1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

معاشرہ

پاکستان میں گندم کا بحران، کاشت کار پریشان

ایک ایسے وقت میں جب پاکستان کے پاس گندم کے وافر ذخائر موجود ہیں، گندم کی نئی فصل کی بہتر پیداوار نے مارکیٹ میں گندم کی قیمتوں کو کم کر دیا ہے۔

default

پاکستان بنیادی طور پر ایک زرعی ملک ہے

پاکستان میں گندم کا بحران جاری ہے اور اس مرتبہ یہ بحران گندم کی قلت کی وجہ سے نہیں بلکہ گندم کی زیادہ پیداوار کی وجہ سے پیدا ہوا ہے۔ حکومت معاشی اور سٹوریج کے مسائل کی وجہ سے گندم کی زیادہ مقدار خرید نہیں پا رہی۔

گندم کی خریداری کے لیے شروع کئے گئے آپریشن کےمکمل ہونے میں چند دن باقی رہ گئے ہیں لیکن ایگری فورم پاکستان کے چئیرمین ابراہیم مغل کے مطابق وفاقی ادارہ پاسکو اور صوبہِ پنجاب کا محکمہ خوراک دونوں اپنے ہی طے کئے ہوئے خریداری کے اہداف کو پورا کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکے ہیں۔ ان کے بقول ان اہداف کو حاصل کرنے کیلئے ان اداروں کو اگلے تین چار دنوں میں 17 لاکھ ٹن گندم خریدنا ہو گی جو کہ آسان بات نہیں ہے۔

ضلع اوکاڑہ کے ایک کاشتکار عامر حسین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ انہوں نے 14 ایکڑ رقبے پر گندم کاشت کی تھی ایک ایکڑ رقبے میں سے تقریباً 60 من گندم حاصل ہوئی ہے، اب حکومت ایک ایکڑ رقبے کیلئے کاشتکاروں کو صرف چار بیگ دیتی ہے جس کے ذریعے وہ صرف چند من گندم ہی حکومت کو بیچ سکتے ہیں۔ بعض کاشتکاروں کے بقول ان بوریوں کا حصول بھی رشوت کے بغیر ممکن نہیں ہے۔ عامر حسین نے مزید بتایا کہ اس صورتحال نے مڈل مین اور آڑھتیوں کی چاندی کر دی ہے، اور وہ بغیر کوئی رقم ادا کئے ادھار پر گندم اٹھا رہے ہیں۔

BdT Pakistan Lebensmittelausgabe in Lahore

پاکستان میں معاشی بدحالی کے باعث عام افراد کسمپرسی کا شکار ہیں

کسانوں کی طرف سے اپنی فصل اونے پونے داموں بیچنے کی وجہ سے مارکیٹ میں گندم کی قیمت حکومت کے مقرر کردہ نرخ یعنی 950 روپے فی من کے بجائے بعض علاقوں میں آٹھ سو روپے فی من تک گر چکی ہے۔ اہم بات یہ ہے کہ گندم کی قیمت میں ہونے والی اس کمی کا فائدہ عام لوگوں کو نہیں پہنچ رہا ہے۔

لاہور میں ایک کریانہ اسٹور کے مالک عبدالواحد نے بتایا کہ گندم یا میدے سے بنی ہوئی مصنوعات کی قیمتوں میں کوئی کمی نہیں ہوئی ہے البتہ بعض فلور ملوں نے آٹے کے تھیلوں کی قیمتوں میں معمولی کمی کا اعلان کیا ہے جو کہ صرف اگلے چند ہفتوں کے لئے ہی ہے۔

اسی طرح ہوٹلوں اور ریستورانوں میں ملنے والی روٹی کی قیمت میں بھی کوئی کمی دیکھنے میں نہیں آ رہی ہے۔ ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ پچھلے سالوں میں فلور مل مالکان ایک ہزار روپے فی من کے حساب سے گندم خرید کر بیس کلو گرام کا آٹے کا تھیلا چھ سو روپے میں دیتے رہے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس سال آٹھ سو یا آٹھ سو پچاس روپے فی من گندم خریدنے کے باوجود آٹے کے بیس کلو گرام کے تھیلے کی قیمت میں مناسب حد تک کمی کیوں نہیں کی گئی۔

پنجاب کے ڈائریکٹر فوڈ عرفان الٰہی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ یہ تاثر درست نہیں ہے کہ حکومت گندم کی خریداری کے عمل میں ’سلو گو‘ پالیسی اپنائے ہوئے ہے۔ ان کے بقول حکومت ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت مارکیٹ میں اپنی موجودگی زیادہ دیر کے لئے یقینی بنا رہی ہے تا کہ گندم کی قیمتیں مزید نیچے نہ گرا دی جائیں۔ ان کے بقول پنچاب حکومت اب تک انتیس لاکھ ٹن گندم خرید چکی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حکومت گندم ایکسپورٹ کرنا چاہتی ہے۔

عرفان الہیٰ نے یہ بھی بتایا کہ مکئی کی قیمتوں میں اضافے کی وجہ سے فیڈ مل مالکان نے بھی گندم کی خریداری شروع کر دی ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ گندم کی خریداری کا عمل شفاف طریقے سے چل رہا ہے۔

یاد رہے، پاکستان میں خوراک ، بیجائی اور لائو اسٹاک کی ضروریات کیلئے دو کروڑ بیس لاکھ ٹن گندم درکار ہوتی ہے جب کہ اس سال دو کروڑ چالیس لاکھ ٹن گندم پیدا ہوئی ہے۔ ملک کی شہری آبادیوں کی خوراک کی ضروریات پورا کرنے کیلئے تیس سےپنتیس لاکھ ٹن گندم درکار ہوتی ہے لیکن توقع کی جا رہی ہے کہ ان ضروریات کے مقابلے میں اس سال گندم کی خریداری کے اختتام پر حکومت کے پاس تقریباً 80لاکھ ٹن گندم موجود ہو گی۔

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: شامل شمس