1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان میں کوچنگ پھولوں کی سیج نہیں: وقار یونس

نئے پاکستانی کوچ اور ماضی کے معروف فاسٹ باؤلر وقار یونس کا کہنا ہے کہ پاکستان کرکٹ ٹیم کی کوچنگ آسان نہیں مگر وہ کسی معاملے کو اپنی انا کا مسئلہ بنائے بغیر ٹیم کو فتوحات کی راہ پر واپس لانے کی سرتوڑ کوششیں کریں گے۔

default

پاکستان کرکٹ ٹیم کے نئے کوچ وقار یونس

سڈنی سے نیشنل کرکٹ اکیڈمی لاہور منتقل ہونے کے بعد اپنی رہائش گا ہ پر ڈوئچے ویلے اردو سروس کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں وقار یونس کا کہنا تھا کہ تاریخ اس بات کی شاہد ہے کہ پاکستان میں کوچنگ پھولوں کی نہیں بلکہ کانٹوں کی سیج ہے تاہم کسی نے تو ملک کے لئے آگے ہی آنا تھا ۔

میں نے ہمت کرکے کوچنگ کا منصب سنبھالا ہے اور قوم کو مایوس نہیں کروں گا۔ انہوں نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں سے جو کچھ ہورہا تھا اسکے بعد لوگوں نے پاکستان میں ٹیلی ویژن پرمیچز دیکھنا چھوڑ دیے تھے۔ اب میری بھرپور کوشش ہو گی کہ ٹیم میں ڈسپلن اوراعتماد پیدا ہواوروہ دوبارہ جیتنا شروع کردے۔

وقاریونس جو ماضی میں پاکستان کی قیادت کے علاوہ دو بار باؤلنگ کوچ بھی رہ چکے ہیں کہا کہ ہر شکست پر کپتان، کوچ اورمینجمنٹ کی تبدیلی مسائل کا حل نہیں ۔

Kricket Waqar Younis

وقار یونس 21مارچ دوہزار چھ میں کولمبو میں دوران میچ شعیب ملک سے محو گفتگو

ہماری قوم جذباتی ہے اور وہ ہر بار ہارنے پر کہتی ہے سب کو نکال دو۔امید ہے کہ لوگ اب جذباتی ہوئے بغیر حالات کا ادراک کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ میں یہ بات اپنے لئے نہیں کہہ رہا کہ ہارنے پر مجھے نہ چھیڑا جائے بلکہ نئے کپتان شاہد آفریدی،ٹیم مینجر اور یہاں تک کہ کرکٹ بورڈ کے حکام کو بھی مستقل مزاجی کے ساتھ کام کرنے کا موقع اورمدت ملنی چاہے۔

نئےشخص کو نئی جگہ پر آکر چیزوں کو سمجھنے میں وقت لگتا ہے اور پاکستان کرکٹ میں بھی اصلاح احوال کے لئے وقت اورحوصلہ درکار ہوگا۔

دنیائے کرکٹ میں آج تک گریک چیپل ، جاوید میانداد، میلکم مارشل سمیت کوئی بھی عظیم کرکٹر عظیم کوچ نہیں بن سکامگر وقار اس تاثر کو غلط ثابت کرنے کے لئے پر عزم ہیں ۔

اس بابت سوال پرریورس سوئنگ باؤلنگ کو بام عروج پر لے جانے والے وقار یونس نے کہا کہ بڑے نام والاکھلاڑی بھی اچھا کوچ بن سکتا ہے ۔

کوچنگ میں مینجمنٹ کا کام ہے۔ اس میں کوچ کوکھلاڑی کی سطح پر آکر سوچنا اور اسکے لئے آسانیاں پیدا کرنا پڑتی ہیں۔ میں کسی چیزکواپنی انا کا مسئلہ نہیں بناؤں گا بلکہ میں اپنی انا کوآسٹریلیا ہی چھوڑ کرپاکستان آیا ہوں کیوں کہ کوچنگ میں کرکٹ سے بڑا کوئی نہیں ہوتا۔

وقاریونس کی نظریں اپریل، مئی میں ویسٹ انڈیز میں ہونے والے ٹونٹی20ورلڈکپ کے دفاع پر جمی ہیں مگر انکااصل ہدف اگلے سال برصغیر میں ہونے والا عالمی کپ کرکٹ ٹورنامنٹ ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بڑی ٹیموں کے خلاف ٹیسٹ میچز بھی کھیلنا ہیں۔ میں نے یوم پاکستان کے موقع پر ہوئے نمائشی میچوں میں انڈر19اور اے ٹیم کے کھلاڑیوں میں بہت ٹیلنٹ دیکھا ہے مگر اسے ڈسپلنڈ کرنے کی ضرورت ہے۔ عالمی کپ2011میرا بڑا اور اصل ہدف ہے اور امید ہے کہ اگلے چھ ماہ تک درست سمت میں پیش رفت شروع ہو جائے گی۔

30اپریل سے شروع ہونے والا ٹونٹی20عالمی کپ، وقار یونس کی پاکستان ٹیم کے ساتھ پہلی اسائنمنٹ ہو گی۔اس بارے میں وقار نےکہا کہ ویسٹ انڈیز میں ٹائٹل کے دفاع کا انحصار کھلاڑیوں کی فارم اور ٹیم ورک پر ہو گا۔

انہوں نےکہا کہ یہ آسان کام نہیں ،آئی سی سی ایونٹس میں کھلاڑیوں کی فارم کلیدی کردار ادا کرتی ہے ۔گز شتہ دو ٹی 20ورلڈ کپ مقابلوں میں پاکستانی ٹیم اچھی فارم میں تھی۔

اب بھی دعاگو ہوں ان دو ہفتوں میں ایسا ہی ہو کیونکہ آفریدی ،رزاق ،اکمل برادارن اور نئےکھلاڑی حماد اعظم کی موجودگی میں پاکستان اپنے اعزاز کی دفاع کی صلاحیت رکھتا ہے۔

پی سی بی کی جانب سے شاہد آفریدی کو پاکستانی ٹیم کا کپتان مقرر کےے جانے کے فیصلےکا خیر مقدم کرتے ہوے نئے پاکستانی کوچ نے کہا کہ مجھے اسکی بے پناہ خوشی ہوئی ہے کیونکہ میں نے خود بھی بورڈ سے آفریدی کو ہی کپتان بنانے کی سفار ش کی تھی۔ وہ مثبت سوچ رکھنے والا آل راؤنڈر ہے اور گز شتہ دو برس سے اپنے کیرئیر کی بہترین باؤلنگ کر رہا ہے۔ وقار کے مطابق آفریدی کی فیلڈ پر موجودگی ٹیم کو گرمائے رکھتی ہے جس کی مختصر دورانیے کی کرکٹ میں اشد ضرورت ہوتی ہے۔

وقار یونس نے ٹیسٹ ٹیم کے لئے موزوں کپتان کی عدم دستیابی پر کہا کہ ٹونٹی20عالمی کپ کے بعد اس معاملے پر تفصیلی بات ہو گی کہ پاکستان کو ہمیشہ کپتانی کی کیوں مصیبت رہتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ کسی کو بھی طویل عرصے کے لئے کپتان مقرر کرنا چاہے اور یہ مدت کم ازکم ایک سال تو ضرور ہو۔

رپورٹ : طارق سعید، لاہور

ادارت : عصمت جبیں

DW.COM