1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

پاکستان میں پولیو کیسز میں باسٹھ فیصد کمی

انسدادِ پولیو کے عالمی دن کے موقع  پر پاکستان میں ’ نیشنل ہیلتھ سروسز ‘ کی وزارت کا کہنا ہے کہ رواں برس پولیو کیسز میں باسٹھ فیصد کمی واقع ہوئی ہے۔ تاہم اب بھی یہ وائرس پاکستان کے خلاف طاقتور دشمن کا کردار ادا کر رہا ہے۔

Impfungen gegen Kinderlähmung in Pakistan (picture-alliance/dpa)

وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی طاقتور ہے

پاکستان کی وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کی ویب سائٹ پر جاری پریس ریلیز کے مطابق پولیو کی روک تھام اور خاتمے کی مہم کی سربراہ  سینیٹر عائشہ رضا فاروق نے پولیو ورکرز کی تعریف کرتے ہوئے کہا کہ،’’ ہر طرح کے نامساعد حالات کے باوجود ملک کے ہر صوبے کے کونے کونے تک بچوں کو پولیو ویکسین کے قطرے پلانے والے اِن ورکرز کی محنت سے پاکستان ایک دن پولیو سے آزاد ہو جائےگا۔‘‘

تاہم وزارتِ نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق پاکستان میں پولیو وائرس اب بھی طاقتور ہے۔ ملک میں پولیو کے اس سال پندرہ مزید کیسز سامنے آئے ہیں جبکہ مختلف علاقوں کے پانی سے  پولیو وائرس مثبت نمونے بھی مل رہے ہیں۔

پولیو دنیا کے تین ممالک پاکستان، افغانستان اور نائجیریا میں پایا جاتا ہے۔

Pakistan Karachi Polio Impfung für Kinder (picture-alliance/dpa/S. Akber)

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کو سب سے زیادہ نقصان پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے پہنچا ہے

تیس برس قبل پولیو کے خاتمے کے لیے شروع کی جانے والی کوششیں تاہم ممکنہ طور پر اس عشرے کو تاریخ ساز بنا سکتی ہیں۔ سن 1988 میں عالمی ہیلتھ اسمبلی میں پولیو کے خاتمے کے عزم کے بعد سے اِس مرض کے خلاف عالمی سطح پر زبردست کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں۔ پاکستان کی وزارت برائے نیشنل ہیلتھ سروسز کے مطابق بین الاقوامی سطح پر پولیو کیسز کی تعداد میں نناوے فیصد کمی آ چکی ہے۔

 سن 1988 میں دنیا بھر میں پولیو سے متاثر افراد کی تعداد تین لاکھ پچاس ہزار تھی جو سن 2012 میں کم ہو کر صرف 223 رہ گئی ہے۔ پاکستان کا شمار دنیا کے اُن ممالک میں ہوتا ہے، جہاں ابھی تک پولیو کے واقعات سامنے آ رہے ہیں۔

پاکستان میں انسداد پولیو مہم کو سب سے زیادہ نقصان پولیو کے قطرے پلانے والی ٹیموں پر ہونے والے حملوں کی وجہ سے پہنچا ہے۔ پاکستان میں انسدادِ پولیو مہم ایک خطرناک مہم سمجھی جاتی ہے۔ مئی 2011ء میں القاعدہ کے سربراہ اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد پولیو ٹیموں کو ملک بھر میں تواتر سے نشانہ بنایا جانے لگا تھا۔ رواں برس ستمبر میں پاکستان کے صوبے خیبر پختونخوا میں موٹر سائیکل پر سوار مسلح افراد نے انسداد پولیو مہم کے ایک سینیئر اہلکار کو فائرنگ کر کے ہلاک کر دیا تھا۔

Pakistan Anschlag bei einer Polio-Impfstation in Quetta (DW/A. G. Kakar)

رواں سال جنوری میں کوئٹہ میں دہشت گردوں نے انسداد پولیو کے ایک مرکز کے باہر موجود سکیورٹی دستوں کو نشانہ بنایا تھا

 اس سے قبل رواں سال جنوری میں پاکستانی صوبہ بلوچستان کے دارالحکومت کوئٹہ میں دہشت گردوں نے انسداد پولیو کے ایک مرکز کے باہر موجود سکیورٹی دستوں کو نشانہ بنایا تھا۔ پاکستان میں پولیو کے خاتمے کی مہم شدت پسندوں کی جانب سے حملوں کے باعث شدید متاثر رہی ہے۔ عسکريت پسند پولیو ورکرز کو مغربی ممالک کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں یا دعوی کرتے ہيں کہ پولیو ویکسیسن بچوں کو بانجھ کر دیتی ہے۔

ویڈیو دیکھیے 01:38

پولیو کے خاتمے کی بین الاقومی کوشش

Audios and videos on the topic