1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ہیضے کو پھیلنے سے روک لیا جائے گا، یو ایس ایڈ

پاکستان کے سیلاب متاثرین کی مدد کرنے والے امریکی رضا کاروں کو امید ہے کہ سیلاب زدہ خطوں میں بین الاقوامی اور پاکستانی حکومت کی کوششوں سے ہیضے کی وباء کو پھیلنے سے روک لیا جائے گا۔

default

خیبر پختونخوا کے ایک کیمپ کا منظر

بین الاقوامی امداد کے سب سے بڑے اداے، یو ایس ایجنسی فار انٹرنیشنل ڈوبلپمنٹ ’’یو ایس ایڈ‘‘ کے قائم مقام ڈائریکٹر مارک ویرڈ کے بقول اب تک ہیضے کے ایک کیس کی تصدیق ہوچکی ہے اور متعدد دیگر مشکوک کیسز موجود ہیں۔ ان کے مطابق ایک کروڑ چالیس لاکھ پاکستانی سیلاب سے متاثر ہیں۔ ہیضہ کے واحد کیس کی تصدیق خیبر پختونخوا صوبے کی وادی سوات میں ہوئی ہے۔ یو این کے دفتر برائے انسانی معاملات کے پاکستان میں رابطہ کار Maurizio Giuliano کے مطابق کم از کم چھتیس ہزار دیگر افراد پانی سے لاحق ہونے والی دیگر بیماریوں میں متبلا ہیں۔

یو ایس ایڈ کے ویرڈ پر امید ہیں کہ ہیضے سے ممکنہ طور پر متاثر ہونے والے علاقوں کا پہلے سے علم ہے اسی لئے جیسے ہی امداد پہنچے گی فوری طورپر وہاں پہنچادی جائے گی۔ امداد سے ان کا اشارہ عالمی ادارہ ء صحت کے اس نظام کی جانب ہے جس سے پانی کے ذریعے پھیلنے والی بیماریوں کا فوری طور پر پتہ چلایا جاتا ہے۔

NO FLASH Pakistan Überschwemmung Flut

ایک بزرگ شہری تباہ حال مکان میں نصب نل سے پانی پیتے ہوئے

یو ایس ایڈ کے مطابق پاکستان کی صورتحال کو دیکھتے ہوئے ہیضہ پھیلنےکے امکانات یقینی ہیں تاہم بروقت کوششوں سے اس کو وباء کی شکل اختیار کرنے سے روکا جاسکتا ہے۔ متاثرین کے لئے ایک اور خوشی کی بات یہ ہے کہ محکمہ موسمیات کے مطابق اگلے چند دنوں میں سیلاب کے نئے ریلے کے خدشات انتہائی کم ہیں۔

ہیضہ بنیادی طور پر آلودہ پانی کے ذریعے آنتوں میں بیکٹیریا کے پھیلاؤ سے لاحق ہونے والی بیماری ہے جو بعض اوقات جان لیوا بھی ثابت ہوسکتی ہے۔

ویرڈ نے امریکی حکام پر زور دیا ہے کہ اب وہ ہیلی کاپٹروں کے ذریعے متاثرین کو محفوظ مقام پر منتقل کرنے کے بجائے ان کے علاج معالجے کی جانب توجہ دیں۔ امریکی حکومت نے سیلاب زدگان کی بحالی، ان کے لئے مکانات کی تعمیر اور قرض کی سہولتوں کے لئے 75 ملین ڈالر فراہم کئے ہیں۔ جرمنی نے بھی پاکستانی سیلاب زدگان کے لئے دی جانے والی امداد میں اضافے کا اعلان کیا ہے۔ جرمن حکام کے مطابق پندرہ ملین یورو کی امدادی رقم پینے کے صاف پانی، طبی مقاصد اور خوارک کے حصول پر خرچ کی جائے گی۔

Pakistan Flutkatastrophe Hilfe

مظفر گڑھ میں امدادی سامان متاثرین کی جانب پھینکا جارہا ہے

اقوام متحدہ نے عالمی برادی سے پاکستان کے لئے 460 ملین ڈالر کی امداد فراہم کرنے کی اپیل کی ہے۔ یو این کے سیکریٹری جنرل بان کی مون متوقع طور پر اتوار کو پاکستان پہنچ کر خود صورتحال کا جائزہ لیں گے۔

دریں اثنا بڑا سیلابی ریلہ جنوبی صوبے سندھ کے شہر جیکب آباد کی جانب گامزن ہے جہاں کی نوے فیصد آباد کو محفوظ مقام پر منتقل کردیا گیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق پاکستان کی تاریخ کے اس بدترین سیلاب سے کم سے کم 16 سو ہلاکتیں ہوئی ہیں۔ اسلام آباد حکومت 1343 ہلاکتوں کی تصدیق کرتے ہوئے متاثرین کی تعداد دو کروڑ بتارہی ہے۔

رپورٹ : شادی خان سیف

ادارت : عاطف بلوچ

DW.COM