1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

’پاکستان میں کابینہ کے ارکان کی تعداد میں کمی‘

اسلام آباد حکومت نے اخراجات کم کرنے کے لیے وفاقی کابینہ میں وزراء کی تعداد کم کرنے کا فیصلہ کیا ہے، جو حکمران جماعت پاکستان پیپلز پارٹی کی کور کمیٹی کے اجلاس کے ایک دِن بعد سامنے آیا۔

default

وزیر قانون بابر اعوان نے ہفتہ کو اس فیصلے کا اعلان کیا۔ وہ عدالتی کمیشن کے اجلاس کے بعد اسلام آباد میں سپریم کورٹ کے باہر صحافیوں سے بات چیت کر رہے تھے۔

پاکستانی ذرائع ابلاغ کے مطابق اسلام آباد میں وزیراعظم ہاؤس اور ایوانِ صدر نے بھی اس کی تصدیق کر دی ہے۔ تاہم انہوں نے قبل ازیں کابینہ کی تحلیل کے بارے میں سامنے آنے والی خبروں کی تردید کی ہے۔

Pakistan Politik Koalition

گیلانی ایم کیو ایم کو دوبارہ حکمران اتحاد میں شامل کرنے میں کامیاب ہوئے ہیں

خیال رہے کہ حکومت کی جانب سے ابھی تک یہ فیصلہ سامنے نہیں آیا کہ کونسے وزراء کو وزارتیں چھوڑنا ہوں گی۔ دوسری جانب پاکستانی میڈیا میں یہ خبریں بھی آ رہی ہیں کہ نئی کابینہ پیر تک سامنے آ جائے گی۔

نئی کابینہ کے ارکان کی اصل تعداد ابھی تک واضح نہیں ہے، اور مختلف حلقے مختلف اعدادوشمار بتا رہے ہیں۔ قومی اسمبلی میں اپوزیشن رہنما چودھری نثار علی خان کا کہنا ہے کہ یہ تعداد ایک سو سے زائد ہو سکتی ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ اس اعلان کے بعد کابینہ کے ارکان میں کھلبلی مچ گئی ہے، جن میں سے بیشتر نئی کابینہ کی فہرست کے بارے میں جاننے کی کوششوں میں لگے ہیں۔ پاکستان کے انگریزی روزنامہ ڈان کے مطابق پیپلز پارٹی کے ارکانِ کابینہ نے اپنی نوکریاں بچانے کے لیے وسیع تر مہم شروع کر رکھی ہے جبکہ بعض ایسے بھی ہیں، جو نئی کابینہ میں شمولیت کے لیے سرگرم دکھائی دے رہے ہیں۔

اٹھارہویں ترمیم کے مطابق کابینہ کی ارکان کی تعداد پارلیمنٹ کی 442 نشستوں کے 11 فیصد تک مقرر کی جا چکی ہے۔ آئین کے مطابق حکومت پر لازم ہے کہ رواں برس جون تک اس ترمیم کو نافذ کرے۔

خیال رہے کہ کابینہ میں ارکان کی تعداد جے یو آئی ایف اور ایم کیو ایم کے وزراء کی جانب سے استعفوں کے بعد پہلے ہی کم ہو گئی تھی۔ ابھی گزشتہ دِنوں وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت اس وقت گرتے گرتے بچی، جب حکمران اتحاد میں شامل سب سے بڑی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے حکومت سے علیٰحدگی اخیتار کر لی تھی۔

ایم کیو ایم نے اپنے اس اقدام کی وجہ بدعنوانی اور مہنگائی پر قابو پانے میں حکومت کی ناکامی کو قرار دیا تھا۔ تاہم یوسف رضا گیلانی ایم کیو ایم کو حکومتی اتحاد میں پھر سے شامل کرنے میں کامیاب ہو گئے تھے۔

رپورٹ: ندیم گِل

ادارت: عاطف توقیر

DW.COM

ویب لنکس