1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں چینی کا بحران سنگین تر

پاکستان میں چینی کا بحران شدت اختیار کر گیا ہے۔ ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ چینی کی فی کلوگرام قیمت سو روپے سے بھی تجاوز کر گئی ہے۔ کچھ علاقوں میں چینی دستیاب ہی نہیں جبکہ بعض حصوں میں اس کی قیمت 125 روپے فی کلوتک ہے

default

پاکستان میں چینی کابحران: لوگوں قطاروں میں کھڑے ہیں

صرف پچھلے دس دنوں میں چینی کی فی کلوگرام قیمت میں 25 روپے کا اضافہ ہو چکا ہے۔ پاکستان ایگری فورم کے سربراہ ابراہیم مغل کہتے ہیں کہ بدقسمتی کی بات یہ ہے کہ پاکستانی عوام ایک ایسے وقت پر چینی کو ترس رہے ہیں، جب ملک میں ساڑھے پانچ لاکھ ٹن چینی موجود ہے۔

ان کے مطابق اس وقت ٹریڈنگ کارپوریشن آف پاکستان کے پاس تقریبا چار لاکھ ٹن، شوگر ملوں کے پاس ایک لاکھ ٹن اور شوگر ڈیلروں کے پاس پچاس ہزار ٹن چینی موجود ہے۔ یہ چینی ملک کی اگلے تین ماہ کی ضروریات کے لئے کافی ہے کیونکہ پاکستانی صارفین کی ایک ماہ کی چینی کی زیادہ سے زیادہ ضروریات ڈیڑھ لاکھ ٹن بنتی ہیں۔

اقتصادی تجزیہ نگار منصور احمد کہتے ہیں کہ بار بار کی یاد دہانیوں کے باوجود حکومت کی طرف سے بر وقت چینی درآمد نہ کئے جانے، TCP کی طرف سے چینی کے ذخائر ریلیز نہ کئے جانے اور ناجائز منافع خوری کے خواہشمند شوگر مل مالکان اور شوگر ڈیلروں کی ذخیرہ اندوزی کی وجہ سے ملک میں چینی کا بحران جاری ہے۔

Asif Ali Zardari

پاکستانی عوام صدر زرداری سے چینی کی قیمتوں میں کمی کا مطالبہ کر رہی ہے

ابراہیم مغل کے مطابق شوگر ملوں کی طرف سے کرشنگ سیزن کے آغاز میں دانستہ تاخیر سے نہ صرف صارفین مشکلات کا شکار ہو رہے ہیں بلکہ گندم کے کاشتکاروں کو بھی شدید پریشانی کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ ان کے مطابق حکومت گنے کا کرشنگ سیزن شروع کروا کے سپلائی اور ڈیمانڈ کی صورت حال بہتر بناتے ہوئے فوری طور پر چینی کا یہ بحران ختم کر سکتی ہے۔

پاکستان میں چینی کے زیادہ تر کارخانے بااثر لوگوں اور سیاستدانوں کی ملکیت ہیں۔ ان میں پاکستانی صدر آصف زرداری سے لے کر شریف برادران تک کئی سیاستدان بھی شامل ہیں۔ پاکستان میں عام تاثر یہ ہے کہ شوگر مل مافیا حکومتی پالیسیوں پر اثر انداز ہو کر صارفین کے لئے مشکلات پیدا کرتا رہتا ہے۔ لاہور شوگر ڈیلرز ایسوسی ایشن کے صدر اصغر بٹ کے مطابق اس کی ایک مثال یہ بھی ہے کہ آج تک چینی کی درآمد میں تاخیر کرنے والے سرکاری افسران کے خلاف کبھی کوئی مؤثر کارروائی نہیں ہو سکی۔

ادھر پاکستان کے وفاقی وزیر خوراک و زراعت نذر محمد گوندل نے عوام کو پریشان کر دینے والے چینی کے بحران پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’چینی کا استعمال ایک عیاشی ہے۔ اس لئے عوام کو چاہئے کہ اس کا استعمال ترک کر دیں۔‘‘

رپورٹ: تنویر شہزاد، لاہور

ادارت: عصمت جبیں

DW.COM

ویب لنکس