1. Inhalt
  2. Navigation
  3. Weitere Inhalte
  4. Metanavigation
  5. Suche
  6. Choose from 30 Languages

حالات حاضرہ

'پاکستان میں ٹیکسوں کے 600 ارب روپے کرپشن کی نظر'

پاکستان میں ٹیکسوں کے نظام میں پائی جانے والی خامیوں کی نشاندہی تو اکثر کی جاتی ہے تاہم اصلاحات شدہ جنرل سیلز ٹیکس کے نفاذ کے معاملے پر ملک میں ان خامیوں پر جاری بحث میں بڑے پیمانے پر کرپشن کا پہلو بھی سا منے آرہا ہے۔

default

قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے خزانہ کےایک اجلاس میں ارکان کو بتایا گیا کہ فیڈرل بیورو آف ریونیو میں کرپشن کے سبب سالانہ پانچ سے چھ سوارب روپے ٹیکسوں کی رقم ضائع ہو رہی ہے۔ اس کمیٹی کے ایک رکن اور مسلم لیگ نون کے سینیئر رہنما خواجہ آصف کے مطابق برطانوی ادارے ڈی ایف آئی ڈی کے ایک سروے کے مطابق ٹیکسوں کی ان رقوم کے ضیاع سے بچنے کے لیے ٹیکس چوری اور کرپشن کا راستہ روکنا ہوگا۔

Pakistan Finanzhilfe Finanzkrise Shaukat Tareen

پاکستان کے سابق وزیر خزانہ شوکت ترین: فائل فوٹو

خواجہ آصف کے مطابق عوام کو آر جی ایس ٹی کے چنگل میں پھنسانے کے بجائے محصولات کا نظام بہتر کرنا ہوگا، "ٹیکسوں کی معافی اورلا علمی بھی کرپشن ہی ہے۔ اس کا مطلب یہ نکلا کہ ہمارے موجودہ ٹیکس نظام میں ایک سو روپے میں سے65 روپےضائع ہو رہے ہیں۔ اس لئے کوئی بھی نیا ٹیکس لگائے بغیر مزید ریوینیو اکٹھا کرنے کی گنجائش موجود ہے۔ اس وقت آپ کہہ سکتے ہیں کہ فلڈ ٹیکس کا دو تہائی کرپشن کے باعث ضائع ہو رہا ہے۔"

Verkehr in Pakistan

پاکستان میں جنرل سیلز ٹیکس کا معاملہ زیر بحث ہے

معروف تجزیہ نگار ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق پاکستان میں ٹیکس نظام کی ایک اور سب سے بڑی خامی بالواسطہ ٹیکسز ہیں، "پاکستان میں جو ٹیکسوں کا جو نظام لاگو ہے اس میں بنیادی غلطی یہ ہے کہ 60 فیصد ٹیکسز جو ہیں وہ بالواسطہ ٹیکس کی مد میں اکٹھے کیے جاتے ہیں اور 40 فیصد براہ راست ٹیکسز ہیں۔ بالواسطہ ٹیکس سے مراد یہ ہے کہ جیسے جیسے آپ کی آمدن کم ہوتی جاتی ہے اس ٹیکس کا آپ پر بوجھ بڑھتا جاتا ہے۔ ٹیکس سسٹم یہ کر رہا ہے کہ پورے پاکستان کی حکومت چلانے کا خرچ پاکستان کے کم آمدن والے طبقے پر بڑھاتا جارہا ہے۔"

ایف بی آر کے ترجمان اسرار رؤف کے مطابق صرف کرپشن ہی مسئلہ نہیں بلکہ ٹیکسوں کی وصولی کے دائرہ کار میں اضافےکی بھی ضرورت ہے جس کے لیے متعدد اقدامات اٹھائے جا رہے ہیں، " آر جی ایس ٹی اسی چیز کو چیک کرنے کے لیے لایا جا رہا ہے کیونکہ ہمارے درمیان میں ہول سیلرز اور ڈسٹری بیوٹرز کی چین مِس ہے اگر اس مِسنگ کو ختم کردیا جائے تو پانچ چھ سو بلین کا ریونیو بڑھ جائے گا جب ریونیو بڑھے گا تو ٹیکس کی شرح نیچے آجائے گی۔"

اسرار رؤف کے مطابق گزشتہ 1328 ارب روپے کے ٹیکسز وصول کیے گئے اور اس سال یہ ہدف 1304 ارب روپے ہے۔

تجزیہ نگاروں کا خیال ہے کہ ٹیکسوں کی رقم کے ضیاع سے متعلق اعداد و شمار سامنے آنے کے بعد کہ حکومت کو مزید ٹیکس لگانے میں عوامی سطح پر بھی مزاحمت کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

رپورٹ: شکور حیم، اسلام آباد

ادارت: افسراعوان

DW.COM

ویب لنکس