1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں پیٹرول کی قیمتوں میں ایک بار پھر اضافہ

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں نو اعشاریہ نو فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔ امسال جنوری میں حکومت میں شامل ایک اہم جماعت کی جانب سے اتحاد چھوڑنے پر قیمتوں میں اضافہ واپس لے لیا گیا تھا۔

default

اس اضافے کے بعد پیٹرول کی فی لیٹر قیمت 72.96 روپے سے بڑھ کر 80.19 روپے ہو گئی ہے۔ لائٹ ڈیزل کی قیمت چھ روپے ساٹھ پیسے کے اضافے کے بعد 73.21 روپے ہو گئی ہے۔

پاکستان میں پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں منگل کو کیا گیا یہ اضافہ دراصل تیل کی عالمی قیمتوں کے تناظر میں ہے تاہم اس سے حکومت کوعوام کے غم و غصے کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے جو مہنگائی کے باعث پہلے ہی پریشان ہیں۔

قبل ازیں جنوری میں حکومت میں شامل سیاسی جماعت متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) نے احتجاجاﹰ اتحاد چھوڑ دیا تھا اور اس کے نکات میں سے ایک پیٹرول کی قیمتوں میں اضافہ واپس لیا جانا بھی تھا۔ ایم کیو ایم کے اس اقدام نے وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی کی حکومت کو عدم استحکام کا شکار بنا دیا تھا، تاہم ان کی جانب سے مطالبات تسلیم کیے جانے پر ایم کیو ایم حکومتی اتحاد میں واپس لوٹ گئی تھی۔

ایم کیو ایم نے پیٹرولیم مصنوعات میں تازہ اضافے کی بھی مذمت کی ہے اور کہا ہے کہ حکومت نے تین دِن میں اس اضافے کا فیصلہ واپس نہیں لیا تو ان کی جماعت اپنے لائحہ عمل کا اعلان کرے گی۔

اس پارٹی نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے قیمتوں میں اضافے کا یہ فیصلہ عوام کے خلاف ہے۔ ایم کیو ایم کا موقف ہے کہ اس سے دیگر اشیائے ضرورت کی قیمتوں میں بھی اضافہ ہو گا اور غریب عوام متاثر ہوں گے۔

Syed Yousaf Raza Gilani

پاکستانی وزیر اعظم یوسف رضا گیلانی

پاکستان میں لاکھوں افراد غربت کی زندگی گزار رہے ہیں جبکہ حکومت مہنگائی پر قابو پانے میں لگی ہے۔ حکومت کو وسیع تر بجٹ خسارے کا بھی سامنا ہے۔

خبررساں ادارے روئٹرز نے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ عالمی مالیاتی ادارے آئی ایم ایف کی ٹیم اسلام آباد حکومت کی اقتصادی کارکردگی کا جائزہ لینے کے لیے منگل کو پاکستان پہنچ رہی ہے۔ آئی ایم ایف کا کہنا ہے کہ معاشی بحالی کے لیے پاکستان کو سخت اقتصادی اصلاحات متعارف کرانا ہوں گی۔

رپورٹ: ندیم گِل/خبررساں ادارے

ادارت: شامل شمس

DW.COM

ویب لنکس