1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں ڈینگی بخار کے مریضوں میں اضافہ، سہولیات ناکافی

پاکستان میں ڈینگی مچھر کے وائرس سے متاثرہ مریضوں کی تعداد میں مسلسل اضافہ ہو رہا ہے۔ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق صرف صوبہ پنجاب میں سترہ سو سے زیادہ افراد ڈینگی وائرس سے متاثر ہو چکے ہیں۔

default

صرف لاہور شہر میں ڈینگی بخار سے متاثرہ افراد کی تعداد پندرہ سو سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

پچھلے تین دنوں میں اس وائرس سے متاثرہ دو افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔ لاہور میں ڈینگی وائرس وبا کی صورت اختیار کر چکا ہے، خاص طور پر شہر کے متمول علاقے بری طرح سے اس کی لپیٹ میں ہیں۔ سرکاری ہسپتالوں میں ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کا رش ہے جبکہ نجی ہسپتالوں میں بھی ڈینگی سے متاثرہ مریضوں کے لیئے بستر نہیں مل پا رہے ہیں۔

Arzt in Krankenhaus mit Patienten, Karachi, Pakistan

پاکستان میں ڈینگی وائرس کے خلاف صحت کی سہولیات ناکافی ہیں

ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے جناح ہسپتال کے چیف ایگزیکیٹو پروفیسرڈاکٹر جاوید اکرم نے بتایا کہ ڈینگی بخار سے متاثرہ مریضوں کے حوالے سے حکومتی اعدادوشمار قابل اعتبار نہیں ہیں کیونکہ ان کی بنیاد سرکاری لیبارٹریوں کے نتائج کو بنایا گیا ہے۔ ان کے بقول پرائیوٹ ہسپتالوں میں جانے والے اور غیر سرکاری لیبارٹریوں سے ٹیسٹ کرانے والے بہت سے لوگ ان اعدادوشمار میں شامل نہیں ہیں۔

ایک نجی ہسپتال کے باہر کھڑے لاہور کے ایک شہری محمد متین نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ لاہور کے ہر گلی کوچے میں ڈینگی کے مریض موجود ہیں۔ ان کے بقول ہسپتالوں میں ڈینگی کے علاج کے لیے مناسب اور کافی سہولتیں میسر نہیں ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ وہ شہر کے چھ نجی ہسپتالوں میں بیڈ نہ مل سکنے کی وجہ سے ڈینگی کے شکار اپنے بیٹے کو اسلام آباد لے کر جا رہے ہیں۔

GMF Klick! Fotowettbewerb 2011, Childrens Play

گندے ندی نالے اور جوہڑ مچھروں کا مسکن ہوتے ہیں

ادھر محکمہ صحت پنجاب کے ڈائریکٹر جنرل ڈاکٹر محمد اسلم نے ڈوئچے ویلے کو بتایا کہ پنجاب حکومت ڈینگی کی روک تھام کے لیے کافی کوششیں کر رہی ہے۔ ہسپتالوں میں خصوصی وارڈز بنائے گئے ہیں، تمام علاقوں میں سپرے کروایا جا رہا ہے اور لوگوں کو آگاہی بھی فراہم کی جا رہی ہے۔ ان کے بقول ڈینگی بخار سے ہلاکتوں کی شرح نصف فی صد سے بھی کم ہے جبکہ شوگر، بلڈ پریشر اور ٹی بی جیسے امراض میں مرنے والوں کی شرح 10فی صد کے قریب ہے۔

یاد رہے کہ ڈینگی بخار ایک خاص قسم کے مادہ مچھر کے کاٹنے سے پیدا ہوتا ہے اور اس کے حتمی علاج کے لیئے کوئی خاص ویکسینیشن دستیاب نہیں ہے۔ آج کل پاکستان میں موسم معتدل اور ابر آلود ہے جو کہ اس مچھر کی پرورش کے لیئے بہت سازگار ہے۔

ڈینگی کے حوالے سے تحقیق کرنے والے ڈاکٹر جاوید اکرم کہتے ہیں کہ ڈینگی وائرس نے لاہور میں سپرے کی جانے والی ادویات کے خلاف قوت مدافعت پیدا کر لی ہے۔ ان کے بقول ڈینگی ہر دو سال بعد زیادہ شدت سے حملہ آور ہوتا ہے اور اگلے سال اس کا حملہ بہت شدید ہو سکتا ہے۔

رپورٹ: تنویر شہزاد

ادارت: حماد کیانی

DW.COM