1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں گیس کی قیمتوں میں چودہ سے دو سو فیصد اضافے کی منظوری، عوام پریشان

پاکستان میں داخلی سلامتی اور سیاسی عدم استحکام کے مسائل سے دوچار عوام کے لیے حکومت نے نئے سال کے آغاز پر سوئی گیس کی قیمتوں میں 14 سے لے کر 200 فیصد تک اضافے کی منظوری دے دی ہے۔

default

یہ منظوری ایسے وقت میں دی گئی ہے جب ملک کے مختلف حصوں میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔

پاکستان میں تیل و گیس کی قیمتوں کا تعین کرنے والے ادارے اوگرا کے مطابق اس سے قبل اگست میں گیس کی قیمتوں میں ساڑھے تیرہ فیصد اضافہ کیا گیا تھا۔ قدرتی گیس کے ساتھ ساتھ گاڑیوں میں استعمال ہونے والی سی این جی کی قیمتوں میں بھی 64 فیصد اضافے کی سفارش کی گئی ہے۔ حکومت کی جانب سے گیس کی قیمتوں میں اضافے کے فیصلے پر عوام نے شدید ردعمل کا اظہار کیا ہے۔ اسلام آباد میں ایک گھریلو خاتون کا کہنا تھا کہ ایک تو گیس آتی ہی نہیں اور اوپر سے اس کی قیمتوں میں اضافہ عوام سے بھیانک مذاق ہے۔انہوں نے کہا، ’’ ناشتے سے محروم ہو گئے ہیں، ایک روٹی یا پراٹھا تندور سے بارہ سے پندرہ روپے کا ملتا ہے، اگر پانچ لوگ ہوں تو سو روپے ناشتے میں لگا دیں تو دن کے کھانے پر کتنا پیسہ لگے گا۔‘‘

Flugzeugabsturz Pakistan air blue

پاکستان میں گاڑیوں کی بڑی تعداد کمپریسڈ نیچرل گیس یا سی این جی پر چلتی ہے

اسلام آباد کی ایک مارکیٹ میں خریداری کے لیے آئے ہوئے ایک شخص کا کہنا تھا، ’’پہلے پٹرول کی قیمتوں میں اضافے سے ہر چیز مہنگی ہوجاتی تھی، اب اسی طرح گیس کی قیمتوں میں اضافے سے چیزیں مہنگی ہوجاتی ہیں۔ سی این جی پر گاڑیاں چلتی ہیں اور جب گیس نہ ملے تو گاڑیاں کھڑی ہو جاتی ہیں۔ پھر ظاہری سی بات ہے مہنگائی بڑھتی جاتی ہے۔‘‘

دوسری جانب گیس انفراسٹرکچر ڈویلپمنٹ ٹیکس کا نفاذ یکم جنوری سے ہوگا۔ حکومت کا مؤقف ہے کہ یہ ٹیکس مختلف شرح سے سی این جی، فرٹیلائزر بنانے والے اداروں اور نجی پاور کمپنیوں پر عائد ہو گا۔

پٹرولیم و قدرتی وسائل کے وفاقی وزیر ڈاکٹر عاصم حسین کا کہنا ہے کہ گیس کی قیمتوں میں حالیہ اضافے کی کئی وجوہات ہیں جن میں گیس کی قلت، گیس کا ضیاع وغیرہ شامل ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت اس بحران سے نمٹنے کے لئے آئندہ دسمبر تک قدرتی مائع گیس بیرون ملک سے درآمد کرے گی ۔

جب ان سے پوچھا گیا کہ یہ گیس تو 18 ڈالر فی یونٹ کے حساب سے ملے گی، جسے عوام کس طرح برداشت کریں گے تو اس پر ڈاکٹر عاصم حسین نے کہا، ’’یا تو 18 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو گیس لے لیں، جو دستیاب ہو گی، یا پھر گیس ہی نہیں ہو گی۔ آپ کی مرضی ہے جب گیس نہیں ہے تو پھر اس کی جو بین الاقوامی قیمت ہے اس پر لے لیں یا پھر کہیں کہ ہمیں چاہیے ہی نہیں۔ جب آپ اس کی استطاعت نہیں رکھتے تو خریدیں بھی مت۔‘‘

Proteste in Pakistan

پاکستان میں گیس کی بدترین لوڈ شیڈنگ پر عوامی احتجاج کا سلسلہ جاری ہے

اسلام آباد کی سبزی اور فروٹ منڈی میں بیٹھے ایک آڑھتی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ حکومت کی جانب سے کھاد بنانے والے کارخانوں کے لیے گیس کی قیمتوں میں 200 فیصد سے زائد اضافے سے اس کا اثر عام صارف پر بھی پڑے گا۔ انہوں نے کہا کہ سی این جی کی قیمتوں میں اضافے کا اعلان بھی عام صارف کی کمر توڑ دے گا۔ انہوں نے کہا، ’’ایک تو ہماری 80 فیصد سے زائد چھوٹی گاڑیاں سی این جی پر ہیں ان کو گیس نہیں ملتی جس سے ٹرانسپورٹیشن کی لاگت اتنی بڑھ جاتی ہے کہ چھوٹا دکاندار جب ادھر سے پٹرول پر سامان لے کر جاتا ہے تو اس کے نتیجے میں فروٹ اور سبزی اتنی مہنگی صارفین کو ملتی ہے کہ وہ بازار کا رخ ہی نہیں کرتے۔‘‘

پاکستان میں سال 2011ء کے دوران پٹرول ، بجلی اور گیس کی قیمتوں میں اضافے کے ساتھ ساتھ ان اشیاءکی قلت نے عوام کو نہ صرف مختلف مسائل کا شکار کیے رکھا بلکہ وہ زیادہ وقت سڑکوں پر احتجاج ہی کرتے رہے۔


رپورٹ: شکور رحیم، اسلام آباد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM