1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

فن و ثقافت

پاکستان میں کتاب اور مطالعے کی ترویج کے لیے 'شہرِ کتاب‘

پاکستان میں نیشنل بک فاؤنڈیشن نے 'شہرِ کتاب‘ کے نام سے مطالعے اور کتب بینی کے فروغ کے لیے اسلام آباد، کراچی اور پشاور میں ایک نیا اور بامعنٰی علمی دریچہ متعارف کرا دیا ہے۔

وفاقی دارالحکومت اسلام آباد میں یہ شہرِ کتاب جی سیون مرکز کے علاقے میں کھولا گیا ہے، جس کا باقاعدہ افتتاح اتوار ستائیس مارچ کی سہ پہر منعقد ہونے والی ایک تقریب کے ساتھ ہوا۔ شہر کتاب کے افتتاح کے موقع پر نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ڈائریکٹر انعام الحق جاوید نے اپنے خطاب میں کہا کہ شہر کتاب کی طرز پر پورے ملک میں بک فاؤنڈیشن کے دیگر پروگرام بھی جاری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ شہر کتاب درحقیقت ایک علمی و ادبی hub کا نام ہے، جہاں فیملیز اور بچوں کو کتابوں کی ورائٹی، اسٹیشنری اور دیگر مصنوعات مناسب قیمتوں پر ایک ہی چھت کے نیچے دستیاب ہوں گی۔

ڈاکٹر انعام الحق جاوید کے مطابق اسلام آباد کے بعد کراچی میں ایک سو بک اسٹالز پر مشتمل وسیع وعریض شہر کتاب کی تکمیل کا کام بھی جاری ہے، جہاں کتاب سرائے اور کتاب کیفے کا قیام بھی عمل میں لایا جا رہا ہے۔ اس کے علاوہ ہر سال یوم کتاب کے موقع پر بائیس اپریل کو کتاب میلے کا انعقاد بھی این بی ایف کا ایک منفرد اعزاز ہے۔

اس شہر کتاب کی افتتاحی تقریب کے مہمان خصوصی پاکستانی وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر برائے قومی تاریخ اور ادبی میراث عرفان صدیقی تھے۔ انہوں نے اپنے خطاب میں کہا کہ حکومت اردو کی ترویج کے لیے پوری کوشیشں کر رہی ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ پاکستانی نوکر شاہی کے ہاں اردو کی قبولیت کا معاملہ کچھ مشکل ہے۔ ’’پوری قوم کو اردو کی طرف لے کر آنا ایک مشکل کام ہے، جو قومیں اپنی زبان کے ساتھ لگاؤ رکھتی ہیں وہ کشادہ ہوتی جاتی ہیں۔ لیکن ہماری ایلیٹ کلاس ایسا نہیں چاہتی۔‘‘

عرفان صدیقی نے مزید کہا کہ ہر وہ شخص جو کتاب دوست ہو گا، وہ اپنی نوعیت میں منفرد ہو گا، چاہے وہ کسی بھی پیشے سے منسلک ہو۔ اگر وہ ڈاکٹر ہے تو باقی ڈاکٹروں میں اپنے صاحب علم و ادب ہونے کے سبب منفرد ہو گا۔ انہوں نے کہا کہ کتاب دراصل ایک خزانہ ہے گھراور دفتر کتابوں کے بغیر بے رونق ہیں چاہے آپ ان میں کیسے ہی قیمتی ڈیکوریشن پیس کیون نہ بھر دیں۔ ''کتابیں روحانیت اور کیفیت پیدا کرتی ہیں۔ کتابیں پڑھیں اور روحوں کو آسودہ کریں۔ کتاب کی ترویج ایک مقدس مشن ہے۔ ہمیں اس میں سوسائٹی کی طرف سے مدد کی بھی ضرورت ہے۔‘‘

شرکاء سے خطاب کرتے ہوئے وزیر اعظم نواز شریف کے مشیر نے کہا، ’’میں یہ بالکل نہیں کہوں گا کہ کتاب پڑھنے کا شوق ختم ہو گیا ہے۔ کیونکہ سال میں تین سو پینسٹھ دن ہوتے ہیں اور ڈاکٹر انعام تین سو ساٹھ، پینسٹھ کتابیں چھاپتے ہیں اور وہ بک بھی رہی ہیں۔ اس کا مطلب ہے کہ لوگ کتابیں پڑھ رہے ہیں۔‘‘

نیشنل بک فاؤنڈیشن کے مطابق کتاب دوستی کے سفر میں اس ادارے نے اپنے مقاصد کے حصول کے لیے ہر طبقہ فکر کے شائقین کتب کی اس کی پسند کی کتابوں تک رسائی کو ممکن بنانے کا تہیہ کیا ہے۔ اس کے لیے ریڈرز اسکیم اور کئی دیگر منفرد منصوبوں پر کام جاری ہے۔

پاکستانی دارالحکومت میں شہر کتاب کی اس افتتاحی تقریب میں کتاب دوست افراد کی بڑی تعداد نے حصہ لیا۔ ہر عمر کے افراد کتابوں کی خریداری میں مصروف نظر آئے۔ انہی میں سے ایک 80 سالہ محمد ثاقب نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ کتاب آج کی سب سے اہم ضرورت ہے نئی نسل کمپیوٹر اور موبائل فون کی افادیت سے تو آگاہ ہے لیکن کتاب کی اہمیت اس پر واضح کرنا ہو گی ورنہ ہم عالمی سطح پر بہت پیچھے رہ جائیں گے۔

اس موقع پر قائد اعظم یونیورسٹی اسلام آباد کی ایک طالبہ ماہم شیرازی نے ڈوئچے ویلے کو بتایا، ’’ہمارے ملک کا ہر شہر 'شہرِ کتاب‘ ہونا چاہیے تاکہ ہم باقی ماندہ دنیا کا مقابلہ کر سکیں۔ کتاب اور قلم کو دوست بنا کر ہی ہم کامیاب قومی اور انفرادی زندگی گزار سکتے ہیں۔‘‘

اسلام آباد کے ’شہرِ کتاب‘ میں نیشنل بک فاؤنڈیشن، مسٹر بکس، جہانگیر بکس، کتاب گھر، ادارہ علم وعرفان، الفیصل پبلشر، بک فائیڈر، اولڈ بک کارنر، بک مین، ریڈرز پوائنٹ، رابعہ بک ہاؤس، علمی بک وَیلی اور کئی دیگر پبلشرز نے اپنے مستقل بک اسٹال کھولے ہیں۔

ملتے جلتے مندرجات