1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

کھیل

پاکستان میں کرکٹ کا ’’بخار‘‘

پاکستان میں جاری سیاسی و اقتصادی بحران اور دہشت گردی کی حالیہ وارداتوں کے باوجود ملک میں کرکٹ ورلڈ کپ کے حوالے بہت سی سرگرمیاں دیکھنے میں آرہی ہیں۔ کرکٹ کے شائقین میں کرکٹ کا بخار تیزی سے بڑھ رہا ہے۔

default

ملک کے دیگر شہروں کی طرح لاہور میں بھی بڑی سکرینوں کے ذریعے ورلڈ کپ کے میچز دکھانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ لاہور شہر کی مرکزی شاہراہ مال روڈ کے ریگل چوک میں ایک بڑی عمارت پر بھی ایک بہت بڑی ایل سی ڈی سکرین لگا کر عام شہریوں کو ورلڈ کپ کے میچز دکھانے کا اہتمام کیا گیا ہے۔

ہال روڈ پر واقع پنجاب میں الیکٹرونکس کی سب سے بڑی مارکیٹ میں انجمن تاجران کے صدر بابر محمود نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ ورلڈ کپ سے پہلے ٹیلی وژن سیٹوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنےمیں آرہا ہے۔ ان کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران زیادہ تر لوگ میچ ہی دیکھتے ہیں

IFA Funkausstellung Messe Berlin 2009 Vorbereitungen Unterhaltungselektronik

ورلڈ کپ سے پہلے ٹیلی وژن سیٹوں کی فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنےمیں آ رہا ہے

اور کاروباری سرگرمیاں زیادہ نہیں ہوتیں۔ اس لیے مارکیٹوں میں بھی کرکٹ فیور ہی دکھائی دیتا ہے۔ تمام بڑے ہوٹلوں کے علاوہ بعض مارکیٹوں میں بھی گاہکوں کی دلچسپی کے لیے میچز دکھانے کی سہولت فراہم کی جارہی ہے۔

مشروبات بنانے والی ایک ملٹی نیشنل کمپنی نے ’’کرکٹ کا جنون‘‘ کے نام سے ایک مہم شروع کر رکھی ہے۔ ممتاز جرمن کمپنی میٹرو کیش اینڈ کیری نے ورلڈ کپ کے حوالے سے آفیشل یونیفارم، ٹی شرٹس، بلے اور گیندوں سمیت بہت سی مصنوعات تیار کر کے اپنے سٹورز پر فروخت کے لیے پیش کی ہیں ۔ اس کمپنی کے ایک ڈائریکٹر پرویز اختر نے بتایا کہ لوگ ورلڈ کپ سے متعلقہ مصنوعات کو بڑی تعداد میں خرید رہے ہیں۔ کرکٹ کے حوالے سے مارکیٹ میں سی ڈیز کی فروخت میں بھی اضافہ دیکھنے میں آرہا ہے۔ پاکستانی ذرائع ابلاغ پر بھی ورلڈ کپ کی کوریج کے لیے خصوصی انتظامات کیے گئے ہیں۔

ادھر انٹر نیٹ پر فیس بک، ٹویٹر، ای میلز، ایس ایم ایس اور چیٹ رومز سمیت ہر جگہ ورلڈ کپ ہی زیر بحث ہے۔ طارق نامی ایک نوجوان نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس نے اپنے معالج سے اپنی ناک کا آپریشن چند روز مؤخر کرنے کی درخواست کی ہے کیونکہ مارچ کے شروع میں آپریشن کروانے سے اسے دفتر سے جو چھٹیاں آرام کے لیے ملیں گی، ان میں وہ کرکٹ میچز سے لطف اندوز ہو سکے گا۔

ہیڈ لائنز نامی ایک اشتہاری ادارے کے سربراہ نیل کرسٹی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ اس ورلڈ کپ نے مندے کی شکار اشتہاری صنعت کو نئی زندگی دی ہے۔ اب ملک میں ایڈورٹائزنگ کا عمل پھر سے تیز ہوتا جا رہا ہے۔

ان کے مطابق ورلڈ کپ کے دوران قاریئن اور ناظرین کی سب سے بڑی تعداد ذرائع ابلاغ کی طرف متوجہ ہوتی ہے اور یہ مارکیٹینگ کا اچھا موقعہ ہوتا ہے اور کاروباری ادارے اپنی مصنوعات کی تشہیر کے لیے اس موقعے سےخوب فائدہ اٹھاتے ہیں۔

یہ بات قابل ذکر ہے کہ اس سال ورلڈ کپ کی اشتہاری مہمات میں ’’ہم ہیں پاکستانی ہم تو جیتیں گے‘‘ جیسے سلوگنز نظر نہیں آرہے بلکہ حوصلہ بڑھانے والے نعرے استعمال کیے جا رہے ہیں۔

رپورٹ: تنویر شہزاد،لاہور

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM