1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں چینی کارکن بم حملے میں زخمی

پاکستان میں ایک چینی کارکن اور ان کا ڈرائیور ایک بم حملے میں زخمی ہوگئے ہیں۔ حملے کی ذمہ داری ایک سندھی قوم پرست گروپ نے قبول کر لی ہے۔

Pakistan Karachi Terror-Anschlag auf Sicherheitsteam für Polio Impfung

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے ایک قوم پرست سندھی علیحدگی پسند گروپ کی جانب سے دستخط شدہ پمفلٹ بھی ملا ہے

صوبہ سندھ میں پولیس کے سربراہ اللہ ڈینوخواجہ نے خبر رساں ادارے روئٹرز کو بتایا کہ چینی کارکن اور ان کا پاکستانی ڈرائیور حملے میں معمولی زخمی ہوئے ہیں۔ پولیس نے مزید کہا کہ، '' بظاہر حملے کا نشانہ چینی شہری تھا، جو اپنے ڈرائیور اور سکیورٹی گارڈ کے ساتھ سفر کر رہا تھا''۔

رپورٹ کے مطابق یہ واقعہ پاکستان کے سب سے بڑے شہر کراچی کے ایک مضافاتی علاقے میں پیش آیا جہاں ایک کم شدت والے بم کے پھٹنے سے پاس سے گزرنے والی ایک مسافر وین کے شیشے بھی ٹوٹ گئے۔

پولیس کا کہنا ہے کہ جائے حادثہ سے ایک قوم پرست سندھی علیحدگی پسند گروپ کی جانب سے دستخط شدہ ایک پمفلٹ بھی ملا ہے۔ اِس پمفلٹ پر درج ہے کہ '' دنیا کی سب سے زیادہ لوٹ مار کرنے والی قوم کی نظریں اب سندھ پر جم گئی ہیں جو سندھ پر حملہ کر کے اس کے باشندوں کو غلام بنانا چاہتی ہے''۔

قوم پرست سندھی گروپ نے پمفلٹ میں بظاہر پاک چین اقتصادی راہداری کا حوالہ دیا ہے جس کا اعلان حکومتی سطح پر گزشتہ برس کیا گیا تھا تاہم یہ واضح نہیں کہ آیا حملے میں زخمی ہونے والے چینی ورکر اقتصادی راہداری منصوبے پر کام کر بھی رہا تھا۔

Karte China Pakistan geplanter Wirtschaftskorridor Gwadar - Kaschgar

سی پیک منصوبے میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے

چینی باشندے پر ہوئے اس بم حملے سے پاک چائنہ راہداری منصوبے پر پہلے سے موجود تحفظات میں اضافہ ہوسکتا ہے۔ سی پیک منصوبے میں 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جارہی ہے جواقتصادی ڈھانچے، توانائی اور ٹرانسپورٹ کے منصوبوں، ریلوے لائنوں اور نئی بندر گاہ کی تعمیر کی مد میں لگائے جائیں گے۔ جبکہ شمالی پاکستان میں چینی سرحد سے شروع ہونے والے اس کوریڈور کا ایک بڑا حصہ صوبے بلوچستان سے ہو کر گزرے گا۔

اقتصادی راہداری منصوبہ یا 'سی پیک' چین کے 'ایک خطہ ایک شاہراہ' کی اُس پالیسی کا حصہ ہے جس کا مقصد جنوب مغربی چین کو پاکستان کے راستے بحیرہ عرب سے منسلک کرتے ہوئے چینی مصنوعات کو غیر ملکی منڈیوں تک پہنچانا ہے۔ سی پیک کے ذریعے چینی حکومت مشرقِ وُسطیٰ، افریقہ اور یورپ تک آسان رسائی کی امید کر رہی ہے۔

DW.COM