1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

صحت

پاکستان میں پانی کی آلودگی کے سبب زہر آلود سبزیاں

پاکستان میں ہونے والی ایک حالیہ تحقیق میں انکشاف کیا گیا ہے کہ کاشت کاری کے لئے استعمال ہونے والے پانی میں زہریلے اثرات پائے گئے ہیں جس سے شہریوں کی زندگی کو شدید خطرات لاحق ہیں۔

default

وفاقی اردو یونیورسٹی کے شعبہ کیمیا کی ڈاکٹر کوثر یاسمین نے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں انکشاف کیا ہے کہ ملک میں سبزیوں کی کاشت کے لئے آلودہ پانی استعمال کیا جارہا ہے۔ سبزیوں کے تجزیہ کرنے سے پتا چلا کہ ان میں زہریلی دھاتوں کے اثرات موجود ہیں، جس سے شہریوں کے کئی موذی اَمراض میں مبتلا ہونے کا خدشہ ہے۔

ملک بھر میں صنعتی فضلہ کسی صفائی کے بغیر دریاؤں کے پانی میں شامل کر دیا جاتا ہے، جس سے دریاؤں کا پانی آلودہ ہورہا ہے۔ اس سے نہ صرف آبی حیات کو خطرہ ہے بلکہ فصلیں بھی متاثر ہورہی ہیں۔ سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونےوالے پانی کے نمونوں کے تجزیے سے پتہ چلا ہے کہ اس میں کیڈمیئم، کاپر، کرومیئم، آئرن زنک، لیڈ اور میگانیز سمیت دیگر زہریلی دھاتیں بڑی مقدار میں موجود ہیں۔

ان دھاتوں سے گردوں کے امراض، ہڈیوں کی کمزوری، سرطان، ہیضہ، اسہال، پیٹ کے امراض، وزن کی کمی اور ہائی بلڈ پریشر جیسے طبی مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جبکہ زنک اور لیڈ کی زائد مقدار سے دماغی امراض اور حمل کے ضائع ہونے جیسے واقعات میں اضافہ ہو رہا ہے جو ایک تشویشناک صورتحال ہے۔

Pakistan Dadu Büffel Überschwemmung Wasser

ملک بھر میں صنعتی فضلہ کسی صفائی کے بغیر دریاؤں کے پانی میں شامل ہو جاتا ہے اور یہی پانی فصلوں کے لیے استعمال کیا جاتا ہے

ڈاکٹر کوثر یاسمین نے اعداد وشمار کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا ہے کہ آلودہ غذا، تمباکو نوشی کے بعد سرطان کی دوسری بڑی وجہ بن رہی ہے۔ اور اگر صاف ستھری سبزیوں کا استعمال کیا جائے تو سرطان کے واقعات ایک تہائی کم ہوسکتے ہیں۔

سبزیوں کی کاشت میں استعمال ہونے والے پانی کے علاوہ گھروں میں فراہم کیا جانے والا بھی پانی بھی بڑی حد تک آلودہ ہے، اور یہ بھی کافی بیماریوں کا سبب بن رہا ہے۔ اس صورتحال نے بھی شہریوں کی زندگی کو داؤ پر لگا دیا ہے۔ پاکستان کے سب سے بڑے شہر اور صنعتی دارالحکومت کراچی میں یہ صورتحال تشویشناک حد تک بگڑ چکی ہے۔ شہر کے مختلف علاقوں سے پانی کے نمونے حاصل کرکے جب ان کا تجزیہ کیا گیا تو ان میں کئی دھاتیں عالمی ادارہ صحت کے مقررہ کردہ معیار سے زائد پائی گئیں۔

تجزیاتی رپورٹ سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پانی میں زہریلے مواد کی مقدار 2007ء میں تین اعشاریہ دو سات نو (پارٹ فی ملین) تھی جو 2008ء میں بڑھ کر تین اعشاریہ آٹھ نو صفر اور 2009ء میں پانچ اعشاریہ صفر نو صفر تک پہنچ گئی ۔

ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر فوری طور پر اس صورتحال کا نوٹس نہیں لیا تو مستقبل قریب میں صورتحال تشویشناک رخ اختیار کرسکتی ہے۔

رپورٹ: رفعت سعید، کراچی

ادارت: حماد کیانی

DW.COM