1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں ہیجڑوں کی قانونی جیت

پاکستان میں ہیجڑوں کو علیٰحدہ جنس کے طور پر شناخت اختیار کرنے کا حق دے دیا گیا ہے۔ ماہرین قانون نے اس فیصلے کو ہیجڑوں کے حقوق کو یقینی بنانے کی جانب ایک اہم قدم قرار دیا ہے۔

default

پاکستان سپریم کورٹ کے چیف جسٹس افتخار چوہدری نے بدھ کو ایک فیصلے میں حکومت کو ہدایت کی کہ ہیجڑوں کو قومی شناختی کارڈ جاری کئے جائیں، جن پر ان کی جنسی شناخت تحریر ہو۔ ساتھ ہی ہیجڑوں کو ہراساں نہ کئے جانے کی یقین دہانی کرنے کا حکم بھی جاری کیا گیا ہے۔

عدالت میں ہیجڑوں کی طرف سے پیش ہونے والے وکیل محمد اسلم خاکی کا کہنا ہے کہ رجسٹریشن اتھارٹی کو قومی شناختی کارڈ میں خواجہ سراؤں کی جنس ظاہر کرنے کے لئے ایک علیٰحدہ خانہ بنانے کی ہدایت کی گئی ہے۔ انہوں نے ہیجڑوں کے حوالے سے بتایا کہ سپریم کورٹ کی اس ہدایت پر عمل سے انہیں اُن کے حقوق حاصل ہوں گے۔ خاکی نے بتایا کہ عدالت نے ہیجڑوں کی میراث کے حقوق کے تحفظ کا حکم بھی جاری کیا ہے۔

دوسری جانب ہیجڑوں کی ایک ایسوسی ایشن نے بھی چیف جسٹس افتخار چوہدری کے اس فیصلے کا خیرمقدم کیا ہے۔ ایسوسی ایشن کے صدر الماس بوبی کا کہنا ہے کہ پاکستان کی باسٹھ سالہ تاریخ میں یہ پہلا موقع ہے، جب ہیجڑوں کی فلاح کے لئے کوئی قدم اٹھایا گیا ہے۔

Pakistan Oberster Richter Iftikhar Mohammed Chaudhry abgesetzt

چیف جسٹس افتخار چوہدری

الماس بوبی کا کہنا ہے کہ ان کی کمیونٹی کو شناخت اور احترام دینے کی جانب یہ ایک اہم قدم ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس سے ان کی شناخت انسان کے طور پر ہو سکے گی۔

خبر رساں ادارے روئٹرز کے مطابق پاکستان میں خواجہ سراؤں کو امتیازی سلوک کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان کی بیشتر تعداد پسماندہ علاقوں میں آباد ہے جبکہ انہیں گزربسر کے لئے شادیوں اور میلوں میں رقص اور بھیک کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ بعض کو تو جسم فروشی میں ملوث بھی پایا گیا ہے۔

ان پر تعلیم و صحت کی سہولتوں کے دروازے اکثر بند کر دئے جاتے ہیں۔ جائیداد خریدنے یا مکان کرایے پر حاصل کرنے میں انہیں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جبکہ ان کے اپنے خاندان بھی انہیں میراث کے حقدار نہیں سمجھتے۔

معاشرہ انہیں خدا کی ٹھکرائی ہوئی مخلوق گردانتا ہے۔ یہ بھی سجھا جاتا ہے کہ ان کی بددعا اثر رکھتی ہے، اس لئے لوگ ان سے خوفزدہ بھی رہتے ہیں۔

پاکستان میں ہیجڑوں کی آبادی کا کوئی ریکارڈ نہیں ہے۔ تاہم ان کی کمیونٹی کے ذرائع کے مطابق ان کی تعداد تقریباً تین لاکھ ہے۔ البتہ سپریم کورٹ رواں برس میں حکومت کو ہیجڑوں کی مردم شماری کا حکم جاری کر چکی ہے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: امجد علی

DW.COM