پاکستان میں ڈرون حملے کون روکے گا؟ | حالات حاضرہ | DW | 10.06.2013
  1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ڈرون حملے کون روکے گا؟

نو منتخب پاکستانی وزیر اعظم میاں محمد نواز شریف کو بہت سے چیلنجز درپیش ہیں لیکن ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے لیے سب سے بڑا چیلنج امریکا کو اس بات پر قائل کرنا ہے کہ وہ پاکستان میں ڈرون حملے بند کردے۔

پاکستان میں 11 مئی کو ہونے والے عام انتخابات میں کامیاب ہونےو الے نواز شریف نے تیسری بار وزیراعظم منتخب ہوکر ایک ریکارڈ قائم کیا ہے۔

Islamabad Pakistan neugewählter Präsident Sharif 05.06.2013

تیسری مرتبہ منتخب ہونے والے نواز شریف نے قوم سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ امریکی ڈرون حملے بند کرائیں گے

اپنی انتخابی مہم کے دوران انہوں نے اپنے ووٹرز سے یہ وعدہ کیا تھا کہ وہ کامیابی کی صورت میں امریکی ڈرون حملے بند کروا دیں گے۔ ایسا ہی وعدہ ان کے مد مقابل پاکستان تحریک انصاف کے سربراہ عمران خان نے بھی کیا تھا۔

اب امریکا مخالف نعرے لگانے والی یہ دنوں جماعتیں پاکستان مسلم لیگ اور پاکستان تحریک انصاف برسراقتدار آچکی ہیں۔ مسلم لیگ مرکز میں حکمران ہے تو ’خان‘ کی جماعت تحریک انصاف صوبہ خیبر پختونخوا میں حکومت میں ہے۔

اب ووٹرز ان دونوں سے یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ وہ اپنے وعدے پر عمل کرتے ہوئے ڈرون حملے بند کروانے میں اپنا کرادار ادا کریں۔

سات جون کو نواز شریف کے حلف اٹھانے کے ایک روز بعد ہی امریکا کی جانب سے کئے گئے ایک ڈرون حملے میں صوبہ خیبر پختونخوا میں سات افراد مارے گئے۔

Barack Obama Rede

اوباما انتظامیہ کا یہ کہنا ہے کہ ڈرون پاکستان میں موجود طالبان کے خلاف امریکا کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔

اس حملے سے دو روز قبل بھی ایک ڈرون حملے میں طالبان کے ایک انتہائی اہم رہنما ولی الرحمان کو ایک ڈرون حملے میں ہلاک کیا گیا تھا۔

ولی الرحمان پر افغانستان میں ایک امریکی بیس پر حملہ کرکے کے سی آئی اے کے سات اہلکاروں کو ہلاک کرنے کا الزام تھا۔ نئے پاکستانی وزیر اعظم سفارت کاری کے ذریعے ڈرون حملے روکنے کی کوششوں کا آغاز کر چکے ہیں۔

دوسری طرف اوباما انتظامیہ کا یہ خیال ہے کہ ڈرون پاکستان میں موجود طالبان کے خلاف امریکا کا سب سے بڑا ہتھیار ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ امریکا میں صدر اوباما کے برسر اقتدار آنے کے بعد سن 2009 سے ڈرون حملوں کی شدت میں کافی اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کی ایک رپورٹ کے مطابق سن 2009ء میں پاکستان میں 45 ڈرون حملے کئے گئے۔ سن 2010 میں یہ تعداد بڑھ کر 101 ہوگئی جبکہ سن 2011 میں یہ تعداد پھر کم ہوکر 64 رہ گئی۔

Imran Khan PTI Pakistan

ڈرون حملوں کی دوسری بڑی مخالف جماعت ان حملوں سے متاثرہ صوبے میں برسر اقتدار ہے

انسانی حقوق کے عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ان ڈرون حملوں میں مرنے والوں میں عام افراد کی ایک بہت بڑی تعداد موجود ہے۔

ایک طرف پا کستان ڈرون حملوں کو اپنی قومی سالمیت اور خود مختاری کی خلاف ورزی سمجھتا ہے تو دوسری طرف امریکی انتظامیہ کا کہنا ہے کہ ان حملوں کے ذریعے القاعدہ اور طالبان کے بڑے رہنماؤں کو ہلاک کیا گیا ہے۔

واشنگٹن میں موجود ایک غیر سرکاری تنظیم ’نیو امریکا فاؤنڈیشن‘ کی جانب سے جاری کئے گئے اعداد و شمار کے مطابق گزشتہ نو برسوں میں پاکستان میں ہونے والے ڈرون حملوں میں اب تک تقریباﹰ 27 سو افراد ہلاک ہوئے ہیں جن میں سے اکثریت عام شہریوں کی ہے۔

s.shams/zb/ai