1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں پولیو کے واقعات میں تشویشناک اضافہ

پاکستان میں پولیو کے واقعات میں ایک مرتبہ پھر تشویشناک اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے اور یکم اکتوبر تک ملک میں اپاہج کر دینے والے اس مرض میں مبتلا افراد کی مصدقہ تعداد ایک سو سے تجاوز کر چکی تھی۔

default

پاکستان میں پولیو کے مریضوں کی تعداد میں تیزی سے اضافے نے عالمی اداروں میں خطرے کی گھنٹی بجا دی ہے اور دنیا سے اس مرض کے مکمل خاتمے کی امیدیں بھی خاک میں ملتی جا رہی ہیں۔

دنیا کے ترقی یافتہ ملکوں میں 1970ء کے عشرے تک پولیو کا مکمل خاتمہ ہو چکا تھا اور اس کے کچھ سالوں بعد کئی ترقی پذیر ملکوں میں بھی اس مرض پر قابو پا لیا گیا۔ تاہم پاکستان دنیا کے ان چار ملکوں میں سرفہرست ہے، جہاں پولیو کا مرض اب بھی عام ہے۔ دیگر ملکوں میں افغانستان، نائیجیریا اور بھارت شامل ہیں۔

بھارت میں حالیہ سالوں میں اس مرض میں کمی کے سلسلے میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے اور گزشتہ سال وہاں پولیو کے صرف 44 واقعات کا پتا چلا۔

پاکستان میں گزشتہ دس سالوں کے دوران اس ضمن میں کافی کوششیں کی گئی ہیں اور بچوں کو پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے کی کافی مہمیں منظم کی گئی ہیں۔ سن 2005ء میں ملک میں پولیو کے نئے مریضوں کی تعداد کم ہو کر محض 28 رہ گئی تھی مگر سن 2008ء میں یہ بڑھ کر 117 تک پہنچ گئی۔ سن 2010ء کے پورے سال میں پولیو کے مریضوں کی تعداد 144 ریکارڈ کی گئی جبکہ رواں سال اب تک سو سے تجاوز کر چکی ہے جبکہ ابھی موسم سرما شروع ہونا باقی ہے، جس میں پولیو وائرس کے حملے میں اضافہ ہوتا ہے۔

Flash-Galerie Millenniumsziele

قبائلی علاقوں میں اس مرض کے پھیلنے کی اہم وجہ عسکریت پسندوں کے زیر اثر علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو آنے کی اجازت نہ دینا ہے

پاکستان کے پولیو سے زیادہ متاثرہ علاقوں میں وفاق کے زیر انتظام قبائلی علاقوں سمیت صوبہ خیبر پختونخواہ، بلوچستان اور حالیہ سیلاب کا شکار ہونے والا صوبہ سندھ ہیں۔ ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ سیلاب زدہ علاقوں میں حفظان صحت کے مناسب انتظامات نہ ہونے کے باعث اس مرض میں مبتلا ہونے کے خطرات میں اضافہ ہو رہا ہے۔  تاہم قبائلی علاقوں میں اس مرض کے پھیلنے کی اہم  وجہ عسکریت پسندوں کے زیر اثر علاقوں میں پولیو سے بچاؤ کے قطرے پلانے والی ٹیموں کو آنے کی اجازت نہ دینا ہے۔ قبائلی علاقوں میں ناخواندگی اور قدامت پسند نظریات کی وجہ سے بہت سے سازشی نظریات عام ہیں اور عسکریت پسند اپنے پراپیگنڈے میں یہ کہتے رہے ہیں کہ پولیو کے قطرے بچوں کو بانجھ بنانے کی سازش ہیں تاکہ مسلمانوں کی آبادی کم کی جا سکے۔

ایک اور تشویش ناک بات یہ ہے کہ چین کے مغربی صوبہ سنکیانگ میں گزشتہ دو ماہ کے دوران پولیو کے سات واقعات پیش آ چکے ہیں اور عالمی ادارہ صحت نے اس کا سبب پولیو وائرس ٹائپ 1 کو قرار دیا ہے جو پاکستان میں عام ہے۔ خیال ہے کہ پاکستان اور چین کے درمیان آمدورفت کے سلسلوں سے یہ وائرس چین میں بھی پہنچ گیا ہے۔

رپورٹ: حماد کیانی

ادارت: امتیاز احمد

DW.COM