1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ڈرون حملے فی الحال معطل، امریکی اخبار

امریکی اخبار لاس اینجلس ٹائمز میں شائع ہونے والی ایک رپورٹ میں امریکی خفیہ ادارے سینٹرل انٹیلیجنس ایجنسی کے حوالے سے کہا گیا ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں عسکریت پسندوں کے خلاف ڈرون حملے فی الحال معطل کر دیے گئے ہیں۔

default

ان ڈرون حملوں کی معطلی کی وجہ پاکستان اور امریکہ کے درمیان تعلقات میں شدید کشیدگی بتائی گئی ہے۔ اخبار نے سابق اور موجودہ امریکی عہدیداروں کے حوالے سے تحریر کیا ہے کہ ڈرون حملوں کی معطلی کا فیصلہ دونوں ممالک کے درمیان اعتماد سازی کی کوششوں کا حصہ ہے۔

سی آئی اے عوامی سطح پر ان حملوں کی تصدیق یا تردید نہیں کرتی۔ پاکستانی حکومت اور عوام کی بڑی تعداد ڈرون حملوں کے خلاف آواز اٹھاتے آئے ہیں۔ پاکستانی حکومت کا خیال ہے کہ ایسے حملوں کے نتیجے میں ملک میں امریکہ مخالف جذبات میں اضافے کے ساتھ ساتھ انتہاپسندی میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔

Anti Terror Arbeit der USA Drohne NO FLASH

امریکی سی آئی اے ان حملوں کی باقاعدہ تصدیق یا تردید نہیں کرتی

گزشتہ ماہ پاک افغان سرحد پر پاکستانی فوجی چوکیوں پر نیٹو فضائی حملے میں 24 پاکستانی فوجیوں کی ہلاکت کے بعد پاکستان نے افغانستان میں نیٹو افواج کے لیے اپنی سرزمین سے رسد کی سپلائی بند کرنے اور شمسی ایئر بیس امریکہ سے واپس لینے کا اعلان کیا تھا۔ اس کے علاوہ پاکستان نے جرمن شہر بون میں افغانستان کے مستقبل کے حوالے سے ہونے والی کانفرنس میں شرکت سے بھی معذرت کر لی تھی۔ گزشتہ ماہ ہونے والے اس حملے کے بعد سے اب تک پاکستانی قبائلی علاقوں میں کوئی نیا ڈرون حملہ نہیں کیا گیا۔

ابھی حال ہی میں سامنے آنے والی نیٹو کی ایک تفتیشی رپورٹ میں اس حملے کی وجہ اطراف کی جانب سے کی گئی متعدد ’غلطیاں‘ بتائی گئی تھیں۔ امریکی محکمہ دفاع کی جانب سے ایک بیان میں کہا گیا کہ نیٹو اور امریکہ کو اس واقعے پر ’افسوس‘ ہے تاہم اس پر امریکہ معافی نہیں مانگے گا۔ پاکستان نے اس ہلاکت خیز واقعے پر امریکہ سے باقاعدہ معافی کا مطالبہ کر رکھا ہے۔

امریکی اخبار کے مطابق اوباما انتظامیہ اس وقت اس بحث میں الجھی ہوئی ہے کہ پاکستانی قبائلی علاقوں میں امریکی ڈرون حملوں کا مستقبل کیا ہو گا۔ ان حملوں کے نتیجے میں اب تک القاعدہ اور طالبان کے اہم کمانڈر ہلاک ہو چکے ہیں، تاہم عسکریت پسندوں کے ساتھ ساتھ عام شہریوں کی جانوں کا ضیاع بھی دیکھنے میں آیا ہے۔

رپورٹ: عاطف توقیر

ادارت: مقبول ملک

DW.COM