1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان میں کھیلوں کے میدان پھر سے آباد ہونے لگے

پاکستان کی جانب سے بھارت کے ساتھ تجارتی تعلقات کو فروغ دینے کے فیصلے کے بعد امید کی جارہی ہے کہ ان تعلقات کی جھلک اب روایتی حریفوں کے درمیان کھیل کے میدان میں بھی دکھائی دے گی۔

default

ماضی میں تین مقبول کھیلوں کرکٹ، ہاکی اور ریسلنگ میں دونوں حریفوں کے درمیان اچھے مقابلے دیکھنے کو ملتے رہے ہیں۔ تاہم پچھلےکچھ عرصے کے دوران پاکستان میں طالبان اور القاعدہ کی شدت پسندانہ کارروائیوں کی وجہ سے بھارتی ٹیموں نے پاکستان کا رخ کرنا چھوڑ دیا ہے۔ اس کے علاوہ 2008ء میں ممبئی میں ہونے والے حملوں کا ذمہ داربھی پاکستان کو قرار دیتے ہوئے بھارت نے پاکستان کے ساتھ کھیلوں کے مختلف مقابلوں کےانعقاد کا سلسلہ منقطع کر رکھا تھا۔ ممبئی حملوں کے صرف تین ماہ بعد لاہور میں سری لنکن کرکٹ ٹیم پر ہونے والے حملے کی وجہ سے پاکستان میں اس مقبول کھیل کے بین الاقوامی مقابلوں کا انعقاد بھی ختم ہو کر رہ گیا۔

Indien Cricket WM 2011 Halbfinale Indien Pakistan

پاک بھارت کرکٹ میچ

گزشتہ ہفتے کے دوران بھارت کی بلائنڈ کرکٹ ٹیم اور ریسلنگ ٹیم کی پاکستان آمد دونوں ملکوں کے درمیان کھیلوں میں تعلقات کی بہتری کا واضح ثبوت ہے۔ اسی طرح کرکٹ اور ہاکی مقابلوں کے منتظمین بھی پرامید ہیں کہ ان دونوں مقبول کھیلوں کے جلد انعقاد کے لیے جاری مذاکرات کا خاطرخواہ نتیجہ برآمد ہو گا۔ پاکستان کرکٹ بورڈ کے نئے سربراہ زکاء اشرف نے بھارتی کرکٹ بورڈ کے حکام کے ساتھ دبئی میں ہونے والی ملاقات کوخوش آئند قرار دیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ وہ جلد ہی اس سلسلے میں بھارت کا دورہ بھی کریں گے۔ اسی طرح ہاکی کے میدان میں بھی دونوں ملکوں کی ٹیمیں عالمی معیار کی ہیں۔ تاہم 2006ء کے بعد کسی بھی بھارتی ہاکی ٹیم نے پاکستان کا دورہ نہیں کیا ہے۔ اس سلسلے میں پاکستان نے آئندہ برس جنوری یا فروری میں چارمقابلوں کی ایک سیریز کی تجویز پیش کی ہے۔ پاکستان ہاکی فیڈریشن کے چیف آصف باجوہ کا اس سلسلے میں کہنا ہے کہ بھارتی حکام اس تجویز کا جائزہ لے رہے ہیں۔

Flash-Galerie Sport Jahresrückblick 2010

پاک بھارت ہاکی مقابلہ

کھلیوں کے معروف نامہ نگار اعجاز چوہدری کہتے ہیں کہ پاکستان کے پنجاب ریجن میں رواں برس فروری کے بعد کوئی بڑابم دھماکہ یا دہشت گردانہ کارروائی نہیں ہوئی اور اسی پرامن ماحول کی وجہ سے کھیلوں کی رونقیں بحال ہونے کی امید ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ سری لنکن کرکٹ ٹیم پر حملے کے بعد لوگ پاکستان میں کھیلوں کے مختلف مقابلوں کے انعقاد کے حوالے سے تشویش میں مبتلا تھے لیکن اب حالات بہتری کی جانب گامزن ہیں۔

پاکستان کے دورے پر آئی ہوئی بھارتی بلائنڈ کرکٹ ٹیم کے کھلاڑی منوندر سنگھ پٹوال کا اس حوالے سے کہنا تھا کہ اگر وہ پاکستان میں آ کربلا کسی خوف کے کھیل سکتے ہیں تو بھارت کی قومی کرکٹ ٹیم کو بھی امن کی کوششوں کو فروغ دیتے ہوئے یہاں آکر کھیلنا چاہیے۔

رپورٹ: شاہد افراز خان

ادارت: عدنان اسحاق

DW.COM