1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ہندو شادیوں کے اندراج کی جانب پہلا قدم

پاکستان میں قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی نے ایک ایسے مسودہ قانون کی منظوری دے دی ہے، جس سے ہندو برادری کی شادیوں کا اندراج ہو سکے گا۔ ہندو لڑکے اور لڑکی کی شادی پنڈت کرائیں گے لیکن شادی کا رجسٹرار علیحدہ ہو گا۔

مسلم اکثریتی پاکستان میں تیس لاکھ کے لگ بھگ ہندو برادری کی شادیوں کے اندراج کا کوئی قانون نہیں اور یہ برادری اس بارے میں قانون سازی کا مطالبہ کرتی رہی ہے۔ اب ہندو میرج بل 2015ء میں ہندو جوڑے کی عمر کم ازکم 18برس کرنے تجویز منظور کر لی گئی۔ بل کے متن کے مطابق ہندو لڑکے اور لڑکی کی شادی پنڈت کرائیں گے لیکن شادی کا رجسٹرار علیحدہ ہو گا۔ ہندو لڑکےیا لڑکی نے مذہب بدلا تو شادی ٹوٹ جائے گی، علیحدگی کے بعد ہندو لڑکا لڑکی میں سمجھوتا ہوجائے تو دوبارہ شادی کی ضرورت نہیں، ویسے ہی ساتھ رہ سکیں گے۔ ہندو جوڑے کی شادی کی رجسٹریشن کی جائےگی، مذہب تبدیل کرنے پر شادی ازخود ختم ہوجائےگی۔ اگر شادی کے بعد شوہر ظالمانہ برتاؤ کرے یا مسلسل دو سال تک ازدواجی تعلقات نہ رکھے تو خاتون کو علیحدگی کا اختیار مل جائےگا۔

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے قانون وانصاف کی منظوری کے بعد قانون سازی کے لیے اس مسودے کو قومی اسمبلی اور سینیٹ میں پیش کیا جائے گا۔ وزارت قانون کے حکام کے مطابق بل کی کمیٹی سے متفقہ منظوری کے بعد اس کا اطلاق ملک بھر میں ہوگا تاہم اس سے قبل صوبوں کو بل کے حق میں قراردار منظور کرنا ہوگی۔ سپریم کورٹ نے قرار دیا تھا کہ پاکستان کے آئین کے آرٹیکل 144 کے تحت ہندوؤں کی شادی کے ایک قومی قانون کے لیے ضروری ہے کہ چاروں صوبوں کی اسمبلیوں میں اس سلسلے میں قراردادیں منظور ہوں۔ اٹھارویں ترمیم کے بعد ہندوؤں کی شادی کے معاملے کا اختیار صوبوں کے پاس ہے۔ ہندوؤں کے شادیوں کے اندراج کے لیے ایک قومی ادارہ قائم کرنے لیے صوبائی اسمبلیوں کو عمل میں شامل کرنا ہو گا۔

محمود بشیر ورک کی زیر صدارت کمیٹی کے اجلاس میں اتفاق کیاگیاکہ شادی کے بعد مذہب تبدیل کرنے پر شادی ختم تصور ہوگی جبکہ مذہب تبدیل کرنے والا فرد بیوی یا شوہر بچوں کے نان نفقے کا پابند ہوگا۔ اجلاس میں شریک تین ہندو ارکان اسمبلی نے کہا کہ ایسا کرنے سے زبردستی مذاہب تبدیل کرنے کے واقعات نہیں رکیں گے۔ مولانا محمد خان شیرانی نے ہندو لڑکے اور لڑکی کی شادی کی عمر کم سے کم اٹھارہ سال مقرر کرنے کی تجویز کی مخالفت کی۔ ان کا کہنا تھا کہ تمام مذاہب متفق ہیں کہ بلوغت پر شادی کر دی جائے تاہم کمیٹی نے بل کی متفقہ منظوری دے دی ۔

کئی دہائیوں سے پاکستان میں آباد ہندو برادری کا یہ موقف رہا ہے کہ شادی اور طلاق کے اندارج سے متعلق قانون نہ ہونےکی وجہ سے بہت سے قانونی معاملات میں کسی جوڑے کے لیے اپنی شادی شدہ حیثیت کو ثابت کرنا ممکن نہیں۔ یوں ہندو برادری کو نہ صرف جبری شادیوں اور مذہب تبدیل کرنے کے مسائل کا سامنا ہے بلکہ طلاق اور قومی شناختی کارڈ کے حصول اور وراثت میں بھی مشکلات درپیش ہیں۔

وکیل معروف مٹھا کے مطابق یہ ہندوؤں کے لیے تقریباً ناممکن ہے کہ وہ عدالتوں میں اپنی شادی کو ثابت کر سکیں اور باضابطہ قانون سازی نہ ہونے کے باعث جبری تبدیلئ مذہب اور بعدازاں شادیوں کو فروغ ملتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ہندوؤں کی شادیاں رجسٹر نہ ہونے کے باعث خواتین کو دستاویزات کے حصول میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑتا ہے جس کے باعث حکومتی خدمات، تعلیم ، بیرونِ ملک یا دوسرے علاقوں میں سفر میں بھی دشواریاں پیش آتی ہیں۔

اسی پس منظر میں قومی اسمبلی میں ہندو برادری سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی رمیش کمار وانکوانی نے بل کی منظوری کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔ پاکستان مسلم لیگ نواز کے رکنِ پارلیمان وانکوانی ان ارکانِ پارلیمان میں سے ایک ہیں، جنہوں نے دو ہزار چودہ میں ہندو میرج بل قومی اسمبلی میں پیش کیا تھا۔

انہوں نے کہا کہ صوبۂ سندھ میں اکثر اوقات مقامی جاگیردار شادی شدہ خواتین کو اغوا کر لیتے ہیں اور مسلمان مرد سے شادی کروانے کے لیے اس کا مذہب تبدیل کروا دیتے ہیں۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ ان کے پاس اپنی گزشتہ شادی کو ثابت کرنے کے لیے کوئی دستاویزی شواہد موجود نہیں ہوتے۔

ڈاکٹر رمیش نے کہا کہ قانون کی منظوری سے جبری تبدیلئ مذہب اور کم عمر لڑکیوں کی شادی کو روکا جا سکے گا۔