1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں گمشدہ افراد کے معاملے پر امریکی تشویش

امریکا کی جانب سے پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں ہزاروں لاپتہ سیاسی علیحدگی پسندوں کو غیر قانونی طور پرنظربند رکھے جانے کی رپورٹوں پر تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔

default

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کے مطابق یہ بات گزشتہ ماہ محکمہ خارجہ کی جانب سے کانگریس کو بھیجی جانےوالی ایک رپورٹ میں کی گئی ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اوباما انتظامیہ پاکستان میں حقوق انسانی کی تنظیموں کے ان دعووں پر تشویش میں مبتلا ہے کہ جن میں پاکستانی خفیہ ایجینسیوں کو بلوچستان میں گزشتہ دس برسوں کے دوران علیحدگی پسندوں اور بلوچ قوم پرستوں کی ہونے والی گمشدگیوں کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ اخبار کے مطابق ان گمشدہ افراد میں گوریلا جنگجوؤں کے علاوہ عام شہری بھی شامل ہیں۔

اخبار کے مطابق محکمہ خارجہ کی اس رپورٹ میں اس خدشے پر بھی تشویش کا اظہارکیا گیا ہے کہ پاکستانی فوج طالبان باغیوں کو گرفتار کرکے مقدمہ دائر کرنے کے بجائے انہیں ہلاک کر دیتی ہے۔

Kalenderblatt New York Times

امریکی اخبار نیو یارک ٹائمز کو محکمہ خارجہ کی اس نان کلاسیفائڈ رپورٹ کی نقل مہیا کی گئی تھی

اخبار کا کہنا ہے کہ امریکی محکمہ خارجہ نے اس رپورٹ میں طالبان کے خلاف جاری جنگ میں اپنے حلیف ملک پاکستان پر زور دیا ہے کہ وہ ان تمام معاملات پر توجہ دے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے، " پاکستان میں سکیورٹی فورسز کے ہاتھوں بڑے پیمانے پر انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں ہو رہی ہیں۔ حکومت پاکستان ملک میں انسانی حقوق کے حوالے سے معاملات کو سدھارنے میں اب تک کامیابی حاصل نہیں کر سکی ہےاور اس کو اِس حوالے سے کئی چیلینجز کا بھی سامنا ہے۔"

نیویارک ٹائمزکی رپورٹ میں یہ دعویٰ بھی کیا گیا ہےکہ پاکستانی خفیہ ایجنسیوں کے حکام، انسانی حقوق کی تنظیموں پر الزام عائد کرتے ہیں کہ وہ حکومتی حراست میں لئے گئے افراد کی تعداد بڑھا چڑھا کر پیش کر رہی ہیں۔

اس سے قبل ماہ ستمبر کے آخر میں انٹرنیٹ پر جاری کی گئی اس ویڈیو کے بارے میں بھی امریکہ پاکستان سے جواب طلب کر چکا ہے جس میں دکھایا گیا ہے کہ پاکستانی فوجی لباس میں ملبوس افراد، آنکھوں پر پٹیاں اور ہاتھ پاؤں بندھے افراد کو فائرنگ کر کے ہلاک کر رہے ہیں۔ بعد میں پاکستانی حکومت نےاس ویڈیو کی تحقیقات کا حکم بھی جاری کیا تھا۔

رپورٹ: عنبرین فاطمہ

ادارت: افسر اعوان

DW.COM