1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں کانگو وائرس سے بچاؤ کی مہم

عيدالاضحیٰ کی آمد سے پہلے پاکستان بھر میں کانگو وائرس کے پھیلنے کے پیش نظر حفاظتی اقدامات شروع کر دیے گئے ہیں۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے چند مقامات پر کانگو وائرس کے کیس سامنے آئے ہیں۔

ملک کے مختلف حصوں سے کانگو وائرس میں مبتلا افراد کی نشاندہی کے بعد طبی ماہرین نے عوام کو قربانی کے لئے جانوروں کی خریداری میں محتاط رہنے کا مشورہ دیا ہے۔ پنجاب، سندھ اور بلوچستان کے کچھ مقامات میں کانگو وائرس کی موجودگی کے بعد ملک بھر میں اس وائرس کے خاتمے کے لئے ایک طرف تو جانوروں پر سپرے کرنے کا عمل شروع کیا گیا ہے اور دوسری طرف عوام کے آگاہی کے لیے ابلاغ عامہ کا سہارا بھی لیا جارہا ہے، کیوں کہ احتیاطی تدابیر سے اس وائرس سے پھیلنے والے کانگو بخار سے مکمل نجات اور ممنکنہ ہلاکتوں میں کمی لائی جاسکتی ہے۔

ڈسٹرک ہیڈ کوارٹر ہسپتال صوابی کے ڈاکٹر توصیف الدین کہتے ہیں کہ کانگو بخار ایک وائرس سے پھیلنے والی بیماری ہے۔ یہ وائرس مویشیوں کے جسموں پر چپکے رہنے والے کیڑے یا چیچڑی (جوں کی شکل سے ملتا ہوا، قدرے لمبا کیڑا ، جسے ہائی لومہ بھی کہتے ہیں) میں پایا جاتا ہے۔ یہ وائرس ایک جانور سے دوسرے جانور اور جانوروں سے انسانوں تک منتقل ہوتا رہتا ہے۔ یہ وائرس متاثرہ مویشی یا انسان کے خون یا رطوبت سے بھی پھیل سکتا ہے۔ ان کے مطابق، ''اگر یہ ہائی لومہ کسی انسان کو کاٹ لے تو وہ انسان فوری طور پر کانگو بخار میں مبتلا ہوجاتا ہے، جوکہ ایک خطرناک بیماری ہے۔‘‘

خیبرپختونخوا حکومت نے کانگو وائرس سے نمٹنے کے لیے صوبے بھر میں 130 چیک پوسٹیں قائم کردی ہیں، جہاں پر تعینات 529 اہلکار مویشیوں کی منڈیوں اور باڑوں میں جا کر سپرے کر رہے ہیں تاکہ اس بیماری کی روک تھام کی جا سکے۔

محکمہ لائیوسٹاک خیبر پختون خوا کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر شیر محمد کا ڈی ڈبلیو سے بات چیت کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صوبے کی تمام مویشی منڈیوں میں جانوروں کی نگرانی کی جارہی ہے اور کانگو وائرس کے خاتمے کے لئے جانوروں پر مفت سپرے کیا جا رہا ہے۔ ان کا مزید کہنا تھا کہ اگرچہ تاحال خیبرپختون خوا میں کانگو کا کوئی کیس سامنے نہیں آیا تاہم ملک بھر کی طرح صوبائی حکومت نے بھی اس بیماری کے خلاف ابتدا ہی سے حفاظتی اقدامات شروع کر دیے ہیں تاکہ لوگوں کو اس مرض سے بچایا جاسکے۔ وہ کہتے ہیں، ’’عید الاضحیٰ کے لیے پہاڑی علاقوں سے آنے والے مویشیوں کی خاص طور پر نگرانی کی جارہی ہے کیونکہ ان کی وجہ سے دوسرے جانوروں میں کانگو وائرس کی منتقلی کے زیادہ امکانات ہوتے ہیں۔‘‘

محکمہ امور حیوانات کے ایک اور نمائندے ڈاکٹر ریاض کہتے ہیں کہ مویشیوں کی منڈیوں میں بیوپاریوں اور گاہکوں کو زیادہ احتیاط سے کام لینا چاہیے کیونکہ یہ وہ جگہ ہے جہاں کانگو وائرس آسانی کے ساتھ نقل و حرکت کر سکتا ہے۔

ڈاکٹر ریاض کہتے ہیں کہ ویٹرنری شعبہ سے تعلق رکھنے والے، مویشی پالنے والے، خرید و فروخت میں شامل اور مذبح خانوں میں کام کرنے والے افراد کو ترجیحی بنیادوں پر احتیاطی تدابیر پر عمل کرنا چاہیے۔ ان کا کہنا ہے، ''ننگے ہاتھ سے چیچڑی کو ہاتھ نہ لگایا جائے، بچوں کو جانوروں کی منڈی میں لے جانے سے گریزکیا جائے اور منڈی جاتے وقت ہلکے رنگ کے کپڑے پہنے جائیں تاکہ کپڑوں پر رینگتی چیچڑی نظر آسکے۔‘‘

ڈاکٹر توصیف الدین کانگو بخار کی علامات کے حوالے سے بتاتے ہیں کہ اس بیماری میں مریض بخار، سر درد، منہ میں چھالے بننا، پیٹ میں دائیں طرف بالائی حصے میں تکلیف اور بھوک کے خاتمہ کی شکایت کرتا ہے۔ ڈینگی اور کانگو وائرس کی علامات تقریبا ایک جیسی ہیں لیکن مریض کی ہسٹری سے اس اصل بیماری کا پتہ چلایا جاسکتا ہے جبکہ احتیاط ہی اس بیماری کا واحد علاج ہے۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں کوئٹہ میں مزید ایک خاتون کی کانگو وائرس سے ہلاکت کی وجہ سے رواں سال کانگو وائرس سے ہلاک ہونے والوں کی تعداد دس سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ملک کے زیادہ تر علاقوں میں کانگو کے ٹیسٹ کی سہولت نہ ہونے کی وجہ سے اکثر مریضوں میں اس کی تشخیص ہی نہیں ہو پاتی۔