1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں گندم کی وافر پیداوار، آٹا پھر بھی مہنگا

پاکستان میں اس وقت ملکی ضروریات سے بھی 10 لاکھ ٹن زیادہ گندم موجود ہے۔ بد قسمتی سے گندم کے یہ بھر پور ذخائر بھی پاکستان میں حکام ، عوام اور کاشتکاروں کو خوشیاں فراہم کرنے کا ذریعہ نہیں بن رہے ہیں۔

default

محکمہ خوراک کی پریشانی یہ ہے کہ ان کے پاس گندم کو ذخیرہ کرنے کیلئے محفوظ اور سٹوریج کے انتظامات نہیں ہیں۔ گندم کے بہت سے کاشتکاروں کو گلہ ہے کہ گندم کی خریداری کے لئے نئی اور پیچیدہ حکومتی پالیسی کی وجہ سے انہیں اس بار گندم کی فصل کا مقررہ معاوضہ نہیں مل سکا ہے۔ عوام کے لئے دکھ کی بات یہ ہے کہ وافر مقدار میں گندم کی موجودگی کے باوجود آٹے کی قیمتیں کم نہ ہو سکیں کیونکہ عالمی منڈیوں میں گندم کی قیمت کم ہونے کے باوجود پاکستانی حکومت نقصان اٹھا کر سستے داموں گندم برآمد کرنے کے بارے میں سوچ رہی ہے۔

اس سال پاکستان میں گندم کا پیداواری ہدف دو کروڑ پچاس لاکھ ٹن مقرر کیا گیا تھا سندھ، خیبر پختونخوا اور بلوچستان جیسے صوبوں میں تو تقریباً ٹارگٹ کے مطابق گندم پیدا ہوئی ہے لیکن صوبہ پنجاب میں ایک کروڑ بانوے لاکھ ٹن گندم کی پیداوار کا ہدف ابھی تک پورا حاصل نہیں ہو سکا ہے۔

پاکستان میں اس سال گندم کی مجموعی پیداوار دو کروڑ بیس لاکھ ٹن کے قریب بتائی جا رہی ہےجبکہ 30 لاکھ ٹن کے گندم کے پچھلے سال کے ذخائربھی موجود ہیں۔ ملک میں خوراک ، بیج اور سیڈ کی ضروریات کیلئے گندم کی سالانہ ضرورت دو کروڑ چالیس لاکھ ٹن کے قریب ہے۔

Flash-Galerie Virtuelles Wasser Getreidefeld

پاکستان میں گزشتہ سال اور اس سال گندم کی پیداوار بہت زیادہ ہوئی

فارمر ایسو سی ایٹس پاکستان کی ڈائریکٹر اور گندم کی کاشتکار رابعہ سلطان کہتی ہیں کہ اس سال سرکاری محکمے چھوٹے کاشتکاروں سے گندم خریدنے میں ناکام رہے ہیں۔ اس لئے وہ اپنی گندم سستے داموں مڈل مین ، آڑھتیوں یا فلور مل مالکان کو بیچنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

پاکستان ایگری فارم کے سربراہ ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ حکومت کی گندم کی خریداری کی ناقص منصوبہ بندی کی وجہ سے جن کاشتکاروں نے اپنی فصل سرکاری نرخوں کی بجائے اونے پونے داموں کھلی مارکیٹ میں فروخت کی ہے انہیں مجموعی طور پر 12 ارب روپے کا نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

Deutschland Öl aus Getreide Landwirt mit Stroh

پاکستان ایک زرعی ملک ہےلیکن وہاں عوام کو زرعی اجناس ان کے قوت خرید کے مطابق میسر نہیں

ان کے مطابق دکھ کی بات یہ ہے کہ فلور ملوں اور آٹا چکیوں کے وہ مالکان جنہوں نے کاشتکاروں سے 24 روپے کلو گرام والی گندم 20 روپے فی کلو گرام کے حساب سے خریدی ہے وہ سستی گندم سے تیار کیا ہوا آٹا 26 سے 30 روپے فی کلو گرام کے حساب سے بیچ رہے ہیں۔

داتا علی ہجویری کے دربار کے باہر بیٹھے ہوئے ایک پاکستانی شہری دین محمد نے بتایا کہ حکومت کو چاہئے کہ فاضل گندم غریبوں میں مفت تقسیم کر دے لیکن پنجاب کے سیکرٹری خوراک عرفان الہیٰ کے بقول وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی ہدایت پر مشیر خزانہ ڈاکٹر حفیظ پاشا کی صدارت میں ایک خصوصی کمیٹی قائم کر دی گئی ہے جو 950 روپے فی من کے حساب سے خریدی جانے والی گندم کو سستے داموں عالمی مارکیٹ میں بیچنے کے انتظامات کا جائزہ لے رہی ہے۔

حاصل پور میں گندم کے کاشتکار اپنی فصل سرکاری اداروں کو مقررہ نرخوں پر بیچنے کیلئے بھوک ہڑتال کئے بیٹھے ہیں۔ کسان بورڈ پاکستان احتجاجی تحریک کا منصوبہ بنا رہا ہے۔ بھوک کے ستائے ہوئے عوام زندگی سے مجبور ہوتے جا رہے ہیں اور پاکستان اور پنجاب کی حکومتوں کا دعویٰ ہے کہ وہ اچھی حکمرانی کے اصولوں پر عمل پیرا ہیں اور جمہوری حکومت عوامی بھلائی کے اقدامات کر رہی ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: کشور مصطفیٰ

DW.COM