1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں گھمبیر ہوتا ہوا گیس کا بحران

ایٹمی صلاحیت کے حامل جنوبی ایشیائی ملک پاکستان میں جہاں پہلے ہی بجلی کی لوڈ شیڈنگ نے شہریوں کو مشکلات سے دوچار کر رکھا ہے وہاں اب گیس کا بحران بھی شدت اختیار کرنے لگا ہے۔

ملک میں حالیہ بارشوں کے بعد آنے والی سردی کی شدید لہر کی وجہ سے گیس کا استعمال بڑھ گیا ہے۔ کھاد اور بجلی بنانے والے کارخانوں اور سی این جی اسٹیشنوں کو گیس کی فراہمی معطل کئے جانے کے باوجود گھریلو صارفین کے لیے گیس کی مکمل فراہمی ممکن نہیں ہو پا رہی۔

اس صورتحال نے شہریوں کے معمولات زندگی کو بہت بری طرح متاثر کیا ہے۔ رحیم یار خان کی فوزیہ بی بی ایک ایسے علاقے میں رہتی ہیں، جہاں پاس ہی ضلع رحیم یار خان کے ڈپٹی کمشنر کا دفتر واقع ہے۔ فوزیہ بتاتی ہیں کہ رات کو دس بجے گیس چلی جاتی ہے اور صبح پانچ بجے آتی ہے۔ دن بھر میں جو تھوڑی بہت گیس ملتی ہے اس کا پریشر اتنا کم ہوتا ہے کہ اس سے کھانا پکانا بہت مشکل ہو جاتا ہے، ’’کئی دنوں سے بچے بغیر مناسب ناشتے کے سکول جا رہے ہیں۔‘‘

پاکستان کے وزیر پٹرولیم شاہد خاقان عباسی کے مطابق پنجاب کو اس وقت 40 فی صد گیس کی قلت کا سامنا ہے اس لیے رات کے اوقات میں لوڈ شیڈنگ کرنا پڑ رہی ہے۔ ادھر لاہور میں بچوں، خواتین اور بزرگ شہریوں نے گیس کی لوڈ شیڈنگ پر چولہے اور سلنڈرز اٹھا کر احتجاجی مظاہرے بھی کیے ہیں۔ بعض لوگوں کا کہنا ہے کہ گیس کے نہ آنے کی وجہ سے انہیں ایل پی جی سلنڈر کی گیس استعمال کرنا پڑتی ہے، جس کی وجہ سے ان کے گھر کا بجٹ متاثر ہو رہا ہے۔

اگرچہ پاکستان نے اس سال قدرتی گیس (آر ایل این جی) بھی درآمد کی ہے لیکن یہ گیس مہنگی ہونے کی وجہ سے حکومت اسے گھریلو صارفین کو دینے سے گریزاں ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ گھریلو صارفین کو گیس پہنچانے والی ٹرانسمیشن لائنیں بھی اتنی پرانی ہیں کہ موجودہ نیٹ ورک کے ذریعے اس گیس کو گھریلو صارفین تک نہیں پہنچایا جا سکتا۔

ایوان صنعت و تجارت لاہور کے صدر عبدالباسط نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گیس کی عدم دستیابی سے صنعتی صارفین شدید مشکلات سے دوچار ہیں۔ پاکستان میں صنعتوں کو گیس کی فراہمی نہ ہو سکنے کی خبریں جب ان ملکوں میں جاتی ہیں جہاں سے ہمیں آرڈرز ملے ہوئے ہیں، وہاں اس کا اچھا اثر نہیں پڑتا۔ ان کے بقول گیس کی عدم دستیابی سے نہ صرف انڈسٹری اپنی پوری استعداد پر کام نہیں کر پا رہی ہے بلکہ کاروباری لاگت میں بھی اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔

عبدالباسط کے بقول گیس کی عدم فراہمی کے علاوہ گیس کی بڑھتی ہوئی قیمتیں بھی ایک اہم مئسلہ بن چکی ہیں۔ ان کے مطابق صورتحال یہ ہے کہ پاکستان کے مختلف صوبوں میں صارفین کے لیے گیس کی قیمتیں مختلف ہیں۔ اس وجہ سے کئی صوبوں کے صنعتی صارفین بیرون ملک تو کیا دوسرے صوبوں کا بھی مقابلہ نہیں کر سکتے۔

پاکستان میں حکومت نے ٹیکسٹائل سیکٹر سے گیس کی بلا تعطل فراہمی کا وعدہ کر رکھا ہے لیکن آل پاکستان ٹیکسٹائل ملز ایسوسی ایشن اپٹما کے سکریٹری انیس احمد بتاتے ہیں کہ ٹیکسٹائل صنعتوں کو گیس کی فراہمی کی صورتحال ماضی کی نسبت بہت بہتر تو ہے لیکن پھر بھی کہیں گیس ملنے اور کہیں نہ ملنے کی اطلاعات بھی آتی رہتی ہیں۔

بعض ماہرین اس خدشے کا اظہار کر رہے ہیں کہ ملک کی دو بڑی کھاد فیکٹریوں کو گیس کی عدم فراہمی کی وجہ سے آنے والے ربیع سیزن میں کسانوں کو یوریا کھاد کی فراہمی مشکل ہو سکتی ہے۔

سوئی نادرن گیس کمپنی کے ترجمان نے ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ گیس کے بحران کے فروری تک جاری رہنے کا امکان ہے۔ ان کے بقول اس سال گیس کی فراہمی میں 328 ملین مکعب فٹ روزانہ کا اضافہ کیا گیا ہے، جس سے گیس کی روزانہ کی فراہمی 1554 ملین مکعب فٹ تک پہنچ گئی ہے۔ یاد رہے پنجاب اور کے پی کے کو گیس فراہم کرنے والی اس کمپنی کو صارفین کی طرف سے گیس کی، جس روزانہ ڈیمانڈ کا سامنا ہے، وہ 1800 سے 1900 ملین مکعب فٹ کے قریب بتائی جا رہی ہے۔

ایس این جی پی ایل کے حکام کے مطابق گیس کا کم پریشر زیادہ گیس کے حصول کے لیے بعض صارفین کی طرف سے لگائے جانے والے کمپریسرز کی وجہ سے بھی ہے اور ایسے صارفین کے خلاف کارروائی کی جا رہی ہے۔

اگرچہ گیس کی قلت کا سامنا کے پی کے کے لوگوں کو بھی ہے تاہم وہاں اس کی شدت اتنی زیادہ نہیں ہے۔ کراچی سمیت سندھ کے بھی کئی علاقوں سے گیس کی قلت کی خبریں آ رہی ہیں۔ سندھ میں بھی سی این جی سیکٹر کو گیس کی فراہمی روک کر گھریلو صارفین کی ضروریات کو پورا کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ ادھر چئیرمین سینٹ میاں رضا ربانی نے سینٹر ڈاکٹر اشوک کمار کی نشان دہی پر ایک خصوصی کمیٹی بنا دی ہے جو بلوچستان میں گیس کی قلت اور چوری کے حوالے سے حقائق سامنے لائے گی۔

گیس کی قلت کا ایک تکلیف دہ پہلو یہ بھی ہے کہ بعض علاقوں میں لوگ درخت کاٹ اور لکڑیاں جلا کر ایندھن کی ضروریات پوری کر رہے ہیں۔

ماہرین کے مطابق پاکستانی حکومت کو توانائی کی ضروریات پوری کرنے کے لیے دیر پا منصوبہ بندی کرنے کی ضرورت ہے۔