1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں کٹر اسلام پسند اقتدار میں آ سکتے ہیں، جرمن ماہر

پاکستان کے حالات پر نظر رکھنے والی جرمن ماہر بریٹا پیٹرسین کے مطابق اقلیتی امور کے وفاقی وزیر شہباز بھٹی کا قتل اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی حکومت کو دارالحکومت اسلام آباد تک کی صورتحال پر بھی کوئی کنٹرول حاصل نہیں ہے۔

default

پاکستان میں جرمنی کی ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کی ملکی سطح پر نمائندگی کرنے والی Britta Petersen نے پنجاب کے دارالحکومت لاہور میں جرمن خبر رساں ادارے ڈی پی اے کے ساتھ ایک انٹرویو میں کہا کہ ایٹمی طاقت کے حامل پاکستان کی حکومت موجودہ حالات میں بہتری کے لیے بہت کچھ کر سکنے کی حالت میں نہیں ہے۔

ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کی پاکستان میں سربراہ کے مطابق شہباز بھٹی کے قتل سے یہ اشارے بھی ملتے ہیں کہ پاکستان میں ملکی سکیورٹی ڈھانچے کے اندر اور باہر کٹر اسلام پسند قوتیں خود کو زیادہ سے زیادہ مضبوط بنانے کی کوششوں میں ہیں۔ بریٹا پیٹرسین نے کہا کہ ان کی ذاتی رائے میں وسط مدتی بنیادوں پر یہ امکان اپنی جگہ موجود ہے کہ پاکستان میں اقتدار ان قوتوں کے ہاتھ میں آ جائے گا۔

Heinrich Böll Stiftung in Berlin

برلن میں ہائنرش بوئل فاؤنڈیشن کا صدر دفتر

اس جرمن خاتون ماہر کے بقول شہباز بھٹی کا قتل، جو کہ پاکستان میں توہین رسالت سے متعلق متنازعہ قانون پر تنقید کرنے والوں میں شامل تھے، اس جنوبی ایشیائی ملک میں نظر آنے والی تبدیلیوں کے لیے ڈرامائی نتائج کا حامل واقعہ ثابت ہو سکتا ہے۔ پیٹرسین کے مطابق ایک وفاقی وزیر کے اس قتل کے بعد اب اہم بات یہ ہو گی کہ مرکز میں حکمران مخلوط حکومت میں شامل بڑی جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کا رد عمل کیسا ہوتا ہے اور آیا یہ پارٹی خود کو فیصلہ کن سیاست سے اور بھی پیچھے کھینچ لیتی ہے۔

جرمنی میں ماحول پسندوں کی گرین پارٹی سے نظریاتی قربت رکھنے والی بوئل فاؤنڈیشن کی پاکستان میں سربراہ کے بقول ایسا کوئی بھی دعویٰ بڑا غیر یقینی ہو گا کہ پاکستان میں فوج اقتدار پر قبضہ کرنا چاہتی ہے۔ تاہم قابل ذکر بات یہ بھی ہو گی کہ آیا مستقبل قریب میں پاکستان میں طاقت کا کوئی ایسا خلا بھی دیکھنے میں آ سکتا ہے، جس کے نتیجے میں فوج صورت حال کے ہاتھوں مجبور ہو کر اقتدار پر قبضہ کرنے پر مجبور ہو جائے۔

Pakistan Minister für Minderheiten Shahbaz Bhatti

آنجہانی شہباز بھٹی

اس سلسلے میں اپنے انٹرویو میں بریٹا پیٹرسین نے یہ حوالہ بھی دیا کہ توہین رسالت کے اسی متنازعہ قانون کے پس منظر میں پاکستان میں قریب دو ماہ قبل سب سے زیادہ آبادی والے صوبے پنجاب کے گورنر سلمان تاثیر کو بھی ان کے اپنے ہی ایک محافظ نے قتل کر دیا تھا، جس کے بعد وزیر اعظم گیلانی کی حکومت نے یہ کہہ دیا تھا کہ وہ توہین رسالت سے متعلق متنازعہ قانون کو کسی ممکنہ ترمیم کے نقطہ نظر سے ہاتھ بھی نہیں لگائے گی۔

اس پر طالبان اور دیگر شدت پسند اسلامی قوتوں کو اتنی شہ ملی کہ اب نتیجہ شہباز بھٹی کے قتل کی صورت میں نکلا ہے۔ اس تناظر میں یہ بات اور بھی اہم ہو جاتی ہے کہ اب اسلام آباد میں پاکستان کی وفاقی حکومت کا اس متنازعہ قانون کے بارے میں آئندہ رویہ کیسا ہو گا۔

رپورٹ: مقبول ملک

ادارت: شادی خان سیف

DW.COM

ویب لنکس