1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ڈی ڈبلیو نیوز چینل کی باقاعدہ لانچنگ

پاکستان میں جرمن انگریزی نیوز چینل ڈوئچے ویلے کی نئے انداز سے نشریات کا باقاعدہ آغاز کردیا ہے۔ اس حوالے سے پاکستانی دارالحکومت اسلام آباد کے ایک مقامی ہوٹل میں افتتاحی تقریب کا انعقاد کیا گیا۔

اس تقریب میں ڈوئچے ویلے (ڈی ڈبلیو) کے نمائندوں کے ساتھ ساتھ اسلام آباد میں جرمن سفارت خانے کے اہلکاروں، پاکستانی میڈیا کے کی اہم شخصیات، سرکاری افسران اور کیبل آپریٹرز کے نمائندوں نے شرکت کی۔ اس تقریب کی خاص بات ڈی ڈبلیو کے پروگرام ’مقامی ہیروز‘ کے تحت منتخب کی گئی انسانی حقوق کی کارکن ثمر من اللہ خان کی شرکت تھی۔

تقریب میں میزبانی کے فرائض پاکستانی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے مشہور کمپئیر توثیق حیدر نے سر انجام دیے۔ اس موقع پر جرمنی کے شہر بون سے آئی ہوئی ڈی ڈبلیو کے شعبہ ڈسٹری بیوشن کی سربراہ ڈوروتھی اُلرِش نے شرکاء کو خوش آمدید کہتے ہوئے ڈی ڈبلیو انگلش نیوز چینل کو نئے انداز سے متعارف کرایا ۔ان کا کہنا تھا کہ بین الاقوامی براڈ کاسٹر ہونے کے ناطے ڈی ڈبلیو کی ہمیشہ یہ کوشش رہی ہے کہ وہ اپنے ناظرین کو خوب سے خوب تر معلومات اور تفریح مہیا کرے۔

DW - TV Start in Pakistan

اس تقریب میں ڈوئچے ویلے میں جرمن سفارت خانے کے اہلکاروں، پاکستانی میڈیا کے کی اہم شخصیات، سرکاری افسران اور کیبل آپریٹرز کے نمائندوں نے شرکت کی

ڈوروتھی نے کہا کہ ڈی ڈبلیو کے ہفتے میں سات دن اور چوبیس گھنٹے نشریات والے انگلش نیوز چینل کا مقصد اپنے ناظرین کو بین الاقوامی اور علاقائی امور پر بہتر اور جامع انداز سے خبریں اور معلومات فراہم کرنا ہے۔ انہوں مزید کہا، ’’نیا ڈی ڈبلیو ہمارے جنوبی ایشیاء میں ناظرین کے لیے دنیا کی ایک نئی کھڑکی کھولتا ہے۔‘‘ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈبلیو کی نئے انداز سے منفرد پیشکش مقامی کاروباری اور رائے عامہ ہموار کرنے والی قیادت کے لیے خاص طور پر اہم ہے اور ڈی ڈبلیو کی خبریں اب انہیں بین الاقوامی شہ سرخیوں کی اندرونی کہانی اور علاقائی امور کے پس پردہ تفصیلات مہیا کریں گی۔

پاکستان میں ڈی ڈبلیو کے نمائندے ندیم واحد صدیقی نے کہا کہ ڈی ڈبلیو نے ہمیشہ اپنے ناظرین اور سامعین کے فیڈ بیک کا بہت خیال رکھا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسی فیڈ بیک اور دنیا کے اس حصے میں ناظرین کی ضروریات کو مد نظر رکھتے ہوئے ڈی ڈبلیو نے اپنا نیا فارمیٹ تیار کیا ہے۔

ندیم واحد صدیقی نے کہا، ’’دراصل یہ ایک گلدستے کی طرح ہے، اس میں دنیا بھر میں ہر لمحے ہونے والی تبدیلیوں کی تازہ ترین خبروں کے ساتھ ساتھ مختلف موضوعات پر ٹاک شوز، دستاویزی فلمیں، صحت، تعلیم، سیروسیاحت، ثقافت اور کھیل سمیت بہت سی چیزیں دیکھنے والوں کی آنکھوں کو جلا بخشیں گی۔‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ ڈی ڈبلیو کا نیا انگلش چینل پاکستان کے ہر بڑے کیبل نیٹ ورک اور انٹرنیٹ کے علاوہ موبائل پر بھی دستیاب ہے۔

اس موقع پر ڈوروتھی اُلرِش نے ڈی ڈبلیو کے پروگرام ’مقامی ہیروز‘ کا مختصر تعارف بھی پیش کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ اس پروگرام کا مقصد لوگوں کو یہ بتانا ہے کہ وہ دنیا میں بڑے بڑے ہیروز کے تذکرے تو سنتے ہی ہیں لیکن اگر وہ دیکھیں تو ان کے آس پاس بھی بہت سے ہیروز موجود ہوتے ہیں، جو اپنی مثبت سوچ اور عمل کے ذریعے لوگوں کی زندگیوں کو تبدیل کر رہے ہیں۔

ڈوروتھی نے کہا کہ آج کی تقریب میں بھی ایسی ہی ایک مقامی خاتون ہیرو ثمرمن اللہ خان کو مدعو کیا گیا ہے۔ انسانی حقوق کی کارکن ثمر من اللہ کی دو ہزار تین میں ’کم عمری کی شادیوں‘ کے موضوع پر بنائی گئی دستاویزی فلم کو بہت پذیرائی حاصل ہوئی تھی۔ اس دستاویزی فلم سے پاکستان میں کم عمری میں بچیوں کی شادی کے نقصانات سے متعلق آگاہی حاصل کرنے میں بھی مدد ملی۔

شرکاء کی تالیوں کی گونج میں ثمر من اللہ اسٹیج پر آئیں اور انہوں نے ڈوروتھی اُلرِش سے ڈی ڈبلیو کی لوکل ہیروز کی خصوصی شیلڈ حاصل کی۔ ثمرمن اللہ نے ڈی ڈبلیو کا شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا، ’’یہ انسانوں کی بہتری کے لیے کوششیں کرنے والوں کے کام کی نشاندہی اور حوصلہ افزائی کے لیے ایک بہترین کاوش ہے‘‘۔ انہوں نے کہا کہ ڈی ڈبلیو کا یہ پروگرام مختلف معاشروں میں بسنے والے انسانوں کے لیے بہتری کا باعث بنے گا۔

DW - TV Start in Pakistan

تقریب میں میزبانی کے فرائض پاکستانی ٹیلی ویژن اور ریڈیو کے مشہور کمپئیر توثیق حیدر نے سر انجام دیے

جرمن سفارتخانے کے اہلکاروں کا کہنا تھا کہ جرمن حکومت انسانی فلاح وبہبود اور خوشحال معاشروں کے قیام کے لیے اپنے حصے کا کام جاری رکھے گا۔ اس تقریب کے لیے مقامی ہوٹل کے ایک ہال کو خاص طور پر سجایا گیا تھا، جہاں ڈی ڈبلیو کے مخلتف پروگراموں سے آگاہی کے لیے ایک بڑے سائز کی اسکرین بھی نصب کی گئی تھی۔

اس کے ساتھ ساتھ تقریب میں شرکت کرنے والوں کے لیے ’تصویر کھنچوائے مخلتف انداز سے‘ کے نام سے ایک کارنر بھی مختص کیا گیا تھا، جہاں پر شرکاء کسی فٹ بالر، ڈٰی ڈبلیو کے پرستار یا ایک راک سٹار کی تین چوائسزز میں سے کسی ایک روپ میں تصویر بنوا سکتے تھے۔

ملتے جلتے مندرجات