1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں چھاتی کے سرطان میں مبتلا خواتین کی سالانہ تعداد نوے ہزار

طبی ماہرین کے مطابق پاکستان میں ہر سال چھاتی کے سرطان میں مبتلا خواتین کے لگ بھگ 90 ہزار کیس رپورٹ ہوتے ہیں جبکہ ہر نو میں سے ایک پاکستانی خاتون کے اس موذی مرض میں مبتلا ہونے کا امکان ہے۔

default

علاج معالجے کی بہتر سہولیات نہ ہونے کے باعث ان میں سے قریب 30 ہزار سے زائد خواتین لقمہ اجل بن جاتی ہیں جو ایشیائی ممالک میں سب سے زیادہ تعداد ہے۔ یہ مرض زیادہ تر پچاس سے ساٹھ سال کے درمیان عمر کی خواتین میں پایا جاتا تھا، لیکن اب کم عمر خواتین بھی اس بیماری میں بہت تیزی سے مبتلا ہو رہی ہیں۔

طبی ماہرین، اقوام متحدہ کے ادارہ برائے صحت، جناح پوسٹ گریجویٹ میڈیکل سینٹر کراچی، لیاقت نیشنل اسپتال اور سول اسپتال، کراچی کے نجی اسپتالوں اور کینسر کنٹرول پروگرام کی جانب سے جاری کیے جانے والے اعداد و شمار کے مطابق پاکستان میں ہر سال قریب ایک لاکھ پانچ ہزار افراد کینسر کے شکار ہو جاتے ہیں۔ یعنی ہر پانچ منٹ میں ایک، ایک گھنٹے میں بارہ اور چوبیس گھنٹوں میں ایک سو اٹھاسی افراد اس موذی مرض کے شکار ہو رہے ہیں۔

پاکستان میں خواتین اب بھی چھاتی کے کینسر کے حوالے سے گفتگو کرنے کے علاوہ طبی ماہرین کے پاس جانے سے گریزاں نظرآتی ہیں۔ 50 سالہ آمنہ بی بی کے مطابق چار برس قبل سینے میں تکلیف کے باعث وہ قریبی ہومیو ڈاکٹر کے پاس گئیں۔ فائدہ نہ ہونے پر کسی پڑوسی کے مشورے پر ڈاکٹر روفینا سومروسے رجوع کیا، مگراب لگتا ہے کہ بہت تاخیر ہوچکی ہے۔ ڈاکٹر روفینا سومرو کا کہنا ہے کہ آمنہ کو دو ماہ قبل کچھ ٹیسٹ لکھ کر دیے تھے مگر وہ اب بھی عطائی ڈاکٹروں کو مسیحا سمجھ کر ضروری ٹیسٹ کرانے سے گریزاں ہیں۔

Deutschland Freizeit Sport Joggerinnen bei Freiburg

طبی ماہرین کے مطابق اگر خواتین غذا کا خیال رکھیں اور ورزش کیلئے وقت نکالیں تو ان کے اس مرض میں مبتلا ہونے میں کمی آ سکتی ہے

چھاتی کے سرطان کی ماہر ڈاکٹر روفینا سومرو نے ڈوئچے ویلے سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ پہلے میڈیا پر اس بیماری سے متعلق گفتگو کو معیوب سمجھا جاتا تھا مگراب میڈیا کے ذریعے خواتین میں اس بیماری کے بارے میں آگاہی بڑھ رہی ہے۔

کینسر ریسرچ فاؤنڈیشن آف پاکستان کی تحقیق کے مطابق چھاتی کے کینسر کا سبب بہت سے دیگر عوامل کے علاوہ خواتین میں انتہائی تنگ زیر جاموں کا استعمال بھی ہے۔ اس ادارے کی بانی اور ورلڈ انسٹیوٹ آف ایکالوجی اینڈ کینسر ایشیا کی صدر ڈاکٹر خالدہ عثمانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین چاہے وہ پڑھی لکھی ہیں یا غیر تعلیم یافتہ، انہیں اپنی صحت کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں۔ طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ پی ایم ایس 20ویں صدی کی بیماری ہے اور اس کی بنیادی وجہ جدید معاشرے میں خواتین کے بدلتے ہوئے کردار کے سبب انہیں اپنی غذائی ضروریات کا ادراک نہ ہونا اور بڑھتا ہوا ذہنی بوجھ ہے۔ اگر خواتین غذا کا خیال رکھیں، ورزش کیلئے وقت نکالیں، ذہنی دباؤ سے نکلنے کا کوئی متبادل طریقہ تلاش کریں تو صرف 4 ماہ میں یہ کیفیت ختم ہو سکتی ہے جبکہ سال میں ایک بارمیموگرافی ٹیسٹ کرا کر بھی مرض سے بچا جاسکتا ہے۔

Burka Verbot in Frankreich

ورلڈ انسٹیوٹ آف ایکالوجی اینڈ کینسر ایشیا کی صدر ڈاکٹر خالدہ عثمانی کا کہنا ہے کہ پاکستان میں خواتین چاہے وہ پڑھی لکھی ہیں یا غیر تعلیم یافتہ، انہیں اپنی صحت کے بارے میں آگاہی حاصل نہیں

طبی ماہرین کا کہنا ہے کہ تنہائی نہ صرف بلڈ پریشر اور ڈپریشن کا باعث بنتی ہے بلکہ خواتین میں بریسٹ کینسر کو بھی جنم دیتی ہے۔ ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ تنہائی اور اکیلے پن کی شکار خواتین میں کینسر کی رسولیاں عام خواتین کی نسبت تین گُنا تیزی سے بنتی اور بڑھتی ہیں۔ ماہرین کے مطابق اپنوں سے دوری نہ صرف پریشانیوں میں اضافے کا باعث بنتی ہے بلکہ اس سے قوتِ مدافعت بھی متاثر ہوتی ہے۔ بریسٹ کینسر کی وجوہات میں ایک وجہ ہارمونز میں بے اعتدالی بھی ہے۔

ڈاکٹر خالدہ عثمانی کی تحقیق اور مشاہدے کے مطابق ان خواتین میں چھاتی کے کینسر کا خدشہ زیادہ ہوتا ہے جو کثیر الاولاد ہوتی ہیں جبکہ جن خواتین کے دو یا تین بچے ہوں ان میں کینسر کا مرض کافی کم دیکھا گیا ہے۔

ڈاکٹر خالدہ عثمانی کے بقول خواتین اپنی جسامت سے بہت کم سائز کے بریزیئر پہنتی ہیں جس سے ان کی چھاتیاں مسلسل دباؤ کا شکار رہتی ہیں اور اندر زخم بن جاتے ہیں جو کہ خطرناک بھی ہو سکتے ہیں۔ ڈاکٹر خالدہ عثمانی کے مطابق تنگ بریزیئر ہی نہیں بلکہ فوم، نائلون اور خاص طور پر کالے رنگ کی بریزیئر بھی چھاتی کے کینسر کا سبب بن سکتی ہے کیونکہ کالا رنگ سورج سے کچھ ایسی خطرناک شعاعیں جذب کرتا ہے جو انسانی جلد اور خاص طور پر چھاتی کی جلد کے لیے نقصان دہ ہوتی ہیں۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM