1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ

ڈاکٹرعافیہ کو مجرم قرار دیئے جانے پر پاکستان میں مختلف حلقوں کی جانب سے شدید احتجاج کیا جا رہا ہے۔ اسلام آباد میں ایک ریلی کے دوران شرکاء قوم کی بیٹی کو رہا کرو.، ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرو.“ کے نعرے لگا رہے تھے۔

default

ڈاکٹر عافیہ تمام الزامات کو مسترد کرتی آ رہی ہیں

امریکی عدالت کی جانب پاکستانی سائنسدان ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مجرم ٹہرائے جانے کے فیصلے پر ان کے اہلخانہ نے افسوس کا اظہار کرتے ہوئے اسے انصاف کے تقاضوں کے خلاف قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی بہن فوزیہ صدیقی نے جمعرات کے روز اپنی رہائشگاہ پر ذرائع ابلاغ سے بات کرتے ہوئے کہا” یہ فیصلہ غیر متوقع نہیں تھا یہ کھلی نا انصافی ہوئی ہے عافیہ بالکل بے قصور تھی، بے قصور ہے اور بے قصور رہے گی۔“

ڈاکٹر عافیہ صدیقی کی والدہ نے امریکہ کو تنقید کا نشانہ بنانے کے علاوہ پاکستانی حکومت پر بھی اپنی بیٹی کی رہائی کےلئے سنجیدہ کوششیں نہ کرنے کا الزام لگایا” جہاں تک موجودہ حکومت کا تعلق ہے اگر یہ مخلصانہ کوششیں کرتی تو آج عافیہ آپ کے درمیان ہوتی۔“

ادھر ملک کے مختلف شہروں کی طرح دارالحکومت میں جماعت اسلامی اور ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کے زیر اہتمام ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو مجرم قرار دیئے جانے کے امریکی عدالت کے فیصلے کے خلاف احتجاجی ریلی نکالی گئی۔”قوم کی بیٹی کی رہا کرو.... ، ڈاکٹر عافیہ کو رہا کرو....“

احتجاجی ریلی میں موجود ڈیفنس آف ہیومن رائٹس کی چیئرپرسن آمنہ مسعود جنجوعہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کا کوئی بھی شہری اس فیصلے سے مطمئن نہیں اور بقول ان کے پاکستانی حکومت امریکہ کو اپنے شہریوں کے جذبات سے آگاہ کرے:” ہمارا پرزور مطالبہ ہے ڈاکٹر عافیہ صدیقی کو امریکہ سے واپس لایا جائے کیونکہ وہ پاکستانی شہری ہیں اس لئے امریکہ کو کوئی حق نہیں ہے کہ وہاں اس پر مقدمہ چلائے اور اسے مجرم قرار دے ۔“

ڈاکٹر عافیہ کے حق میں مظاہرہ کرنے والے لاہور ہائیکورٹ کے اکثیر عباسی کے مطابق امریکی عدالت نے فیصلہ کرتے ہوئے عجلت سے کام لیا ہے” شک کا فائدہ ہمیشہ ملزم کو دیا جاتا ہے یہ ایک بین الاقوامی مسلمہ اصول ہے لیکن یہاں شک کا فائدہ ڈاکٹر عافیہ کو نہیں بلکہ استغاثہ کو دیا گیا اور انہیں مجرم قرار دیا گیا جو کہ انصاف کے مسلمہ اصولوں کے خلاف ہے۔“

ملک کی بعض سیاسی اور مذہبی جماعتیں حکومت پر زور دے رہی ہیں کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کےخلاف عدالتی کارروائی رکوانے کےلئے سفارتی کوششیں تیز کرے۔ دریں اثناءصدر آصف علی زرداری نے حکومت کو ہدایت کی ہے کہ وہ ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے خاندان کے ساتھ فوری رابطے کے علاوہ انہیں امریکہ میں ہر ممکن قانونی امداد مہیا کرنے کےلئے اقدامات کریں۔ صدارتی ترجمان فرحت اللہ بابر کے مطابق صدر نے اس امید کا اظہار بھی کیا ہے کہ امریکی عدالتی نظام کے مختلف مراحل سے گزرنے کے بعد ڈاکٹر عافیہ صدیقی کے کیس میں انصاف کیا جائے گا۔

رپورٹ: شکور رحیم

ادارت : عدنان اسحاق

DW.COM