1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں گندم کی قیمت بہت زیادہ ہے، ورلڈ فوڈ پروگرام

ورلڈ فوڈ پروگرام کے مطابق پاکستانی حکومت نے گندم کی قیمت بہت زیادہ رکھی ہوئی ہے جس کی وجہ سے بیشتر شہریوں کو اب بھی ضرورت کے مطابق غذا میسر نہیں۔

default

یہ بات پاکستان میں ورلڈ فوڈ پروگرام کے ڈائریکٹر Wolfgang Herbinger نے جنیوا میں ایک کانفرنس کے موقع پر بتائی۔ ان کے بقول اس حقیقت کے باوجود کے سیلاب سے متاثرہ میدانی علاقے تیزی سے بحالی کی جانب گامزن ہیں اور اچھی فصل ہونے کی توقعات ہیں لیکن پھر بھی عام شہری کو خوراک کے لالے پڑے ہوئے ہیں۔

ان کے مطابق، ’ فصل کا اندازہ بہت بُرا نہیں ہے، مگر خوراک کی دستیابی مشکل ہے کیونکہ قیمتیں بہت بلند ہیں، پاکستانی حکومت ملکی گندم کی سب سے بڑی خریدار ہے، وہی کھیت سے فصل خریدنے کی قیمت طے کرتی ہے اور منڈی میں اسی کی اجارہ داری ہے۔‘

Steigende Preise für Weizen, Pakistan

پاکستانی صوبہ پنجاب کا ایک کاشتکار

وولفگانگ کے مطابق 2009ء اور 2010ء میں گندم کی قیمتوں پر نظرثانی نہیں کی گئی اور صارفین کو مہنگائی کا سامنا رہا۔ ان کے بقول آج کل صارفین کو اس بنیادی ضرورت کے لیے تین سال قبل کے مقابلے میں دوگنی قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔

ادارے کے مطابق پاکستان کے جنوبی صوبے سندھ کے باسیوں میں خوراک کی کمی کی سطح 23 فیصد تک پہنچ چکی ہے، ’ یہ افریقہ کی سطح سے بھی بلند ہے، ہنگامی پیمانے کی سطح 15 فیصد ہے۔‘

Weizen für afghanische Flüchtlinge

ایک پاکستانی مزدور امدادی گندم کی بوریوں پر آرام کرتے ہوئے

ایک تازہ جائزے کے مطابق بعض سیلاب زدہ علاقوں میں 70 فیصد تک شہری قرض لے کر اپنا اور کنبے کا پیٹ پالنے پر مجبور ہیں۔ وولف گانگ نے واضح کیا کہ پاکستانی حکام کو قائل کرنے پر عالمی ادارہ برائے خوراک کو مشکل پیش آرہی ہے، ’ ہوسکتا ہے کہ ملک میں اناج کی بہتات ہو مگر لوگوں میں اسے خریدنے کی سکت نہیں، ہم وزارت خوراک کے ساتھ مل کر وزیر کو یہ باور کرانے کی کوشش کر رہے ہیں کہ اگر لوگ اسے خرید ہی نہیں سکتے تو اس کی وافر مقدار میں پیداوار کا کوئی فائد ہ نہیں ہے۔‘

انہوں نے پاکستانی حکومت کی زراعت سے متعلق پالیسی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا، ’کسان کو خوش کرنا اچھی بات ہے مگر اگر صارفین کو مشکلات کا سامنا ہے تو پھر پالیسی میں ضرور کوئی خرابی ہے۔‘

رپورٹ: شادی خان سیف

ادارت: عاطف بلوچ

DW.COM