1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ہنگامی حالت نافذ نہیں ہو رہی

پاکستان میں صدر جنرل پرویز مشرف نے ملک میں ہنگامی حالت نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے اور یوں اپنے اُن قریبی مشیروں کے مشورے کو نظر انداز کر دیا ہے، جو پاکستان کو مزید عدم استحکام سے بچانے کے لئے سخت کارروائی پر زور دے رہے تھے۔

پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف

پاکستانی صدر جنرل پرویز مشرف

ہنگامی حالت کے نفاذ کی صورت میں جہاں بنیادی شہری حقوق پر زَد پڑتی اور عدلیہ کے اختیارات محدود ہو جاتے، وہیں عنقریب مجوزہ انتخابات بھی ملتوی ہو جاتے۔ وزیر اطلاعات محمد علی دُرّانی کے مطابق صدر نے کچھ سیاسی جماعتوں اور دیگر حلقوں کی طرف سے دی گئی تجاویز کو رَدّ کرتے ہوئے ایمرجنسی نافذ نہ کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔ اُنہوں نے کہا، اِس کی وجہ یہ ہے کہ صدر اور موجودہ حکومت ترجیحی بنیادوں پر آزادانہ، منصفانہ اور غیر جانبدارانہ بنیادوں پر عام انتخابات منعقد کروانا چاہتے ہیں۔

اکتوبر سن 1999ء میں ایک فوجی بغاوَت کے ذریعے برسرِ اقتدار آنے والے صدر مشرف کو آج کل اپنے دَورِ حکمرانی کے سب سے بڑے چیلنج کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واشنگٹن میں قائم ادارے انٹرنیشنل ری پبلکن انسٹی ٹیوٹ نے جمعرات آٹھ اگست کو ایک نئے سروے کے نتائج جاری کئے ہیں، جس کے مطابق پاکستانی عوام کی اکثریت کی خواہش یہ ہے کہ صدر چیف آف دا آرمی سٹاف کا عہدہ چھوڑ دیں۔