراد اس بیماری کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں۔ ‘‘

Symbolbild - menschliche Leber

ہر سال 80000 افراد اس بیماری کے سبب ہلاک ہو جاتے ہیں

وزارت صحت کے اس اہلکار نے یہ بھی کہا کہ اتنی بڑی تعداد میں اس بیماری میں مبتلا افراد کے باعث اس دوائی کی باقاعدہ رجسٹریشن سے پہلے ہی حکومت نے امریکا سے اس دوائی کی برآمد کی منظوری دے دی تھی۔ صحت کے شعبے کے ایک اور اہلکار کا کہنا تھا کہ ہم مقامی دوا ساز کمپنیوں کو اس دوائی کی معیاری نقل بنانے کے لیے کہہ رہے ہیں۔ گزشتہ برس اکتوبر میں پاکستان ڈرگ اتھارٹی کو اس دوا کے بنانے کے لیے 61 دوا ساز کمپنیوں نے درخواست دی تھی جن میں سے 14 کمپنیوں کو یہ دوا بنانے کی منظوری دے دی گئی ہے۔

واضح رہے کہ ہیپیٹائٹس سی جگر کی ایک ایسی بیماری ہے جو آلودہ انجکشنزکے ذریعے پھیلتی ہے۔ اس بیماری میں مبتلا افراد یہ بیماری جنسی عمل کے ذریعے دوسرے شخص کو اور اس بیماری سے متاثرہ ماں بننے والی خواتین پیدا ہونے والے بچوں میں یہ بیماری منتقل کر سکتی ہیں۔

DW.COM